حدیث نمبر: 1032
وَعَنْ شُفَيِّ بْنِ مَاتِعٍ الْأَصْبَحِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " أَرْبَعَةٌ يُؤْذُونَ أَهْلَ النَّارِ عَلَى مَا بِهِمْ مِنَ الْأَذَى ، يَسْعَوْنَ بَيْنَ الْحَمِيمِ وَالْجَحِيمِ ، يَدْعُونَ بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ . يَقُولُ أَهْلُ النَّارِ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : مَا بَالُ هَؤُلَاءِ قَدْ آذَوْنَا عَلَى مَا بِنَا مِنَ الْأَذَى ؟ " قَالَ : " فَرَجُلٌ مُغْلَقٌ عَلَيْهِ تَابُوتٌ مِنْ جَمْرٍ وَرَجُلٌ يَجُرُّ أَمْعَاءَهُ ، وَرَجُلٌ يَسِيلُ فُوهُ قَيْحًا وَدَمًا ، وَرَجُلٌ يَأْكُلُ لَحْمَهُ " . قَالَ : " فَيُقَالُ لِصَاحِبِ التَّابُوتِ : مَا بَالُ الْأَبْعَدِ قَدْ آذَانَا عَلَى مَا بِنَا مِنَ الْأَذَى ؟ " . قَالَ : " فَيَقُولُ : إِنَّ الْأَبْعَدَ مَاتَ وَفِي عُنُقِهِ أَمْوَالُ النَّاسِ مَا يَجِدُ لَهَا قَضَاءً أَوْ وَفَاءً ، ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي يَجُرُّ أَمْعَاءَهُ : مَا بَالُ الْأَبْعَدِ قَدْ آذَانَا عَلَى مَا بِنَا مِنَ الْأَذَى ؟ فَقَالَ : إِنَّ الْأَبْعَدَ كَانَ لَا يُبَالِي أَيْنَ أَصَابَ الْبَوْلُ مِنْهُ لَا يَغْسِلُهُ ، ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي يَسِيلُ فُوهُ قَيْحًا وَدَمًا : مَا بَالُ الْأَبْعَدِ قَدْ آذَانَا عَلَى مَا بِنَا مِنَ الْأَذَى ؟ فَيَقُولُ : إِنَّ الْأَبْعَدَ كَانَ يَأْكُلُ لَحْمَ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهُوَ هَكَذَا فِي الْأَصْلِ الْمَسْمُوعِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا شفی بن ماتع اصبحی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ نے ارشاد فرمایا : ” چار قسم کے افراد ایسے ہیں ، جو اہل جہنم کو پہلے سے لاحق تکلیف کے ہمراہ ، مزید اذیت پہنچائیں گے ، وہ حمیم اور جحیم کے درمیان بھاگتے پھریں گے اور تباہی و بربادی کا واویلا کریں گے ، اہل جہنم ایک دوسرے سے کہیں گے : ہم پہلے ہی اذیت کا شکار تھے ، انہوں نے ہمیں مزید اذیت کا شکار کر دیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان میں سے ایک شخص ایسا ہو گا ، جو انگارے سے بنے ہوئے تابوت میں بند ہو گا ، ایک شخص ایسا ہو گا ، جو اپنی آنتیں گھسیٹ رہا ہو گا ، ایک شخص ایسا ہو گا جس کے منہ سے پیپ اور خون بہہ رہا ہو گا اور ایک شخص ایسا ہو گا جو اپنا گوشت کھا رہا ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تابوت والے شخص سے یہ کہا: جائے گا : اس بیچارے کا کیا معاملہ ہے ؟ جس نے ہمیں پہلے سے لاحق تکلیف کے ہمراہ ، مزید اذیت پہنچائی ہے ، تو وہ شخص یہ کہے گا : اس بیچارے کا جب انتقال ہوا تھا ، تو اس کے ذمہ لوگوں کے اموال تھے ، جن کی ادائیگی کی کوئی صورت نہیں تھی ( پھر جہنمی لوگ ) اس شخص سے یہ کہیں گے : جو اپنی آنتیں گھسیٹ رہا ہو گا اس بیچارے کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ اس نے ہمیں پہلے سے لاحق اذیت کے ہمراہ ، مزید اذیت پہنچائی ہے ، تو وہ کہے گا : یہ بیچارہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتا تھا کہ اس کو کہاں پیشاب لگ رہا ہے ، وہ اس کو دھوتا نہیں تھا ، پھر جس شخص کے منہ سے پیپ اور خون بہہ رہا ہو گا ، اس سے کہا: جائے گا : اس بے چارے کا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے ہمیں پہلے سے موجود اذیت کے ہمراہ ، مزید اذیت پہنچائی ہے ، تو وہ کہے گا : یہ بیچارہ لوگوں کا گوشت کھایا کرتا تھا ( یعنی اُن کی غیبت اور چغلی کیا کرتا تھا ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے جس اصل کا سماع کیا گیا اس میں یہ اسی طرح مذکور ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1032
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه شريك شفي بن مانع الاصبحي 7060 الزهد والرقائق لابن المبارك ما رواه نعيم بن حماد فى نسخته زائدا على ما رواه باب صفة النار 1939»