مشرکین عرب کا فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہنے کا عقیدہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

اللہ کی جناب میں مشرکوں کی ایک متکبرانہ جسارت

ألكم الذكر وله الأنثىٰ تلك إذا قسمة ضيزىٰ
”قرآن کریم کی مندرجہ بالا آیت میں لفظ ”قسمة“ سے ٹیڑھی اور ناانصافی پر مبنی تقسیم مراد ہے۔ کیونکہ مشرک اپنے لیے لڑکے اور اللہ کے لیے لڑکیاں پسند کرتے تھے۔ ان کا یہ عقیدہ تھا اور وہ کہا بھی کرتے تھے کہ ملائکہ اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ گویا مشرکین عرب بھی اللہ کی اولاد ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے۔ جیسے نصاریٰ کا عقیدہ تھا کہ اللہ کی اولاد ہے۔ مگر نصاریٰ کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی کہ ان کے بڑے پادری کے ہاں صرف نرینہ اولاد ہو۔ لات، عربی اور مناہ کے بارے میں ایک جماعت جیسے کلبی وغیرہ نے کہا ہے کہ مشرکین کہا کرتے تھے کہ اصنام اللہ کی بیٹیاں ہیں۔“
متاخرین علماء نے بھی اس قول کی تائید کی ہے۔ لیکن حقیقت یہ نہیں۔ کیونکہ وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ یہ اصنام اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ بلکہ وہ تو یہ کہتے تھے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں کہتا ہے:
إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ لَيُسَمُّونَ الْمَلَائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنثَىٰ ‎﴿٢٧﴾
”جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کو مؤنث نام سے موسوم کرتے ہیں۔“
(53-النجم:27)
وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَٰنِ إِنَاثًا ۚ أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ ۚ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ ‎﴿١٩﴾
”انہوں نے فرشتوں کو جو اللہ رحمان کے خاص بندے ہیں، عورتیں قرار دے لیا۔ کیا ان کے جسم کی ساخت انہوں نے دیکھی ہے؟“
(43-الزخرف:19)
‏ وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمَٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ ‎﴿١٧﴾‏
”جس اولاد کو یہ لوگ اس اللہ رحمان کی طرف منسوب کرتے ہیں، اس کی ولادت کا مژدہ جب خود ان میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے۔“
(43-الزخرف:17)
بیٹا باپ کا اور شریک اپنے دوسرے شریک کا مثیل ہوتا ہے۔ مشرکین نے اللہ کے ساتھ مثال مؤنث کی دی اور پھر اسے اللہ کا شریک قرار دے دیا۔ اور وہ ایسا ہی کیا کرتے تھے کیونکہ شریک بھائی کی طرح ہوتا ہے۔ چنانچہ مشرکین نے اللہ کا شریک اور وہ بھی بہن اور بیٹی کو بتایا حالانکہ وہ اپنے لیے نہ بیٹی پسند کرتے تھے اور نہ بہن۔ جب باپ کی خواہش یہ ہو کہ اس کے ہاں بیٹی نہ ہو تو وہ بہن کو کیسے پسند کرے گا؟ اس خباثت کی وجہ سے مشرکین عرب نہ اپنی بیٹی کو ورثہ دیتے اور نہ بہن کو۔ اس سے ان کی جہالت اور ظلم کی انتہا کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

اولیاء و قبر پرستوں کی بے انصافی کا انکشاف

مذکورہ بالا بحث سے ثابت ہوا کہ یہ لوگ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ سے بھی زیادہ با عظمت سمجھتے تھے۔ ان کی مثال دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَيَجْعَلُونَ لِمَا لَا يَعْلَمُونَ نَصِيبًا مِّمَّا رَزَقْنَاهُمْ ۗ تَاللَّهِ لَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنتُمْ تَفْتَرُونَ ‎﴿٥٦﴾‏ وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَنَاتِ سُبْحَانَهُ ۙ وَلَهُم مَّا يَشْتَهُونَ ‎﴿٥٧﴾‏
”یہ لوگ جن کی حقیقت سے واقف بھی نہیں ہیں ان کے حصے ہمارے دیئے ہوئے رزق سے مقرر کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم! ضرور تم سے پوچھا جائے گا کہ یہ جھوٹ تم نے کیسے گھڑ لیے تھے؟ یہ اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں سبحان اللہ! اور ان کے لیے وہ جو یہ خود چاہیں؟“
(16-النحل:56-57)
ضَرَبَ لَكُم مَّثَلًا مِّنْ أَنفُسِكُمْ ۖ هَل لَّكُم مِّن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن شُرَكَاءَ فِي مَا رَزَقْنَاكُمْ فَأَنتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ‎﴿٢٨﴾
”تمہیں خود تمہاری اپنی ہی ذات سے ایک مثال دیتا ہے کہ کیا تمہارے ان غلاموں سے جو تمہاری ملکیت میں ہیں کچھ غلام ایسے بھی ہیں جو ہمارے دیئے ہوئے مال و دولت میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوں اور تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح آپس میں ہمسروں سے ڈرتے ہو۔ اسی طرح ہم آیات کھول کر پیش کرتے ہیں، ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔“
(30-الروم:28)
مشرکین ہرگز یہ نہیں چاہتے کہ ان کا غلام ان کا شریک اور ہم مرتبہ ہو۔ لیکن اس کے برعکس انہوں نے اللہ کی مخلوق کو اس کا شریک بنایا اور اللہ کے لیے وہ چیز ثابت کی جو وہ خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے جیسے شریک وغیرہ۔ مشرکین یہ بھی پسند نہیں کرتے کہ ان کی اولاد ان کی شریک کار ہو۔ لیکن اس کے برعکس اللہ کی مخلوق کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔
مشرکین یہ بھی پسند نہیں کرتے کہ ان کی اولاد میں لڑکیاں ہوں بلکہ ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ان کے ہاں لڑکے اور وہ بھی طاقتور ہوں۔ لیکن اس کے برعکس انہوں نے اللہ کی اولاد اور وہ بھی کمزور لڑکیاں ٹھہرائیں۔
ہماری اس گفتگو میں ایک خاص نکتہ یہ ہے کہ اللہ کریم ہر چیز سے انجیل و اعظم اور اعلیٰ و اکبر ہے لیکن اس کے باوجود ان مشرکین نے اللہ کے لیے وہ چیز ثابت کرنے کی جسارت کی ہے جو وہ خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے۔