مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ الِاسْتِنْزَاهِ مِنَ الْبَوْلِ وَالِاحْتِرَازِ مِنْهُ لِمَا فِيهِ مِنَ الْعَذَابِ . باب: قضائے حاجت کے دوران کلام کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 1025
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِرَجُلٍ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ فِي النَّمِيمَةِ ، وَمَرَّ بِرَجُلٍ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ فِي الْبَوْلِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ ، ضَعَّفُوهُ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا حَاتِمٍ قَالَ : صَالِحٌ ، وَلَيْسَ بِالْمَتِينِ . وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : عَامَّةُ مَا رَوَاهُ تَابَعَهُ عَلَيْهِ غَيْرُهُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا ، جسے چغلی کرنے کی وجہ سے اس کی قبر میں عذاب دیا جا رہا تھا اور ایک شخص کے پاس سے ہوا جسے اس کی قبر میں پیشاب کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خلید بن دعلج ہے ، جسے محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے ، صرف امام ابوحاتم یہ کہتے ہیں : یہ صالح ہے لیکن متین نہیں ہے ، ابن عدی فرماتے ہیں : اس کی نقل کردہ زیادہ تر روایات کی متابعت دوسرے راویوں نے کی ہے ۔