مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ الِاسْتِنْزَاهِ مِنَ الْبَوْلِ وَالِاحْتِرَازِ مِنْهُ لِمَا فِيهِ مِنَ الْعَذَابِ . باب: قضائے حاجت کے دوران کلام کرنے کی ممانعت
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ . قَالَ : وَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ . قَالَ : فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ وَقَرَ ذَلِكَ فِي نَفْسِهِ ، فَجَلَسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ لِئَلَّا يَقَعَ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ ، فَلَمَّا مَرَّ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ إِذَا بِقَبْرَيْنِ قَدْ دَفَنُوا فِيهِمَا رَجُلَيْنِ . قَالَ : فَوَقَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَنْ دَفَنْتُمْ هَهُنَا الْيَوْمَ ؟ " قَالُوا : فُلَانٌ وَفُلَانٌ . قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : " أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَتَنَزَّهُ مِنَ الْبَوْلِ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ " ، فَأَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا ، ثُمَّ جَعَلَهَا عَلَى الْقَبْرَيْنِ فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَلِمَ فَعَلْتَ ؟ قَالَ : " لِيُخَفِّفَنَّ عَنْهُمَا " . قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، حَتَّى مَتَى هُمَا يُعَذَّبَانِ ؟ قَالَ : " غَيْبٌ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ " . قَالَ : " وَلَوْلَا تَمَزُّعُ قُلُوبِكُمْ وَتَزَيُّدُكُمْ فِي الْحَدِيثِ لَسَمِعْتُمْ مَا أَسْمَعُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ [ بْنِ عَلِيٍّ ] الْأَلْهَانِيُّ عَنِ الْقَاسِمِ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شدید گرم دن میں ، نبی اکرم ” بقیع غرقد “ کی طرف تشریف لے گئے ، راوی بیان کرتے ہیں : لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلنے لگے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قدموں کی آہٹ سنی ، تو آپ کو یہ چیز ناگوار گزری آپ تشریف فرما ہو گئے ، یہاں تک کہ لوگوں کو اپنے سے آگے گزرنے دیا ، تاکہ آپ کے من میں تکبر کے حوالے سے کچھ واقع نہ ہو ، جب آپ ” بقیع غرقد “ کے پاس سے گزرے ، تو وہاں دو قبریں موجود تھیں ، جن میں دو افراد کو دفن کیا گیا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ٹھہر گئے ، آپ نے دریافت کیا : یہاں تم نے آج کسے دفن کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : فلاں کو اور فلاں کو ، لوگوں نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان میں سے ایک پیشاب سے نہیں بچتا تھا ، اور دوسرا چغلی کیا کرتا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تر شاخ لی ، اُس کے دو حصے کیے ، اور وہ ان دونوں قبروں پر لگا دیے ، لوگوں نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تاکہ ان دونوں ( کے عذاب میں ) تخفیف رہے ، لوگوں نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! ان دونوں کو کب تک عذاب ہوتا رہے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ایک ایسا غیب ہے ، جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تمہارے دلوں میں خیالات کا تنوع اور تمہارا زیادہ بات چیت کرنا نہ ہوتا ، تو تم لوگ بھی وہ چیز سنتے ، جو میں سن رہا ہوں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے علی بن یزید بن علی الہانی نے قاسم سے نقل کیا ہے ، اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔