کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قضائے حاجت کے دوران کلام کرنے کی ممانعت
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَبْرَيْنِ يُعَذَّبَانِ ، فَقَالَ : " إِنَّهُمَا يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ ، كَانَ أَحَدُهَا لَا يَتَنَزَّهُ مِنَ الْبَوْلِ ، وَكَانَ الْآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ " . ¤ فَدَعَا بِجَرِيدَةٍ رَطْبَةٍ ، كَسَرَهَا ، فَوَضَعَ عَلَى هَذَا وَعَلَى هَذَا وَقَالَ : " لَعَلَّهُ يُخَفِّفُ عَنْهُمَا حَتَّى يَيْبَسَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الْوَكِيعِيَّ الْمِصْرِيَّ ، فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤ وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا فِي عَذَابِ الْقَبْرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا ، جنہیں ( یعنی جن میں مدفون افراد کو ) عذاب ہو رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے ، اور ان دونوں کو کسی بڑی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ہے ( یعنی وہ کوئی ایسا کام نہیں تھا ، جس سے بچنا مشکل ہوتا ) ان میں سے ایک پیشاب سے بچتا نہیں تھا ، اور دوسرا چغلی کیا جاتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، صرف امام طبرانی کے استاد محمد بن أحمد بن جعفر وکیعی مصری کا معاملہ مختلف ہے ، میں اُن سے واقف نہیں ہوں ۔ اس موضوع سے متعلق دیگر احادیث ، قبر کے عذاب سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1023
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ عِيسَى بْنِ يَزْدَادَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلْيَنْثُرْ ذَكَرَهُ ثَلَاثًا " . قَالَ زَمْعَةُ : " مَرَّةً ؛ فَإِنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ : " فَإِنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُ عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ يَزْدَادَ ، تُكُلِّمَ فِيهِ أَنَّهُ مَجْهُولٌ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
عیسی بن یزداد ، اپنے والد کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی شخص پیشاب کرے ، تو وہ اپنی شرمگاہ کو تین مرتبہ جھاڑ دے “ ۔ زمعہ کہتے ہیں : ایک مرتبہ کر لے ، یہ اُس کے لیے کفایت کر جائے گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : یہ اُس کے لئے کفایت کر جائے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن یزداد ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے کہ وہ مجہول ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1024
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِرَجُلٍ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ فِي النَّمِيمَةِ ، وَمَرَّ بِرَجُلٍ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ فِي الْبَوْلِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ ، ضَعَّفُوهُ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا حَاتِمٍ قَالَ : صَالِحٌ ، وَلَيْسَ بِالْمَتِينِ . وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : عَامَّةُ مَا رَوَاهُ تَابَعَهُ عَلَيْهِ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا ، جسے چغلی کرنے کی وجہ سے اس کی قبر میں عذاب دیا جا رہا تھا اور ایک شخص کے پاس سے ہوا جسے اس کی قبر میں پیشاب کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خلید بن دعلج ہے ، جسے محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے ، صرف امام ابوحاتم یہ کہتے ہیں : یہ صالح ہے لیکن متین نہیں ہے ، ابن عدی فرماتے ہیں : اس کی نقل کردہ زیادہ تر روایات کی متابعت دوسرے راویوں نے کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1025
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَامَّةُ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي الْبَوْلِ ، فَاسْتَنْزِهُوا مِنَ الْبَوْلِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ الْبَاقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” عام طور پر قبر کا عذاب ، پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے ، تو تم لوگ پیشاب سے بچو ! “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابویحیی قتات ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1026
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْشِي بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ إِذْ أَتَى عَلَى قَبْرَيْنِ ، فَقَالَ : " إِنَّ صَاحِبَيْ هَذَيْنِ الْقَبْرَيْنِ يُعَذَّبَانِ ، فَأْتِيَانِي بِجَرِيدَةٍ " . قَالَ أَبُو بَكْرَةَ : فَاسْتَبَقْتُ أَنَا وَصَاحِبِي فَأَتَيْتُهُ بِجَرِيدَةٍ ، فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ ، فَوَضَعَ فِي هَذَا الْقَبْرِ وَاحِدَةً ، وَفِي ذَا الْقَبْرِ وَاحِدَةً . قَالَ : " لَعَلَّهُ يُخَفِّفُ عَنْهُمَا مَا دَامَتَا رَطْبَتَيْنِ إِنَّهُمَا يُعَذِّبَانِ بِغَيْرِ كَبِيرٍ : الْغِيبَةُ ، وَالْبَوْلُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَحْمَدُ ، وَهَذَا لَفْظُ الطَّبَرَانِيِّ ، وَقَالَ أَحْمَدُ : " وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ ، وَبَلَى ، وَمَا يُعَذَّبَانِ إِلَّا فِي الْغِيبَةِ وَالْبَوْلِ " . وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ، اور ایک اور شخص کے درمیان چلتے ہوئے جا رہے تھے ، آپ دو قبروں کے پاس تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ان دونوں قبروں کے افراد کو عذاب ہو رہا ہے ، تم دونوں میرے پاس کوئی شاخ لے کر آؤ ! سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اور میرے ساتھی نے سبقت کرنے کی کوشش کی ، میں آپ کے پاس شاخ لے آیا ، تو آپ نے اُسے دو حصوں میں تقسیم کیا ، اور ایک حصہ ، ایک قبر پر رکھ دیا اور دوسرا ، دوسری قبر پر رکھ دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تک یہ دونوں ( شاخیں ) خشک نہیں ہوں گی ، ان دونوں افراد کے عذاب میں تخفیف رہے گی ، ان دونوں کو کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ( یعنی وہ کوئی ایسا گناہ نہیں ہے ، جس سے بچنا مشکل ہو ، وہ دو گناہ یہ ہیں : ) غیبت کرنا اور پیشاب ( کے چھینٹوں سے نہ بچنا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، یہ امام أحمد نے بھی نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ امام طبرانی کی نقل کردہ ہیں ، امام أحمد کے الفاظ یہ ہیں : ” ان دونوں کو کسی بڑے ( گناہ ) کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ، جی ہاں ! ان دونوں کو غیبت کرنے اور پیشاب ( کے چھینٹوں سے نہ بچنے ) کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1027
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنْ عُبَادَةَ قَالَ : سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْبَوْلِ ، فَقَالَ : " إِذَا مَسَّكُمْ شَيْءٌ فَاغْسِلُوهُ ; فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّ مِنْهُ عَذَابَ الْقَبْرِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَنُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیشاب کے بارے میں سوال کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب وہ تمہیں لگ جائے ، تو تم اُس جگہ کو دھو لو ! کیونکہ میرا یہ خیال ہے کہ اس کی وجہ سے قبر کا عذاب ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے جس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1028
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً، اس کا راوی یوسف بن خالد السمتي کذاب
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ . قَالَ : وَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ . قَالَ : فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ وَقَرَ ذَلِكَ فِي نَفْسِهِ ، فَجَلَسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ لِئَلَّا يَقَعَ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ ، فَلَمَّا مَرَّ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ إِذَا بِقَبْرَيْنِ قَدْ دَفَنُوا فِيهِمَا رَجُلَيْنِ . قَالَ : فَوَقَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَنْ دَفَنْتُمْ هَهُنَا الْيَوْمَ ؟ " قَالُوا : فُلَانٌ وَفُلَانٌ . قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : " أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَتَنَزَّهُ مِنَ الْبَوْلِ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ " ، فَأَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا ، ثُمَّ جَعَلَهَا عَلَى الْقَبْرَيْنِ فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَلِمَ فَعَلْتَ ؟ قَالَ : " لِيُخَفِّفَنَّ عَنْهُمَا " . قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، حَتَّى مَتَى هُمَا يُعَذَّبَانِ ؟ قَالَ : " غَيْبٌ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ " . قَالَ : " وَلَوْلَا تَمَزُّعُ قُلُوبِكُمْ وَتَزَيُّدُكُمْ فِي الْحَدِيثِ لَسَمِعْتُمْ مَا أَسْمَعُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ [ بْنِ عَلِيٍّ ] الْأَلْهَانِيُّ عَنِ الْقَاسِمِ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شدید گرم دن میں ، نبی اکرم ” بقیع غرقد “ کی طرف تشریف لے گئے ، راوی بیان کرتے ہیں : لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلنے لگے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قدموں کی آہٹ سنی ، تو آپ کو یہ چیز ناگوار گزری آپ تشریف فرما ہو گئے ، یہاں تک کہ لوگوں کو اپنے سے آگے گزرنے دیا ، تاکہ آپ کے من میں تکبر کے حوالے سے کچھ واقع نہ ہو ، جب آپ ” بقیع غرقد “ کے پاس سے گزرے ، تو وہاں دو قبریں موجود تھیں ، جن میں دو افراد کو دفن کیا گیا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ٹھہر گئے ، آپ نے دریافت کیا : یہاں تم نے آج کسے دفن کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : فلاں کو اور فلاں کو ، لوگوں نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان میں سے ایک پیشاب سے نہیں بچتا تھا ، اور دوسرا چغلی کیا کرتا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تر شاخ لی ، اُس کے دو حصے کیے ، اور وہ ان دونوں قبروں پر لگا دیے ، لوگوں نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تاکہ ان دونوں ( کے عذاب میں ) تخفیف رہے ، لوگوں نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! ان دونوں کو کب تک عذاب ہوتا رہے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ایک ایسا غیب ہے ، جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تمہارے دلوں میں خیالات کا تنوع اور تمہارا زیادہ بات چیت کرنا نہ ہوتا ، تو تم لوگ بھی وہ چیز سنتے ، جو میں سن رہا ہوں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے علی بن یزید بن علی الہانی نے قاسم سے نقل کیا ہے ، اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1029
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَبْرَيْنِ لِبَنِي النَّجَّارِ يُعَذَّبَانِ بِالنَّمِيمَةِ وَالْبَوْلِ ، فَأَخَذَ سَعَفَةً فَشَقَّهَا ، فَوَضَعَ عَلَى هَذَا الْقَبْرِ شِقًّا ، وَعَلَى هَذَا الْقَبْرِ شِقًّا ، وَقَالَ : " لَا يَزَالُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا دَامَتَا رَطْبَتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر بنو نجار ( سے تعلق رکھنے والے دو افراد کی ) دو قبروں کے پاس سے ہوا ، جنہیں چغلی کرنے اور پیشاب کی وجہ سے عذاب ہو رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شاخ لی اُسے دو حصوں میں تقسیم کیا ، ایک حصہ ، ایک قبر پر رکھ دیا ، اور دوسرا حصہ ، دوسری قبر پر رکھ دیا اور ارشاد فرمایا : جب تک یہ دونوں ( شاخیں ) تر رہیں گی ، اس وقت تک ان دونوں کے عذاب میں تخفیف رہے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن عبدالرحمن ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1030
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ يَوْمًا بِقُبُورٍ وَمَعَهُ جَرِيدَةٌ رَطْبَةٌ ، فَشَقَّهَا بِاثْنَتَيْنِ ، وَوَضَعَ وَاحِدَةً عَلَى قَبْرٍ ، وَالْأُخْرَى عَلَى قَبْرٍ آخَرَ ، ثُمَّ مَضَى ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : " أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يُعَذَّبُ فِي النَّمِيمَةِ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ لَا يَتَّقِي مِنَ الْبَوْلِ ، فَلَنْ يُعَذَّبَا مَا دَامَتْ هَذِهِ رَطْبَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کچھ قبور کے پاس سے ہوا ، آپ کے پاس ایک شاخ موجود تھی ، آپ نے اُسے دو حصوں میں تقسیم کیا ، ایک حصہ ، ایک قبر پر رکھ دیا ، اور دوسرا حصہ ، دوسری قبر پر رکھ دیا ، پھر آپ تشریف لے گئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان دونوں میں سے ایک شخص کو چغلی کرنے کی وجہ سے عذاب ہو رہا تھا ، اور دوسرا پیشاب سے نہیں بچتا تھا ، جب تک یہ دونوں ( شاخیں ) تر رہیں گی ان دونوں کو عذاب نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن میسرہ ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1031
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ شُفَيِّ بْنِ مَاتِعٍ الْأَصْبَحِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " أَرْبَعَةٌ يُؤْذُونَ أَهْلَ النَّارِ عَلَى مَا بِهِمْ مِنَ الْأَذَى ، يَسْعَوْنَ بَيْنَ الْحَمِيمِ وَالْجَحِيمِ ، يَدْعُونَ بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ . يَقُولُ أَهْلُ النَّارِ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : مَا بَالُ هَؤُلَاءِ قَدْ آذَوْنَا عَلَى مَا بِنَا مِنَ الْأَذَى ؟ " قَالَ : " فَرَجُلٌ مُغْلَقٌ عَلَيْهِ تَابُوتٌ مِنْ جَمْرٍ وَرَجُلٌ يَجُرُّ أَمْعَاءَهُ ، وَرَجُلٌ يَسِيلُ فُوهُ قَيْحًا وَدَمًا ، وَرَجُلٌ يَأْكُلُ لَحْمَهُ " . قَالَ : " فَيُقَالُ لِصَاحِبِ التَّابُوتِ : مَا بَالُ الْأَبْعَدِ قَدْ آذَانَا عَلَى مَا بِنَا مِنَ الْأَذَى ؟ " . قَالَ : " فَيَقُولُ : إِنَّ الْأَبْعَدَ مَاتَ وَفِي عُنُقِهِ أَمْوَالُ النَّاسِ مَا يَجِدُ لَهَا قَضَاءً أَوْ وَفَاءً ، ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي يَجُرُّ أَمْعَاءَهُ : مَا بَالُ الْأَبْعَدِ قَدْ آذَانَا عَلَى مَا بِنَا مِنَ الْأَذَى ؟ فَقَالَ : إِنَّ الْأَبْعَدَ كَانَ لَا يُبَالِي أَيْنَ أَصَابَ الْبَوْلُ مِنْهُ لَا يَغْسِلُهُ ، ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي يَسِيلُ فُوهُ قَيْحًا وَدَمًا : مَا بَالُ الْأَبْعَدِ قَدْ آذَانَا عَلَى مَا بِنَا مِنَ الْأَذَى ؟ فَيَقُولُ : إِنَّ الْأَبْعَدَ كَانَ يَأْكُلُ لَحْمَ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهُوَ هَكَذَا فِي الْأَصْلِ الْمَسْمُوعِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شفی بن ماتع اصبحی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ نے ارشاد فرمایا : ” چار قسم کے افراد ایسے ہیں ، جو اہل جہنم کو پہلے سے لاحق تکلیف کے ہمراہ ، مزید اذیت پہنچائیں گے ، وہ حمیم اور جحیم کے درمیان بھاگتے پھریں گے اور تباہی و بربادی کا واویلا کریں گے ، اہل جہنم ایک دوسرے سے کہیں گے : ہم پہلے ہی اذیت کا شکار تھے ، انہوں نے ہمیں مزید اذیت کا شکار کر دیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان میں سے ایک شخص ایسا ہو گا ، جو انگارے سے بنے ہوئے تابوت میں بند ہو گا ، ایک شخص ایسا ہو گا ، جو اپنی آنتیں گھسیٹ رہا ہو گا ، ایک شخص ایسا ہو گا جس کے منہ سے پیپ اور خون بہہ رہا ہو گا اور ایک شخص ایسا ہو گا جو اپنا گوشت کھا رہا ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تابوت والے شخص سے یہ کہا: جائے گا : اس بیچارے کا کیا معاملہ ہے ؟ جس نے ہمیں پہلے سے لاحق تکلیف کے ہمراہ ، مزید اذیت پہنچائی ہے ، تو وہ شخص یہ کہے گا : اس بیچارے کا جب انتقال ہوا تھا ، تو اس کے ذمہ لوگوں کے اموال تھے ، جن کی ادائیگی کی کوئی صورت نہیں تھی ( پھر جہنمی لوگ ) اس شخص سے یہ کہیں گے : جو اپنی آنتیں گھسیٹ رہا ہو گا اس بیچارے کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ اس نے ہمیں پہلے سے لاحق اذیت کے ہمراہ ، مزید اذیت پہنچائی ہے ، تو وہ کہے گا : یہ بیچارہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتا تھا کہ اس کو کہاں پیشاب لگ رہا ہے ، وہ اس کو دھوتا نہیں تھا ، پھر جس شخص کے منہ سے پیپ اور خون بہہ رہا ہو گا ، اس سے کہا: جائے گا : اس بے چارے کا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے ہمیں پہلے سے موجود اذیت کے ہمراہ ، مزید اذیت پہنچائی ہے ، تو وہ کہے گا : یہ بیچارہ لوگوں کا گوشت کھایا کرتا تھا ( یعنی اُن کی غیبت اور چغلی کیا کرتا تھا ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے جس اصل کا سماع کیا گیا اس میں یہ اسی طرح مذکور ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1032
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه شريك شفي بن مانع الاصبحي 7060 الزهد والرقائق لابن المبارك ما رواه نعيم بن حماد فى نسخته زائدا على ما رواه باب صفة النار 1939»
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ ، وَيَأْمُرُ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ . قَالَ مُعَاذٌ : إِنَّ عَامَّةَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، ضَعَّفَهُ الْأَكْثَرُونَ ، وَقَالَ أَحْمَدُ : يُحْتَمَلُ حَدِيثُهُ فِي الرَّقَائِقِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جُذَيْمٍ - وَيُقَالُ ابْنُ حُرَيْثٍ - عَنْ مُعَاذٍ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ ( کی عادت تھی کہ ) پیشاب ( کے چھینٹوں ) سے بچتے تھے ، اور اپنے اصحاب کو بھی اس کا حکم دیتے تھے ۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عام طور پر قبر کا عذاب پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1033
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اتَّقُوا الْبَوْلَ ; فَإِنَّهُ أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ فِي الْقَبْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پیشاب سے بچو ! کیونکہ قبر میں بندے سے ، سب سے پہلے حساب اس حوالے سے لیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1034
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفْتِنَا ، مِمَّ عَذَابُ الْقَبْرِ ؟ قَالَ : " مِنْ أَثَرِ الْبَوْلِ [ فَمَنْ أَصَابَهُ بَوْلٌ فَلْيَغْسِلْهُ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ مَاءً فَلْيَمْسَحْهُ بِتُرَابٍ طَيِّبٍ ] " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ مَا بَيْنَ ضَعِيفٍ وَمَجْهُولٍ . ¤
محمد محی الدین
سیده میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں حکم بیان کریں ! قبر کا عذاب کس وجہ سے ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پیشاب کے اثر ( یعنی اس کے چھینٹوں ) کی وجہ سے ، اگر کسی کو پیشاب لگ جائے ، تو وہ اُس جگہ کو دھو لے ، اور اگر اسے پانی نہیں ملتا ، تو پاک مٹی کے ذریعے اسے پونچھ لے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ضعیف اور مجہول کے درمیان کے راوی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1035
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبُولُ قَاعِدًا قَدْ جَافَى بَيْنَ فَخِذَيْهِ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَهُ مِنْ طُولِ الْجُلُوسِ ، ثُمَّ جَاءَ قَابِضًا بِيَدِهِ عَلَى ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ، فَقَالَ : " إِنَّ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ أَشَدَّ عَلَى الْبَوْلِ مِنْكُمْ ، كَانَ مَعَهُ مِقْرَاضٌ ، فَإِذَا أَصَابَ ثَوْبَهُ شَيْءٌ مِنَ الْبَوْلِ قَصَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ - وَلَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا - وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، وَكَانَ كَثِيرَ الْخَطَأِ وَالْغَلَطِ ، وَيُنَبَّهُ عَلَى غَلَطِهِ فَلَا يَرْجِعُ ، وَيَحْتَقِرُ الْحُفَّاظَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بیٹھ کر پیشاب کرتے ہوئے ، اپنے زانو اتنے کشادہ رکھے ہوئے تھے ، کہ اتنی دیر تک اتنی مشقت برداشت کر کے ) آپ کے بیٹھنے کی وجہ سے مجھے پریشانی ہوئی ، جب آپ تشریف لائے ، تو آپ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے تریسٹھ کا نشان بنایا اور پھر ارشاد فرمایا : بنی اسرائیل سے متعلقہ فرد پیشاب کے بارے میں تم لوگوں سے زیادہ احتیاط کرتے تھے ، اُن کے پاس قینچی ہوتی تھی ، اگر ان کے کپڑے پر پیشاب لگ جاتا تھا ، تو وہ اسے کاٹ دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں حدیث منقول ہے ، جو اس سے مختلف ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم ہے ، جو بکثرت خطا اور غلطی کرتا ہے ، اُس کی غلطی پر اسے تنبیہ کی جاتی تھی ، لیکن وہ رجوع نہیں کرتا تھا ، اور حافظان حدیث کی تحقیر کرتا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1036
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف