مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ الِاسْتِنْزَاهِ مِنَ الْبَوْلِ وَالِاحْتِرَازِ مِنْهُ لِمَا فِيهِ مِنَ الْعَذَابِ . باب: قضائے حاجت کے دوران کلام کرنے کی ممانعت
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَبْرَيْنِ يُعَذَّبَانِ ، فَقَالَ : " إِنَّهُمَا يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ ، كَانَ أَحَدُهَا لَا يَتَنَزَّهُ مِنَ الْبَوْلِ ، وَكَانَ الْآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ " .
فَدَعَا بِجَرِيدَةٍ رَطْبَةٍ ، كَسَرَهَا ، فَوَضَعَ عَلَى هَذَا وَعَلَى هَذَا وَقَالَ : " لَعَلَّهُ يُخَفِّفُ عَنْهُمَا حَتَّى يَيْبَسَا " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الْوَكِيعِيَّ الْمِصْرِيَّ ، فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ .
وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا فِي عَذَابِ الْقَبْرِ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا ، جنہیں ( یعنی جن میں مدفون افراد کو ) عذاب ہو رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے ، اور ان دونوں کو کسی بڑی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ہے ( یعنی وہ کوئی ایسا کام نہیں تھا ، جس سے بچنا مشکل ہوتا ) ان میں سے ایک پیشاب سے بچتا نہیں تھا ، اور دوسرا چغلی کیا جاتا تھا ۔
پھر آپ نے ایک تر شاخ منگوائی ، اُسے توڑا ، اور ( ایک حصہ ) اِس قبر پر اور ( ایک ) اُس قبر پر رکھ دیا ، اور ارشاد فرمایا : ” شاید ان دونوں ( شاخوں ) کے خشک ہونے تک ان دونوں کے عذاب میں تخفیف ہو جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، صرف امام طبرانی کے استاد محمد بن أحمد بن جعفر وکیعی مصری کا معاملہ مختلف ہے ، میں اُن سے واقف نہیں ہوں ۔ اس موضوع سے متعلق دیگر احادیث ، قبر کے عذاب سے متعلق باب میں آئیں گی ۔