کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کس چیز سے استنجاء کرنے کی ممانعت ہے ؟
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدٌ بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثَةٍ أَوْ حُمَمَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ وَهَذَا لَفْظُهُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص ہڈی ، یا مینگنی یا کوئلے کے ذریعے استنجاء کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ اُن کے نقل کردہ ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1037
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «البحر الزخار مسند البزار ما اسند عبد الله بن الحارث بن جزء الزبيدى عن النبى 3194»
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " أَيُّكُمْ يَتْبَعُنِي إِلَى وَفْدِ الْجِنِّ اللَّيْلَةَ " ، فَأَسْكَتَ الْقَوْمُ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ . قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثًا ، فَمَرَّ بِي يَمْشِي ، فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَجَعَلْتُ أَمْشِي مَعَهُ حَتَّى خَنَسَتْ عَنَّا جِبَالُ الْمَدِينَةِ كُلُّهَا ، وَأَفْضَيْنَا إِلَى أَرْضِ بِرَازٍ ، فَإِذَا رِجَالٌ طِوَالٌ كَأَنَّهُمُ الرِّمَاحُ ، مُسْتَذْفِرِي ثِيَابَهُمْ مِنْ بَيْنِ أَرْجُلِهِمْ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ غَشِيَتْنِي رِعْدَةٌ شَدِيدَةٌ حَتَّى مَا تُمْسِكُنِي رِجْلَايَ مِنَ الْفَرَقِ ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُمْ خَطَّ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِبْهَامِ رِجْلِهِ فِي الْأَرْضِ خَطًّا ، فَقَالَ لِيَ : " اقْعُدْ فِي وَسَطِهِ " ، فَلَمَّا جَلَسْتُ ذَهَبَ عَنِّي كُلُّ شَيْءٍ كُنْتُ أَجِدُهُ مِنْ رِيبَةٍ ، وَمَضَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ ، فَتَلَا قُرْآنًا رَفِيعًا حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى مَرَّ بِي ، فَقَالَ لِيَ : " الْحَقْ " ، فَجَعَلْتُ أَمْشِي مَعَهُ ، فَمَضَيْنَا غَيْرَ بَعِيدٍ ، فَقَالَ لِيَ : " الْتَفِتْ فَانْظُرْ ، هَلْ تَرَى حَيْثُ كَانَ أُولَئِكَ مِنْ أَحَدٍ ؟ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَى سَوَادًا كَثِيرًا ، فَخَفَّضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ إِلَى الْأَرْضِ ، فَنَظَّمَ عَظْمًا بِرَوْثَةٍ ، ثُمَّ رَمَى بِهِ إِلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : " رُشْدُ أُولَئِكَ مِنِّي ، وَفْدُ قَوْمٍ هُمْ وَفْدُ نَصِيبِينَ ، سَأَلُونِيَ الزَّادَ فَجَعَلْتُ لَهُمْ كُلَّ عَظْمٍ وَرَوْثَةٍ " . قَالَ الزُّبَيْرُ : فَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَسْتَنْجِيَ بِعَظْمٍ وَلَا رَوْثَةٍ أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، لَيْسَ فِيهِ غَيْرُ بَقِيَّةَ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالتَّحْدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی مسجد میں ، ہمیں صبح کی نماز پڑھائی ، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو آپ نے دریافت کیا : آج رات کون میرے ساتھ جنات کے وفد سے ملاقات کے لیے جائے گا ؟ تو حاضرین خاموش رہے ، ان میں سے کسی نے بھی کوئی بات نہیں کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر آپ میرے پاس سے گزرے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ، میں آپ کے ساتھ چلنے لگا ، یہاں تک کہ مدینہ منورہ کے تمام پہاڑ ہم سے اوجھل ہو گئے اور ہم کھلی جگہ پر آ گئے ، وہاں نیزوں کی طرح کے طویل القامت افراد موجود تھے جنہوں نے اپنے کپڑے دونوں ٹانگوں کے درمیان کیے ہوئے تھے ، جب میں نے انہیں دیکھا تو مجھ پر شدید کپکپی طاری ہو گئی ، یہاں تک کہ خوف کی شدت کی وجہ سے میری ٹانگیں کانپنے لگیں ، جب ہم اُن لوگوں کے قریب پہنچے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں کے انگھوٹھے کے ذریعے زمین پر میرے لیے لکیر لگا دی ، آپ نے مجھ سے فرمایا : تم اس کے درمیان میں بیٹھ جاؤ ! جب میں بیٹھ گیا ، تم مجھے جو بھی پریشانی لاحق تھی ، وہ سب ختم ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور ( ان ) لوگوں کے درمیان تشریف لے گئے ، صبح صادق ہونے تک آپ بلند آواز میں قرآن کی تلاوت کرتے رہے ، پھر آپ واپس تشریف لائے ، جب آپ میرے پاس پہنچے ، تو آپ نے فرمایا : میرے ساتھ آ جاؤ ! میں آپ کے ساتھ چلنے لگا ، ابھی ہم زیادہ دور نہیں گئے تھے ، کہ آپ نے ارشاد فرمایا : مڑ کر دیکھو ! جہاں وہ لوگ موجود تھے ، وہاں تمہیں کچھ نظر آ رہا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہاں بہت سے افراد محسوس ہو رہے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر زمین کی طرف جھکایا ، پھر آپ نے ایک ہڈی کو مینگنی کے ساتھ لگایا اور اسے ان لوگوں کی طرف پھینک دیا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : یہ میری طرف سے اُن لوگوں کی رہنمائی ہے ، یہ ایک قوم کا وفد تھا یہ ” نصیبین “ کا وفد تھا ، انہوں نے مجھ سے زاد راہ مانگا ، تو میں نے ہر ہڈی اور مینگنی کو اُن کے لیے ( زاد راہ کے طور پر ) مقرر کر دیا ۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اب ہمیشہ کے لیے ، کسی کے لیے بھی ہڈی یا مینگنی کے ذریعے استنجاء کرنا حلال نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند حسن ہے ، بقیہ کے علاوہ اس میں اور کوئی ( ضعف نہیں ہے ) اور اس نے بھی تحدیث کی صراحت کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1038
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : اسْتَتْبَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةً فَقَالَ : " إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ - خَمْسَةَ عَشَرَ ، بَنُو إِخْوَةٍ ، وَبَنُو عَمٍّ ، - يَأْتُونِيَ اللَّيْلَةَ فَأَقْرَأُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ " ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أَرَادَ ، فَجَعَلَ لِي خَطًّا ثُمَّ أَجْلَسَنِي ، وَقَالَ : لَا تَخْرُجَنَّ مِنْ هَذَا . فَبِتُّ فِيهِ حَتَّى أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ السَّحَرِ وَفِي يَدِهِ عَظْمٌ حَائِلٌ وَرَوْثَةٌ وَحُمَمَةٌ ، فَقَالَ : " إِذَا أَتَيْتَ الْخَلَاءَ فَلَا تَسْتَنْجِ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا " . قَالَ : فَلَمَّا أَصْبَحْتُ قُلْتُ : لَأَعْلَمَنَّ حَيْثُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَهَبْتُ ، فَرَأَيْتُ مَوْضِعَ سَبْعِينَ بَعِيرًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، ضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَلِعَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ طَوِيلٌ يَأْتِي فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے آنے کے لیے کہا: ، آپ نے ارشاد فرمایا پندرہ جنات کا گروہ ، جو ایک دوسرے کے چچازاد اور بھتیجے لگتے ہیں ، وہ آج رات میرے پاس آئیں گے ، اور میں ان کے سامنے قرآن پڑھوں گا ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس جگہ کی طرف گیا ، جہاں آپ جانا چاہتے تھے ، آپ نے میرے لئے ایک لکیر کھینچی اور مجھے بیٹھنے کے لیے کہا: ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم اس سے باہر نہیں جانا ، میں رات بھر وہیں موجود رہا ، یہاں تک کہ سحری کے قریب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، آپ کے دست مبارک میں ہڈی تھی مینگنی تھی اور کوئلہ تھا ، آپ نے ارشاد فرمایا : جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ ، تو ان ( تین چیزوں ) میں سے کسی کے ذریعے استنجاء نہ کرنا ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اگلے دن صبح میں نے سوچا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تشریف لے گئے تھے ، میں اس جگہ کا جائزہ لوں گا میں وہاں گیا ، تو میں نے ستر اونٹوں کی جگہ دیکھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، ائمہ یعنی امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، یحیی بن معین اور عبدالملک بن شعیب بن لیث نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1039
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح