مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ الِاسْتِنْزَاهِ مِنَ الْبَوْلِ وَالِاحْتِرَازِ مِنْهُ لِمَا فِيهِ مِنَ الْعَذَابِ . باب: قضائے حاجت کے دوران کلام کرنے کی ممانعت
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ ، وَيَأْمُرُ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ . قَالَ مُعَاذٌ : إِنَّ عَامَّةَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، ضَعَّفَهُ الْأَكْثَرُونَ ، وَقَالَ أَحْمَدُ : يُحْتَمَلُ حَدِيثُهُ فِي الرَّقَائِقِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جُذَيْمٍ - وَيُقَالُ ابْنُ حُرَيْثٍ - عَنْ مُعَاذٍ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ .
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ ( کی عادت تھی کہ ) پیشاب ( کے چھینٹوں ) سے بچتے تھے ، اور اپنے اصحاب کو بھی اس کا حکم دیتے تھے ۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عام طور پر قبر کا عذاب پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، جسے اکثر محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام أحمد فرماتے ہیں : رقائق کے بارے میں اس کی روایات کو قبول کیا جا سکتا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جذیم ہے ، ایک قول کے مطابق ابن حریث ہے ، جس نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔