مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ الِاسْتِنْزَاهِ مِنَ الْبَوْلِ وَالِاحْتِرَازِ مِنْهُ لِمَا فِيهِ مِنَ الْعَذَابِ . باب: قضائے حاجت کے دوران کلام کرنے کی ممانعت
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبُولُ قَاعِدًا قَدْ جَافَى بَيْنَ فَخِذَيْهِ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَهُ مِنْ طُولِ الْجُلُوسِ ، ثُمَّ جَاءَ قَابِضًا بِيَدِهِ عَلَى ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ، فَقَالَ : " إِنَّ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ أَشَدَّ عَلَى الْبَوْلِ مِنْكُمْ ، كَانَ مَعَهُ مِقْرَاضٌ ، فَإِذَا أَصَابَ ثَوْبَهُ شَيْءٌ مِنَ الْبَوْلِ قَصَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ - وَلَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا - وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، وَكَانَ كَثِيرَ الْخَطَأِ وَالْغَلَطِ ، وَيُنَبَّهُ عَلَى غَلَطِهِ فَلَا يَرْجِعُ ، وَيَحْتَقِرُ الْحُفَّاظَ . ¤سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بیٹھ کر پیشاب کرتے ہوئے ، اپنے زانو اتنے کشادہ رکھے ہوئے تھے ، کہ اتنی دیر تک اتنی مشقت برداشت کر کے ) آپ کے بیٹھنے کی وجہ سے مجھے پریشانی ہوئی ، جب آپ تشریف لائے ، تو آپ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے تریسٹھ کا نشان بنایا اور پھر ارشاد فرمایا : بنی اسرائیل سے متعلقہ فرد پیشاب کے بارے میں تم لوگوں سے زیادہ احتیاط کرتے تھے ، اُن کے پاس قینچی ہوتی تھی ، اگر ان کے کپڑے پر پیشاب لگ جاتا تھا ، تو وہ اسے کاٹ دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں حدیث منقول ہے ، جو اس سے مختلف ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم ہے ، جو بکثرت خطا اور غلطی کرتا ہے ، اُس کی غلطی پر اسے تنبیہ کی جاتی تھی ، لیکن وہ رجوع نہیں کرتا تھا ، اور حافظان حدیث کی تحقیر کرتا تھا ۔