قربانی کی فضیلت، اہمیت اور وجوب صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر طارق ہمایوں شیخ کی کتاب عید الاضحٰی سے ماخوذ ہے۔

قربانی کی فضیلت

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”10 ذوالحجہ کو خون بہانے سے بڑھ کر ابن آدم کے ہاں کوئی بہتر عمل نہیں۔ یہ جانور روزِ قیامت اپنے سینگوں، کھروں اور بالوں سمیت آئیں گے اور خون کے زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں اس کا ایک مقام ہوتا ہے سو تم یہ قربانی خوشدلی سے دیا کرو۔ “
(سنن ابن ماجہ: 3126، سنن ترمذی: 1493)
❀ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ “ پھر پوچھا: اس سے ہمیں کیا ملے گا؟ فرمایا: ”ہر بال کے بدلے ایک نیکی۔ “ کہنے لگے: اور اون کے بدلے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھیڑ کی اون کے ہر بال کے بدلے بھی ایک نیکی ملے گی۔ “
(سنن ابن ماجہ: 3127)
❀ وہ مسلمان جو قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہو کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” (نمازِ عید کے بعد) اپنے سر کے بال کاٹ لو، ناخن اور مونچھیں تراش لو، (بغل) اور زیر ناف بالوں کی صفائی کر لو۔ اللہ کے ہاں تمہاری یہی کامل قربانی ہے۔ “
(سنن ابوداؤد: 2789، سنن نسائی: 4370)

کیا قربانی ہر صاحبِ استطاعت پر واجب ہے؟

❀ ارشاداتِ ربانی ہے۔
لِّيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۖ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ ‎﴿٢٨﴾‏
”تاکہ وہ (مسلمان) حاضر ہوں اپنے فائدے کے لیے، اور مقررہ دنوں میں ان مویشی چوپایوں پر (قربانی کرتے وقت) اللہ کا نام لے لیا کریں جو اس نے انہیں عطا کیے ہیں۔ پس (قربانی کا گوشت) خود بھی کھائیں اور مصیبت زدہ محتاج کو بھی کھلائیں۔ “
(22-الحج:28)
وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُم مِّن شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ ۖ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ ۖ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ ۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرْنَاهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ‎﴿٣٦﴾ لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ ‏
”اور (غور کرو) اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کے شعائر (نشانیوں) میں سے ٹھہرا دیا ہے۔ تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے، لہذا (قربانی کرتے وقت) انہیں کھڑا کر کے (ان پر) اللہ کا نام لو اور جب وہ کسی پہلو گر پڑیں (اور ٹھنڈے ہو جائیں) تو ان میں سے (خود بھی) کھاؤ اور قناعت کرنے والے (محتاج) کو اور مانگنے والے (محتاج) کو (بھی) کھلاؤ، اس طرح ہم نے ان (جانوروں) کو تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے تاکہ تم (ہمارا) شکر ادا کرو۔ اللہ کو ہرگز نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون بلکہ اسے تمہاری طرف سے تقویٰ پہنچتا ہے۔ “
(22-الحج:3637)
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
”پس (تیرے رب کا حکم ہے) تو اپنے رب کے لیے نماز ادا کر اور (اس کا حکم ہے کہ) تو (اپنے رب کے لیے) نحر کر (قربانی کر)۔ “
(108-الکوثر:2)
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ‎﴿١٦٢﴾‏ لَا شَرِيكَ لَهُ
” (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کے رب کا حکم ہے) آپ (ان سب سے) کہہ دیں کہ بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا صرف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ “
(6-الأنعام:162163)
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
”یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ “
(33-الأحزاب:21)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ ‎﴿٣٣﴾
”اے وہ لوگو جو ایمان لا چکے ہو! تم سب اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرو اور (اللہ اور رسول کی نافرمانی کر کے) اپنے اعمال ضائع نہ کرو۔“
(47-محمد:33)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان

❀ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یوم الاضحی کے متعلق (اللہ کی طرف سے) حکم دیا گیا ہے کہ اسے بطور عید مناؤں جسے اللہ عزوجل نے اس امت کے لیے خاص کیا ہے۔ “
(سنن ابوداؤد: 2789، سنن نسائی: 4370)
❀ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس (قربانی کرنے کی گنجائش ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو اسے چاہیے کہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ “
(سنن ابن ماجہ: 3123، مسند احمد: 2/321)
❀ سیدنا مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں وقوف کیے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر گھر والوں پر ہر سال قربانی ہے۔ “
(سنن ابوداؤد: 2788، سنن ترمذی: 1518، سنن نسائی: 4229، سنن ابن ماجہ: 3125)
❀ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے اپنے دس سالہ قیام میں ہر سال قربانی دیا کرتے تھے۔
(سنن ترمذی: 1507)
❀ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ قربانی واجب ہے یا نہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: قربانی کی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور مسلمانوں نے۔ اس نے پھر پوچھا تو کہا: تو سمجھتا نہیں ہے (کہ میں کہہ رہا ہوں) قربانی کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور قربانی کی مسلمانوں نے۔
(سنن ترمذی: 1505، سنن ابن ماجہ: 3124)
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر 100 اونٹوں کی قربانی دی۔ جن میں تریسٹھ (63) اونٹ خود اپنے دست مبارک سے نحر (قربان) کیے اور باقی سینتیس (37) اونٹ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نحر کیے۔
(صحیح مسلم: 1218، سنن ابن ماجہ: 3074)
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک گائے ذبح فرمائی۔
(سنن ابوداؤد: 1750،1751 سنن ابن ماجہ: 3133،3135 سنن نسائی کبریٰ: 4129)

وضاحت:

صاحب استطاعت پر قربانی ہر سال واجب ہے۔
➊ قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے والے صاحب استطاعت پر ہر سال قربانی کرنا لازم ہے۔
➋ محدثین کے مطابق قربانی سنت مؤکدہ ہے، تاہم استطاعت رکھنے والے کو لازماً قربانی کرنی چاہیے۔
➌ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے جہاں ایک ہی جگہ کھانا پکتا ہو، گھر کے سربراہ کی طرف سے دی ہوئی قربانی گھر کے باقی افراد کے لیے کفایت کر جاتی ہے۔
(سنن ابن ماجہ: 3147، سنن ترمذی: 1505)
➍ اگر صاحب استطاعت ایک ہی گھر میں اکٹھے رہتے ہوں لیکن کھانا علیحدہ علیحدہ پکتا ہو تو ہر ایک کو قربانی دینا لازم ہے۔
➎ اگر صاحب استطاعت علیحدہ علیحدہ گھروں میں رہتے ہوں تو ہر ایک کو قربانی دینا لازم ہے۔