کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جس کا کوئی بچہ یا اس کے علاوہ کوئی اور فوت نہ ہوا ہو
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَجْلِسٍ مَنْ بَنِي سَلَمَةَ فَقَالَ : " يَا بَنِي سَلَمَةَ ، مَا الرَّقُوبُ فِيكُمْ ؟ " قَالَ : الَّذِي لَا وَلَدَ لَهُ . قَالَ : " بَلْ هُوَ الَّذِي لَا فَرَطَ لَهُ " . قَالَ : " مَا الْمُعْدَمُ فِيكُمْ ؟ " . قَالُوا : الَّذِي لَا مَالَ لَهُ . قَالَ : " بَلْ هُوَ الَّذِي يَقْدَمُ وَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنوسلمہ کی ایک محفل کے پاس آ کر ٹھہر گئے آپ نے ارشاد فرمایا : اے بنوسلمہ تمہارے درمیان رقوب کسے کہا: جاتا ہے ایک شخص نے بتایا اس کو جس کا بچہ زندہ نہ رہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلکہ رقوب وہ ہوتی ہے کہ جس کا کوئی بچہ فوت نہ ہوا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے درمیان معدم کسے کہا: جاتا ہے لوگوں نے کہا: اس شخص کو جس کا مال نہ ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے ، جس نے آگے کچھ نہ بھیجا ہو ، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کے لئے کوئی بھلائی نہ ہو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَعُدُّونَ الرَّقُوبَ فِيكُمْ ؟ " قَالُوا : الَّذِي لَا وَلَدَ لَهُ . قَالَ : " بَلِ الَّذِي لَا فَرَطَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اپنے درمیان ” رقوب “ کسے شمار کرتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : اسے جس کی کوئی اولاد نہ ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں بلکہ رقوب وہ ہوتی ہے کہ جس کا کوئی بچہ فوت نہ ہوا ہو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ رَجُلٍ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَالَ : " تَدْرُونَ مَا الرَّقُوبُ ؟ " قَالُوا : الَّذِي لَا وَلَدَ لَهُ . فَقَالَ : الرَّقُوبُ كُلُّ الرَّقُوبِ ، الرَّقُوبُ كُلُّ الرُّقُوبِ ، الرَّقُوبُ كُلُّ الرُّقُوبِ الَّذِي لَهُ وَلَدٌ فَمَاتَ وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُنَّ شَيْئًا " ، قَالَ : " تَدْرُونَ مَا الصُّعْلُوكُ ؟ " قَالُوا : الَّذِي لَيْسَ لَهُ مَالٌ . قَالَ : " الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ ، الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ ، الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ الَّذِي لَهُ مَالٌ فَمَاتَ وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُ شَيْئًا " . قَالَ : ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا الصُّرَعَةُ ؟ " قَالُوا : الصَّرِيعُ . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ ، الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ ، الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ الرَّجُلُ الَّذِي يَغْضَبُ ; فَيَشْتَدُّ غَضَبُهُ ، وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ ، وَيَقْشَعِرُّ شَعْرُهُ ، فَيَصْرَعُهُ غَضَبُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو حِصْنَةَ - أَوِ ابْنُ حِصْنَةَ - قَالَ الْحُسَيْنِيُّ : مَجْهُولٌ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک صاحب ، جو اس وقت موجود تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟ رقوب سے مراد کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : وہ شخص جس کی کوئی اولاد نہ ہو ( یا جس کی اولاد زندہ نہ رہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ رقوب جو مکمل رقوب ہو وہ رقوب جو مکمل رقوب ہو وہ رقوب جو مکمل رقوب ہو وہ ایسا شخص ہے کہ جس کی اولاد ہوئی ہو ، اور اس کا ایسی حالت میں انتقال ہو جائے کہ اس کی اولاد میں سے کوئی بھی فوت نہ ہوا ہو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو صعلوک ( یعنی کنگال ) سے مراد کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : وہ شخص جس کے پاس مال نہ ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسا صعلوک جو مکمل صعلوک ہو ایسا صعلوک جو مکمل صعلوک ہو ایسا صعلوک جو مکمل صعلوک ہو اس سے مراد وہ شخص ہے ، جس کے پاس مال موجود ہو ، اور وہ ایسی حالت میں مر جائے کہ اس نے اس مال میں سے کچھ بھی آگے نہ بھیجا ہو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پچھاڑ دینا ( یا پہلوانی ) کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : پچھاڑ دینا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسا پچھاڑ دینا جو مکمل پچھاڑ دینا ہو ایسا پچھاڑ دینا جو مکمل پچھاڑ دینا ہو ایسا پچھاڑ دینا جو مکمل پچھاڑ دینا ہو یہ اس شخص کا ہے ، جو غصہ کرے اور اس کا غصہ شدید ہو جائے اور اس کا چہرہ سرخ ہو جائے اور اس کی جلد پھڑک رہی ہو ، اور پھر وہ اپنے غصے کو پچھاڑ دے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحصنہ ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ابن حصنہ ہے حسینی فرماتے ہیں یہ مجہول ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحصنہ ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ابن حصنہ ہے حسینی فرماتے ہیں یہ مجہول ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔