تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ:} یہاں تاکید کے لیے قربانی کے جانوروں کو مسخر کرنے کا احسان دوبارہ یاد دلایا اور تکبیر یعنی ”اللہ اکبر“ کہہ کر اللہ کی بزرگی بیان کرنے کا ذکر فرمایا، اس سے پہلے قربانی کرتے وقت اللہ کا نام لینے کا حکم دیا۔ معلوم ہوا کہ قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت {” بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ “} کہنا اللہ کو مطلوب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما اونٹ کو اِشعار (کوہان کی ایک طرف زخم) کرتے ہوئے {”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“} پڑھتے تھے۔ [الموطأ لإمام مالک: ۸۴۵] انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھے قربانی کیے، انھیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور {”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ“} پڑھا اور اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھا۔ [بخاري، الأضاحي، باب التکبیر عند الذبح: ۵۵۶۵] {” لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ “} کے لفظ عام ہونے کی وجہ سے چوپاؤں کو مسخر کرنے کی نعمت پر دوسرے اوقات میں بھی اللہ کی کبریائی بیان کرنی چاہیے، جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کے لیے روانہ ہوتے وقت اونٹ پر سوار ہوتے تو تین دفعہ ”اللہ اکبر“ کہتے، پھر {”سُبْحَانَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ“} پڑھتے (آگے سفر کی مکمل دعا مذکور ہے)۔ [مسلم، الحج، باب استحباب الذکر إذا رکب دابتہ…: ۱۳۴۲]
➌ {وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ:” الْمُخْبِتِيْنَ “} کو بشارت دینے کے حکم کے بعد {” الْمُحْسِنِيْنَ “} کو بشارت دینے کا حکم دیا۔ احسان کا تعلق {” وَ لٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ “} سے ہے۔ تقویٰ ہر وقت اللہ کے خوف سے اس کے احکام پر عمل اور اس کی نافرمانی سے بچنے کا نام ہے۔ احسان بھی یہی ہے کہ ہر وقت یہ بات دل و دماغ میں حاضر رکھے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حدیث جبریل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کی تفسیر فرمائی: [أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ] [بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل…: ۵۰] ”احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ یقینا تمھیں دیکھ رہا ہے۔“ تواضع اور احسان کی صفات رکھنے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں ہر خیر کی بشارت ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۱۲)، نساء (۱۲۵) اور لقمان (۲۲) اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے۔ (آمین)
➍ مفسر بقاعی نے {” وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ “} کی واؤ کا ایک نکتہ بیان فرمایا ہے کہ دین کا مدار نذارت و بشارت دونوں پر ہے، اس مقام پر چونکہ حج اور اس کے اعمال قربانی وغیرہ کا ذکر ہے، جو بشارت سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں، اس لیے نذارت کو حذف کرکے واؤ عطف کے بعد بشارت کا واضح الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔ گویا اصل عبارت یوں تھی:{” فَأَنْذِرْ أَيُّهَا الدَّاعِي! الْمُسِيْئِيْنَ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ “} ”سوائے دعوت دینے والے! برائی کرنے والوں کو ڈرا اور نیکی کرنے والوں کو خوش خبری سنا دے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[62] بڑائی بیان کرنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ ذبح کے وقت ﴿بسم الله الله اكبر﴾ یا ﴿بسم الله والله اكبر﴾ اور شکر کی ادائیگی کے لئے: ﴿اللهم منك ولك﴾ (یعنی اے اللہ! یہ قربانی کا جانور تو نے ہی عطا کیا تھا اور تیری رضا کے لئے میں اسے قربان کر رہا ہوں) پڑھنا چاہئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جاہلیت کی بیوقوفیوں میں ایک یہ بھی تھی کہ قربانی کے جانور کا گوشت اپنے بتوں کے سامنے رکھ دیتے تھے اور ان پر خون کا چھینٹا دیتے تھے۔ یہ بھی دستور تھا کہ بیت اللہ شریف پر قربانی کے خون چھڑکتے، مسلمان ہو کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایسا کرنے کے بارے میں سوال کیا جس پر یہ آیت اتری کہ ’ اللہ تو تقویٰ کو دیکھتا ہے اسی کو قبول فرماتا ہے اور اسی پر بدلہ عنایت فرماتا ہے ‘۔
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا نہ اس کی نظریں تمہارے مال پر ہیں بلکہ اس کی نگاہیں تمہارے دلوں پر اور تمہارے اعمال پر ہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2564]
اور حدیث میں ہے کہ { خیرات وصدقہ سائل کے ہاتھ میں پڑے اس سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ قربانی کے جانور کے خون کا قطرہ زمین پر ٹپکے اس سے پہلے اللہ کے ہاں پہنچ جاتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1493،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کا مطلب یہی ہے کہ خون کا قطرہ الگ ہوتے ہی قربانی مقبول ہو جاتی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
چنانچہ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ { جسے وسعت ہو اور قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3123،قال الشيخ الألباني:حسن] اس روایت میں غرابت ہے اور امام احمد رحمتہ اللہ علیہ اسے منکر بتاتے ہیں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر دس سال قربانی کرتے رہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1507،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
امام شافعی رحمہ اللہ اور حضرت مام احمد رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ قربانی واجب و فرض نہیں بلکہ مستحب ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ { مال و زکوٰۃ کے سوا اور کوئی فرضیت نہیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1789،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ترمذی وغیرہ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں فرمایا: { ہر گھر والوں پر ہر سال قربانی ہے اور «عَتِيرَة» ہے جانتے ہو «عَتِيرَة» کیا ہے؟ وہی جسے تم «رَّجَبِيَّة» کہتے ہو } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2788،قال الشيخ الألباني:حسن] اس کی سند میں کلام کیا گیا ہے۔
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اپنے پورے گھر کی طرف سے ایک بکری راہ للہ ذبح کر دیا کرتے تھے اور خود بھی کھاتے، اوروں کو بھی کھلاتے۔ پھر لوگوں نے اس میں وہ کر لیا جو تم دیکھ رہے ہو }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1505،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ سیدنا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ اپنی اور اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کیا کرتے تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7210]
زہری رحمہ اللہ تو کہتے ہیں کہ «الْجَذَع» یعنی چھ ماہ کا کوئی جانور قربانی میں کام ہی نہیں آسکتا اور اس کے بالمقابل اوزاعی رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ ہر جانور کا جزعہ کافی ہے۔ لیکن یہ دونوں قول افراط والے ہیں۔ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اونٹ گائے بکری تو وہ جائز ہے جو ثنی ہو۔ اور بھیڑ کا چھ ماہ کا بھی جائز ہے۔ اونٹ تو ثنی ہوتا ہے جب پانچ سال پورے کر کے چھٹے میں لگ جائے۔ اور گائے جب دو سال پورے کر کے تیسرے میں لگ جائے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین گزار کر چوتھے میں لگ گیا ہو۔ اور بکری کا ثنی وہ ہے جو دو سال گزار چکا ہو اور جذعہ کہتے ہیں اسے جو سال بھر کا ہو گیا ہو اور کہا گیا ہے جو دس ماہ کا ہو۔
ایک قول ہے جو آٹھ ماہ کا ہو ایک قول ہے جو چھ ماہ کا ہو اس سے کم مدت کا کوئی قول نہیں۔ اس سے کم عمر والے کو حمل کہتے ہیں۔ جب تک کہ اس کی پیٹھ پر بال کھڑے ہوں اور بال لیٹ جائیں اور دونوں جانب جھک جائیں تو اسے جذع کہا جاتا ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقوله: {لن ينالَ اللهَ لحومُها ولا دِماؤها}؛ أي: ليس المقصود منها ذبحها فقط، ولا ينالُ اللهَ من لحومها ولا دمائها شيءٌ؛ لكونه الغنيَّ الحميد، وإنَّما ينالُه الإخلاصُ فيها والاحتسابُ والنيَّة الصالحةُ، ولهذا قال: {ولكن ينالُهُ التَّقوى منكم}: ففي هذا حثٌّ وترغيبٌ على الإخلاص في النحر، وأن يكونَ القصدُ وجهَ الله وحدَه؛ لا فخراً ولا رياءً ولا سمعةً ولا مجرَّد عادةٍ، وهكذا سائر العبادات إن لم يقترِنْ بها الإخلاص وتقوى الله؛ كانتْ كالقُشورِ الذي لا لبَّ فيه والجسدِ الذي لا روح فيه. {كذلك سخَّرها لكُم لتكبِّروا الله}؛ أي: تعظِّموه وتُجِلُّوه، كما {هداكم}؛ أي: مقابلةً لهدايته إيَّاكم؛ فإنَّه يستحقُّ أكمل الثناء وأجلَّ الحمد وأعلى التعظيم. {وبشِّر المحسنينَ}: بعبادة الله؛ بأنْ يعبُدوا الله كأنَّهم يرونَه؛ فإنْ لم يصلوا إلى هذه الدرجة؛ فليعْبُدوه معتقدينَ وقتَ عبادتِهِم اطِّلاعَه عليهم ورؤيته إيَّاهم، والمحسنين لعبادِ الله بجميع وجوه الإحسان؛ من نفع مال أو علم أو جاه أو نُصح أو أمر بمعروفٍ أو نهي عن منكرٍ أو كلمةٍ طيِّبةٍ ونحو ذلك؛ فالمحسِنونَ لهم البشارةُ من الله بسعادة الدُّنيا والآخرة، وسَيُحْسِنُ الله إليهم كما أحْسَنوا في عبادته ولعباده؛ {هل جزاءُ الإحسانِ إلاَّ الإحسانُ}، {للذين أحسنوا الحُسنى وزيادةٌ}.