اللہ کی صفات، معیت اور وحدت الوجود سے متعلق ڈاکٹر اسرار احمد کے افکار و نظریات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو عمر عبدالعزیز النورستانی اور دیگر اہلحدیث علماء کے مرتب کردہ رسالہ "ڈاکٹر اسرار صاحب کا نظریہ توحید الوجودی اور اس کا شرعی حکم” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات
بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله الذي استوى على عرشه بائن عن خلقه و مع عباده بعلمه

[یُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَی الۡاَرۡضِ] [السجده:5]

[ لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ ۚ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ] [الشوری:11]

والصلاة والسلام على من دعا ربه [اللهم انت الأول فليس قبلك شیئى وانت الآخر فليس بعدك شيئى وانت الظاهر فليس فوقك شيئي وانت الباطن فليس دونك شيئى اقض عنى الدين و اغنني من الفقر]

[صحيح مسلم: كتاب الذكر والدعا باب الدعا عند النوم: ح:6889]

وعلى اله وصحبه الذين اجمعوا على معنى [وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ۔۔۔۔سورۃ الحدید:4] ونحوه من الآيات القرآنية ان ذلك علمه وان الله فوق السموت بذاته مستو على عرشه كيف شاء اما بعد:

اللہ تعالی نے اہل اسلام کو قرآن و سنت کی اصطلاحات عطاء فرما کر متکلمین، فلاسفه و ملحدین وغیرہ کی اصطلاحات سے بے نیاز فرما دیا ہے۔ لہذا سلف صالحین اور ائمہ ان لوگوں میں سے نہیں کہ اپنی طرف سے اصطلاحات بنا کر نصوص قرآنی اور احادیث کو ان اصطلاحات بدعیہ کا تابع بنائیں، بلکہ انہوں نے قرآن وسنت پر عمل کرتے ہوئے قرآن وسنت کو ہی عقل صریح کے موافق سمجھا، لہذا انہوں نے ہر اس لفظ کو اپنایا جو کتاب وسنت میں اللہ تعالیٰ کے اسماء، صفت، افعال اور وجود کے بارے میں وارد تھا۔ خواہ اثبات میں ہو یا نفی میں اور اُس طریقے کو [جو قرآن و سنت لیکر آئے تھے] ہی عقل صریح اور نقل صحیح سمجھا، اور یہی انبیاء و مرسلین کا طریقہ ہے۔

لہذا جو اصطلاحات، تعبیرات، معتقدات و نظریات قرآن اور سنت نبوی سے ٹکراتے ہوں وہ درجہ بدرجہ ضلالت، گمراہی، شرک اور کفر ہیں۔

وحدة الوجود يا توحید وجودی کی تعبیر جو بھی، جیسے بھی، جس بھی خوبصورت اور بہتر سے بہتر طریقے سے کرے وہ کفر اور زندقہ ہی ہے، باطل ہی باطل ہے، چاہے جتنی بھی اسکی بہتر اور مختلف انداز سے تعبیر کی جائے خواہ وہ نظریہ و عقیدہ اور تعبیر ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کا ہو یا مناظر احسن گیلانی صاحب کا یا شیخ احمد سرہندی اور شاہ ولی اللہ دہلوی کا ہو یا ابن عربی و ابن سبعین و تلمسانی کا ہو کیونکہ سب کا منبع اور مقصود ایک ہی ہے:[عبارتنا شتى و حسنك واحد]

ہمارے پیرائے مختلف لیکن مقصود تیرا ہی بیان ہے۔

دکتور خلیل ہر اس قائلين وحدة الوجود کے وحدۃ الوجود پر اتفاق اور وحدۃ الوجود کی تعبیر پر اختلاف ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

[ومهما يكن من فرق بين هذه الاقوال الثلاثة فهي متقاربة جدا لان جوهرها و احد]

ان تینوں اقوال میں جتنا بھی فرق کر لیا جائے پھر بھی یہ ایک دوسرے کے بہت زیادہ قریب ہیں کیونکہ ان کی جوہری حقیقت ایک ہی ہے۔ [شرح النونية للهراس:63/1]

قرآن وسنت سے توحید کی تین قسمیں معلوم ہوتی ہیں:

اور علماء اہل السنۃ والجماعۃ بھی انہی تینوں کو بیان کرتے ہیں، جو کہ:
① توحید ربوبیت

② توحید الوہیت

③ توحید فی الاسماء والصفات ہیں۔

توحید وجودی کا ذکر قرآن وسنت میں نہ صراحت ہے، اور نہ ہی اشارہ و دلاله، صحابہ تابعین، تبع تابعین اور ائمہ اہل السنۃ والجماعۃ میں سے کسی نے توحید وجودی کا ذکر نہیں کیا ہے۔

اس کو آپ توحید وجودی کہو یا توحید کفری یا شر کی جو نام بھی رکھو وہ باطل ہے تو حید نہیں ہے۔ کیونکہ تو حید وہ ہے جس کو انبیاء و مرسلین نے بیان کیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ شعراء میں چند انبیاء کا ذکر کیا ہے ان میں سے ہر ایک کے بارے میں فرمایا کہ وہ اپنی اپنی قوم کو یوں کہتے:

[اِنِّیۡ لَکُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِیۡنٌ]،[فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ]

[بے شک میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں]،[ پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو] [الشعراء:108،107]

اس کی تفسیر مفسرین یوں کرتے ہیں:

[فاتقو الله بطاعته وعبادته، واطيعون، فيما أمر كم به من الايمان والتوحيد]

اللہ کی عبادت واطاعت کے ساتھ اس سے ڈرو اور ایمان و توحید کے متعلق جو میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس میں میری اطاعت کرو۔ [معالم التنذيل:121/6]،[ابوالسعود:254/6]

معلوم ہوا کہ توحید وہی ہے جو اللہ نے بذریعہ انبیاء و مرسلین سکھائی۔ اور جو کوئی اپنی طرف سے ایک نظریہ اور عقیدہ بنا کر اس کا نام تو حید رکھے یا اس کو توحید سمجھے وہ اللہ کو منظور نہیں۔ بہر حال عقیدہ وحدة الوجود کو توحید وجودی کہو، شرک وجودی کہو یا کفر وجودی یہ نظریہ کفرہی کفر اور زندقہ ہے۔

ڈاکٹر اسرار صاحب فرماتے ہیں:

شیخ ابن عربی کے بارے میں عرض کر چکا ہوں کہ جہاں تک حقیقت و ماهیت وجود کے بارے میں ان کی رائے کا تعلق ہے اُس سے متفق ہوں، میرا مسلک بھی وہی ہے۔ [سورة الحدید کی مختصر تشریح صفحه:91]

ہمیں کوئی اعتراض نہیں کہ آپ ابن عربی کا عقیدہ و مسلک اپناتے ہیں، یا اور کسی کا ہم بحیثیت ایک مسلمان آپ کے لئے انبیاء کا عقیدہ و نظریہ و مسلک پسند کرتے ہیں۔ اگر آپ ابن عربی سے موافق ہیں اور آپ کا بھی وہی مسلک ہے جو ابن عربی کا تو آپ کو یہی مسلک نصیب ہو۔

① ابن عربی کا عقیدہ:

اب آپ ذرا ابن عربی کا عقیدہ و نظریہ پڑھیں: وہ کہتا ہے کہ کائنات کا وجود عین اللہ کا وجود ہے۔ کائنات کا وجود اللہ کے وجود سے غیر نہیں اور اللہ کے سوا قطعا کوئی چیز موجود ہی نہیں [حتی کہ جنات شیاطین، کفار، فساق، کتے، خنزیر، نجاسات، کفر فسق اور نافرمانی] سب کا وجود عین وجود رب ہے۔ یہ چیزیں اللہ کی ذات سے جدا نہیں اگرچہ یہ اللہ کی مخلوق و مربوب بنے ہوئے اور اس پر قائم ہیں۔

[درء تعارض العقل والنقل:118/6]،[التبصره في الدين:116]،[الفرق بين الفرق:275،273/3]

ابن عربی لکھتا ہے:

[من عرف ما قررناه علم ان الحق المنزه هو الخلق المشبه]

جو کچھ ہم نے ثابت کیا اس کو جو جان لے گا اسے معلوم ہو جائے گا وہ حق جو تمام عیوب و نقائص سے پاک ہے مخلوق کی صورت تشبیہ دیا گیا ہے۔ [فصوص الحكم:78]

نیز لکھتا ہے:

[واذا اعطاه الله المعرفة بالتجلي كملت معرفته بالله]

[رأى سريان الحق في الصور الطبعية العنصرية، و ما بقيت له صورة الأويرى عين الحق عينها]

جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو تجلی کے ساتھ اپنی مکمل معرفت دی، [حالانکہ انبیا کو اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت دلائل و براہین سے دی تھی نہ کہ تجلی کے ساتھ] تو یہ شخص حق تعالیٰ کا عنصری طبیعت کی صورتوں میں حلول ہونا دیکھے گا، اور اللہ کے لئے کوئی صورت نہیں رہ جاتی مگر وہ اللہ کی ذات کو عین اس طبیعت عنصری کی ذات دیکھتا ہے۔ [الفصوص:328]

پھر لکھتا ہے:

[فان شهد النفس كان مع التمام كاملا فلا يرى الا الله في عين كل ما يرى فيرى الرائي عين المرئ]

جب نفس پورے کمال کے ساتھ حاضر ہو تو وہ اللہ کے سوا کچھ نہیں دیکھتا ہے جو کچھ دیکھتا ہے اس کی ذات میں دیکھنے والا عین دیکھا ہوا نظر آتا ہے۔[فصوص:349]

نیز لکھتا ہے:

[فالعالم يعلم من عبدو فى اى صورة ظهر حتى عبدوان التفريق والكثرة كالاعضاء في الصورة المحسوسة وكالقوى المعنوية في الصورة الروحانية ، فما عبد غير الله في كل معبود] [الفصوص]

پس عالم اپنے معبود کو جانتا ہے جس صورت میں بھی وہ معبود ظاہر ہو بہر حال عبادت تو اُسی کی ہوتی ہے۔ [خواہ کتے کی صورت میں ہو یا گدھی اور خنزیر کی صورت میں کیونکہ اس کے نزدیک یہ موجودات اللہ ہی ہیں بعینہ و بذاتہ۔ ایک وجود کے بغیر دوسرا کوئی وجود ہی نہیں]۔ یہ الگ الگ اور کثیر جو نظر آتے ہیں تو یہ سب صورت محسوسہ میں اعضاء اور صورت روحانیہ میں قوة معنوی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہذا جس معبود کی بھی عبادت ہو وہ اللہ ہی کی عبادت ہے۔ خواه بت، جن کتا یا خنزیر ہو]۔ اگر ڈاکٹر صاحب کو قرآن وسنت کے نظریہ اور انبیاء و مرسلین کے مسلک سے ہٹ کر ابن عربی کا مسلک پسند ہے تو انہیں نصیب ہو!

② صفات الہیہ کے بارے میں ڈاکٹر اسرار صاحب کا عقیدہ:

ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ [صفت کے بارے میں] متکلمین کا متفقہ فیصلہ ہے کہ لا عين ولا غير ،،یعنی صفات نہ عین اللہ میں نہ غیر،، [سورۃ الحدید کی مختصہ تشریح۔ ص 69]

ڈاکٹر صاحب نے دعوئی تو متفقہ فیصلہ کا کیا مگر متکلمین کا تعین نہیں کیا یعنی دو متکلمین اسلامیین یا متکلمین ملحدین۔ آئیے میں بتاتا ہو کہ ،،لا عين ولا غیر،، نہ متکلمین کا متفقہ فیصلہ ہے اور نہ ہی ،،لاعين ولا غیر،، اسلامی متکلمین کا نظریہ ہے۔ بلکہ فلاسفہ لا غیر اور کرامیہ لاعین کا مذہب رکھتے تھے۔ رمضان آفندی شرح عقائد تفتازانی میں فرماتے ہیں:

[ليست عين الذات كما ذهب اليه المعتزلة والفلاسفة، ولا غير الذات، كما زعمت الكراميه]

یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات نہ عین ذات ہے، جیسے معتزلہ اور فلاسفہ کہتے ہیں۔کہ صفات عین ذات ہیں اور نہ ہی غیر ذات ہیں۔ جیسےکہ کرامیہ کہتے ہیں، کہ صفات غیر ذات ہیں۔ [الحاشية لرمضان أفندى على شرح العقائد للتفتازني:221]

متکلمین اسلامیین اور علماء [اہل سنت] اس چکر میں پڑتے ہی نہیں، بس وہ کہتے ہیں کہ اللہ کی ذات متصف ہے تمام صفات کمال کے ساتھ، یہ صفات کمال اُس ذات جلال سے منفک [جدا] نہیں ہوتیں۔

عجیب بات ہے ایک طرف ڈاکٹر صاحب ابن عربی کے عقیدے و مسلک سے چمٹے ہوئے اقرار کرتے ہیں کہ: میں اس سے متفق ہوں اور میرا مسلک بھی وہی ہے۔ [سورہ الحدید کی مختصر تشریح ص:91]

دوسری طرف خالق و مخلوق کے درمیان برف و پانی کی مثال دینے کے ساتھ ربط و تعلق کو بیان کرنے کو شرک قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

گویا ہر شئے خدا ہے اور ہر شئے الوہیت کی حامل ہے، اس سے بڑا شرک اور کیا ہوگا؟ یہ ہمہ اوست کا نظریہ ہے۔ [سورۃ الحدید کی مختصر تشریح، ص:52]

پھر فرماتے ہیں: اگر یہ کہا جائے کہ خالق و مخلوق کے درمیان ساری نسبتیں جو ہماری عقل میں آرہی ہیں، یہ قابل قبول نہیں ہیں تو پھر ایک ہی وجود ماننا پڑتا ہے، جو خالق کا وجود ہے۔ اس نظریہ کو توحید وجودی کہا جاتا ہے۔ [ص:52] اس کے لئے مولانا مناظر احسن گیلانی، شیخ احمد سرہندی، شاہ ولی اللہ الدہلوی، ابن عربی اندلسی کی تعبیرات ذکر کی ہیں۔ پھر فرماتے ہیں کہ میرا مسلک بھی وہی ہے۔ عجیب ہے!!! نظر یہ ہمہ اوست تو بڑا شرک اور نظریہ وحدة الوجود بڑا اسلام! فرق صرف یہ ہے کہ ہمہ اوست میں لفظ توحید نہیں اور وحدۃ الوجود کے ساتھ لفظ تو حید لگا کر توحید وجودی کہہ دیا۔

③ ہمہ اوست اور ایک وجود ماننا:

قارئین کرام: ذرا سوچئے ،،ہمہ اوست،، اور ایک ہی وجود ماننا پڑتا ہے۔ جو خالق کا وجود ہے،، میں کیا فرق ہے؟ ،،ہمہ اوست،، کا مطلب بھی یہ ہے کہ کائنات میں جو کچھ نظر آتا ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ ہر چیز اللہ ہے۔ اور ایک ہی وجود ماننا پڑتا ہے جو خالق کا وجود ہے۔ کا مطلب بھی یہی ہے کہ کائنات میں جو موجودات ہیں ان کے وجود کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ ہر موجود ہی اللہ ہے۔ نظریہ ہمہ اوست کیسے شرک؟ اور نظریہ ایک ہی وجود ماننا پڑتا ہے [وحدة الوجود]کیسے توحید؟ قربا شوم اللہ را یک بام دو ہوا۔

معلوم یوں ہوتا ہے کہ ،،ہمہ اوست،، کی اصطلاح ان ملحدین کی تھی جنہوں نے اسلام کا لبادہ نہیں اوڑھا اور وحدۃ الوجود کی اصطلاح ان ملحدین کی ہے جنہوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام اور اسلامی عقیدہ کی بیخ کنی کی جیسے ابن عربی، ابن سبعین، عفیف تلمسانی و غیرہم۔

ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں: یہ ہے وحدت الوجود اور وحدت الشہود کا نظریہ جسے شاہ ولی اللہ نے توحید وجودی سے تعبیر کیا ہے۔ اس کی تعبیر لا معبود الا الله ہے۔ [سورة الحدید کی مختصر تشریح ص:55]

یه تعبیر در حقیقت کلمہ توحید لا اله الا الله سے نفرت کی مظہر ہے کیونکہ ابن عربی اور ان کے ہم مسلک کی مراد لا معبود الا اللہ ہے یہ ہے کہ: [فما عبد غير الله في كل معبود]

یعنی جس معبود کی بھی عبادت کی جائے تو وہ غیر اللہ کی عبادت نہیں بلکہ اللہ ہی کی عبادت ہے۔ [شرح النونية ص:62، بحواله فصوص الحكم]

امام برہان الدین البقاعی رحمہ اللہ ان الفاظ کو ،،لا اله الا الله،، کی بجائے استعمال کرنے کے گر بتاتے ہیں:

[ولعل في هذا ما يكشف لك عن علة مقت الصوفية لكلمة التقوى والتوحيد لا اله الا الله ” وقولهم بدلا عنها ،،ليس الا الله،، او ،،لا هو الا هو،، و بهذا دان الغزالي وقرره في مشكاةالانوار ،،او،، ،هو الله، او ،،هو هو،، مصرع التصوف]

ہو سکتا ہے کہ آپ کو صوفیہ کے تقویٰ اور توحید کے کلمہ ،،لا اله الا اللہ،، کو بُرا سمجھنے کے گر معلوم ہو جائیں کہ وہ ،،لا اله الا الله،، کے بدل میں یا تو لیس ،،إلا الله،، کہتے ہیں یا ،،لا هُوَ إِلَّا هُوَ،، اور غزالی بھی اس کو دین سمجھتے ہیں اس نے اس بات کو مشکاۃ الانوار میں ثابت کیا ہے اسی طرح ،،هو الله،، اور ،،هُوَ هُو،، بھی تصوف کے کلمے ہیں۔ [ص:62]

جیسے میں نے عرض کیا ابن عربی کا مقصد لا معبود الا هو سے یہ ہے، کہ جس کی بھی عبادت ہو وہ اللہ ہی کی عبادت ہے۔ کیونکہ اللہ اور غیر اللہ میں فرق نہیں، کیونکہ ایک ہی وجود ماننا پڑتا ہے، جو خالق کا وجود ہے۔ ابن عربی اور ان کے ہم مسلک کے ہاں خالق و مخلوق میں فرق شرک ہے۔ اور ایک وجود ماننا توحید ہے۔ ابن عربی سے کسی نے کہا کہ فصوص الحکم میں تو قرآن کی بہت مخالفت ہے۔ کہنے لگا: [القرآن كله شرك وانما التحقيق في كلامنا] یعنی قرآن تو شرک سے بھرا ہے توحید کی تحقیق ہماری بات میں ہے[کہ ہم ہر چیز کو عین اللہ مان کر وحدت الوجود کے قائل ہیں]۔ [توضيح الكافية الشافية ص:176]

امام عبد الرحمن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[قاتل الله من عد هو الطائفة من امة محمد ﷺ وهم براء من جميع الانبياء ولا اظن احد يعرف قولهم وفي قلبه مثقال ذرة من ايمان فيستريب في أمرهم و يعرف انهم مباينون الدين كل المباينة]۔

اس شخص کو اللہ ہلاک کرے جو اس جماعت [ابن عربی] کو امت محمدیہ میں شمار کرتا ہے۔ حالانکہ یہ جماعت تمام انبیاء کے دین سے بری ہے۔ میں یہ خیال نہیں کرتا کہ کسی کو ان کا قول معلوم ہو اور اس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہو پھر وہ اُن کے [کفر کے] بارے میں شک کرے بلکہ وہ پہچان جائے گا کہ یہ لوگ دین سے کامل طور پر جدا ہیں۔ [توضيح النونيه،ص:177]

④ لا مقصود، لا مطلوب، لا محبوب إلا الله:

نیز ڈاکٹر اسرار صاحب فرماتے ہیں: ،، اور بلند سطح پر ،،لا مقصود الا الله، لا مطلوب الا الله اور لا محبوب الا الله،



ڈاکٹر صاحب نے اس کو بلند سطح اس لئے کہا کہ ان الفاظ سے قرآن کا انکار ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عبادت کے تین فوائد بار بار قرآن کریم میں بتائے ہیں: رضائے الہی ، دخول جنت ، نجات جہنم جبکہ ،،لا مقصود الا الله،، لا مطلوب الا اللہ،، میں بات یہ ہے کہ جہنم سے نہ نجات مقصد ہے، اور نہ جنت مطلوب ہے ۔بلکہ ،،لا محبوب الا الله،، اگر مقصود و مطلوب ہے تو صرف محبوب ہے جو کہ اللہ ہے۔

دیکھو: اس مفہوم کو شعرانی اور مکی نے واضح کیا ہے وہ کہتے ہیں، ،،لا نعبد الا الله ، لا لأجل الجنة،، ہم اللہ کی عبادت کرتے ہیں لیکن جنت لینے کے لئے نہیں۔ [قوت القلوب:56]،[الانوار القدسية:34/2]

حالانکہ اہل السنۃ والجماعة کا متفقہ عقیدہ ہے کہ ،،ألا يمان بين الرجاء وَالْخَوْفِ،،  ایمان اللہ کی رحمت کی امید اور اللہ کے عذاب سے خوف کا نام ہے، جنت اللہ کی رحمت کا مظہر ہے اور جہنم اللہ کے غضب کا جبکہ، ابن عربی اور اس کی جماعت والے کہتے ہیں کہ،،لا مقصود ولا مطلوب إلا الله،، یعنی نہ جہنم سے نجات مقصد ہے اور نہ جنت مطلوب ۔ حالانکہ یہ بھی اہل السنۃ والجماعۃ کا مشہور مسئلہ ہے کہ:

[ من عبد الله بالحب وحده فهو ،،زنديق،، و من عبد بالرجاء وحده فهو ،،مرجئى،، ومن عبده بالخوف وحده فهو ،،حروري،، ومن عبده بدون الاخلاص فهو ،،المرائي المنافق،، ومن عبده بدون اتباع السنة فهو ،،مبتدع راهب ضال،، ومن عبده بالحب والخوف والرجاء فهو ،،مؤمن موحد،،]

یعنی جس نے صرف محبت کی بناء پر اللہ کی عبادت کی وہ ،،زندیق،، ہے۔ اور جس نے صرف امید کی بناء پر عبادت کی تو وہ ،،مرجئی ،، ہے۔ اور جس نے صرف خوف کی بناء پر عبادت کی تو،، حروری خارجی،، ہے اور جس نے بغیر اخلاص کے عبادت کی تو وہ ،،ریاکار منافق،، ہے۔ اور جس نے سنت نبوی کے بغیر عبادت کی تو وہ ،،بدعتی گمراہ صوفی ،،ہے۔ اور جس نے محبت ، خوف اور امید کی بناء پر عبادت کی تو وہ مؤمن موحد ہے۔ [الماتريديه للدكتور شمس رحمه الله: 189/3بتغير يسير]

دیکھو اہل سنت ،،لا مقصود الا الله ، لا مطلوب الا الله اور لا محبوب الا اللہ،، والوں کو زندیق کہتے ہیں۔

پھر ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ مزید او پر جا کر اس کی تعبیر ،،لا موجود الا اللہ،، سے کی جاتی ہے۔ [سورۃ الحدید کی مختصر تشریح ، ص 55]

مطلب یہ کہ کفر کی چوٹی (ذروة سنام) تک انسان ،،لا موجود الا اللہ،، کے عقیدہ سے پہنچ جاتا ہے۔ کیونکہ یہ ڈگری لا مقصود ، لا مطلوب اور لا محبوب سے شریعت کی نگاہ میں زیادہ باطل ہے۔ کیونکہ اس میں صراحت ہے کہ یہ پوری کی پوری کائنات اللہ ہے۔

ڈاکٹر شمس الدین سلفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[لان هذا صريح في ان السماء والأرض و ما فيهما من الأجسام العظام كالجبال والأجرام والأشجار والأحجار والبحار والأنهار بل الدواب والكلاب والقردة والخنازير وآنية الخمور و آلات المزامير، وغيرها هو الله بعينه، نعوذ بالله من هذا الكفر البواح والحاد الصراح]

،،لا موجود الا اللہ،، کا نظریہ اور عقیدہ اس لئے باطل ہے کہ اس نظریہ کے تحت آسمان اور زمین اور جو کچھ اس میں ہے جس میں یہ بڑے بڑے پہاڑ ، اجرام فلکی، درخت، پتھر، سمندر، نہریں بلکہ یہ چوپائے ، کتے ، بندر، خنزیر، شراب کے برتن اور آلات موسیقی وغیرہ یہ سب بعینہ اللہ ہیں۔ اس ننگے کفر اور صریح الحاد سے ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ پکڑتے ہیں۔ [الماتريديه:192،191/3]

ڈاکٹر اسرار صاحب فرماتے ہیں: اس کے بعد جی میں آئے تو آپ اس نظریے کو اٹھا کر پھینک دیں۔ آپ کو وہ نا قابل قبول نظر آئے تو بالکل ٹھکرا دیں۔ [سورۃ الحدید کی مختصر تشریح ص:55]

جب کہ ڈاکٹر صاحب خود اسے ٹھکرانے اور اٹھا پھینک دینے کی اجازت دے رہے ہیں، تو اس سے معلوم ہوا کہ یہ نظریہ درست نہیں اگر حق [درست] ہوتا تو آپ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ایک حق عقیدہ اور قرآن وسنت سے ثابت شدہ نظریہ اور عقیدہ و مسلک کو ٹھکرانے اور پھینک دینے کی اجازت کیسے دیتے؟ پھر اس نظریے کو پھیلانے اور اس میں اپنے اور دوسروں کی دماغ خوری کر کے وقت ضائع کرنے کرانے کی آخر کیا ضرورت؟

اللہ را!! ذرا اپنے نظریئے اور مسلک پر غور فرمائیں۔

پھر فرماتے ہیں: اور جن لوگوں نے اس نظریہ کو مانا ہے ان کی توہین نہ ہوا ان کےبارے میں سوء ظن نہ ہو۔ [سورۃ الحدید کی مختصر تشریح ،ص:55]

جب ہمیں معلوم ہے کہ یہ نظریہ وحدة الوجود سو فیصد غلط ہے۔ اس پر اللہ کی کتاب او رسول اللہﷺ کی احادیث، اجماع امت گواہ ہے تو پھر ہمیں شرعاً اس نظریہ والوں کی اہانت اور ان کے بارے میں سوء ظن جائز ہے بلکہ ہم پر فرض ہے۔ کیونکہ ایک شخص کہتا ہے کہ اللہ اور کتے میں فرق نہیں، اللہ اور خنزیر میں مغایرت نہیں۔[معاذ اللہ] تو ایسے شخص کی اہانت اور اس کے بارے میں سوء ظن کس طرح نہ رکھیں؟

⑤ ڈاکٹر صاحب کے ہاں وحدت اور غیریت کا مفہوم:

ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں: ایک اعتبار سے یہ عین ہیں، اور ایک اعتبار سے غیر ہیں ۔ ماہیت وجود میں اتحاد ہے الخ ۔ (یعنی) اللہ اور کائنات، افراد کا ئنات کے وجود کے دو اعتبار ہیں، ایک مطلق وجود، دوم باعتبار ظہور مطلق وجود کے اعتبار سے اللہ بھی اللہ ہے، مردبھی اللہ ہے، بیوی بھی اللہ ہے، کتا بھی اللہ ہے، خنزیر بھی اللہ ہے لیکن ظہور کے اعتبار سے فرق ہے۔ ابن عربی فصوص الحکم میں کہتا ہے: [فالعالم يعلم من عبدو فى اى صورت ظهر حتى عبد وان التفريق والكثرة كا لأعضاء المحسوسة والقوى المعنوية في الصورة المعنوية فما عبد غير الله في كل معبود ]

عالم اپنے معبود کو جانتا ہے جس صورت میں بھی وہ معبود ظاہر ہو تو اس کی عبادت ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جسم کے اعضاء جسم سے غیر نہیں اور قوة نفسی، نفس سے الگ نہیں اسی طرح اگر یہ تعدد اور کثر نے در کثرت نظر میں آتے ہیں تو وہ اللہ کے غیر نہیں۔

اللہ کا وجود ،مرد کا وجود، اس کی بیوی کا وجود اور مجامعت کا وجود جو کہ میاں بیوی کرتے ہیں،سب ایک وجود ہیں۔ اس میں غیر نہیں اس لئے سب ایک ہی معبود ہیں۔ اگر مرد کی صورت میں ظہور ہو تب بھی معبود، اگر بیوی کی صورت میں ہو تب بھی معبود، اگر مجامعت کی صورت میں ظہور ہو تب بھی معبود۔  ،،فما عبد غير الله فی کل معبود،، سب ایک ہی ذات کے وجود ہیں۔ یہی وحدۃ الوجود کا مطلب ہے۔ ہر چند کہے کہ اس کا مطلب ہمہ اوست نہیں یا ہر چند کہے کہ وحدۃ الوجود اور ہمہ اوست کے درمیان ایک باریک فرق ہے، اس باریک فرق کو ابن عربی نے [فما عبد غير الله في كل معبود] کہہ کر مٹا دیا۔ اگر ہمہ اوست کفر و شرک ہے تو وحدۃ الوجود بطریق اولی کفر و شرک ہے۔ [فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ]

ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں: تو اس بارے میں خوامخواہ تصور پیدا ہو جاتا ہے…. الخ [ سورة الحدید کی مختصر تشریح، ص:57]

یہ خوامخواہ کا تصور شیطانی ہے اس کو ترک کرنا چاہئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:[یأتی الشيطان أحد كم، فيقول من خلق كذا؟ من خلق كذا؟ حتى يقول: من خلق ربك؟ فاذا بلغه، فليستعذ بالله ولينته]

شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور تمہارے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا ہے؟ فلاں چیز کس نے پیدا کی؟ حتی کہ کہتا ہے کہ تیرے پروردگار کو کس نے پیدا کیا؟ جب کسی شخص کو ایسا وسوسہ آئے تو اس پر لازم ہے کہ اللہ سے پناہ مانگے اور اس شیطانی خیال کو چھوڑ دے۔ [بخاری:3276]

خوامخواه تصورات پیدا کرنے کی ضرورت نہیں جب اس طرح کا تصور آ جائے تو [اعوذ بالله من الشيطان الرجیم] کہہ کر اس تصور کو چھوڑ دو ورنہ اسی طرح وحدۃ الوجود کے گھڑے میں گر جاؤ گے۔

⑥ ڈاکٹر صاحب کا اعتراف حقیقت:

ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں: حقیقت کی تعبیر کے لیے سادہ اور عام فہم الفاظ وہی ہوں گے جو رسول کریمﷺ نے اختیار کئے۔ [سورۃ الحدید کی مختصر تشریح ص:57]

اس حقیقت کے اعتراف کے بعد اضافی نسبتوں کے طلب کرنے کی کیا ضرورت پڑی۔ انہی سادہ اور عام فہم نبوی الفاظ پر اکتفاء کیوں نہیں کیا اور فلسفیانہ موشگافیوں میں پڑ کر اپنا ایمان خراب کیوں کیا؟

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:

[ اما السلف والائمة فلم يدخلوا طائفة من الطوائف فيما ابتدعوه من نفى أو اثبات، بل اعتصموا بالكتاب والسنة، ورأ وا ذلك هو الموافق، لصريح العقل فجعلوا كل لفظ جاء به الكتاب والسنة من اسمائه وصفاته حقا يجب الايمان به — ورأ وا أن الطريقة التي جاء بها القرآن هي الطريقة الموافقة لصريح المعقول و صحيح المنقول وهي طريقة الانبياء والمرسلين]

سلف اور ائمہ ان اصطلاحات و تعبیرات میں کسی ایسی جماعت میں داخل نہیں ہوئے کہ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات کے اثبات و نفی کے بارے میں کوئی نظریہ اپنی طرف سے گھڑا ہو۔ بلکہ انہوں نے کتاب وسنت کو تھام لیا اور یقین کیا کہ یہی کتاب وسنت ہی عقل صریح کے موافق ہے۔ انہوں نے ہر اس لفظ کو جو قرآن وسنت میں اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کے متعلق وارد تھا اس کو حق سمجھا اور اس پر ایمان لانا واجب قرار دیا۔ اور اسی طریقہ کو جو قرآن وسنت میں وارد ہے عقل صریح اور نقل صحیح کے موافق سمجھا یہی انبیاء و مرسلین کا طریقہ ہے۔ [مجموع الفتاوى:25/6]

اگر ہم بھی قرآن وسنت میں جو وارد ہے اس کو حق سمجھ کر اُس پر ایمان کو واجب سمجھتے تو کسی بھی منطقی فلسفے اور موشگافیوں میں نہ پڑتے۔ [ولكن لله في عباده شئون]

ڈاکٹر صاحب اقرار کرتے ہیں کہ: چونکہ قرآن مجید فلسفیانہ انداز اختیار کرنا نہیں چاہتا ہے۔ لہذا وہ الفاظ اختیار کر لئے گئے جن کو ایک عام آدمی اور ایک بدو بھی پڑھ کر گزر جائے، اور اسے کوئی اشکال نہ ہو۔ اور اگر اسے زیادہ وقت ہو تو حدیث نبوی کے حوالے سے اس کی مشکل حل ہو جائے گی اور وہ بڑی سہولت کے ساتھ یہاں سے گزر جائے گا۔ [ص:58]

ڈاکٹر صاحب کے اس اقرار سے معلوم ہوا کہ قرآن کا جو غیر فلسفیانہ انداز ہے۔ وہ عام فہم اور بہتر ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

[وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرِ]

اور بے شک ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کر دیا ہے کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔

[يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ]

اللہ تعالیٰ کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے سختی کا نہیں۔

یہ بات بھی معلوم ہو کہ حدیث نبوی قرآن کی شرح ہے قرآنی مشکلات حدیث نبوی سے حل ہوتی ہیں فلسفیانہ انداز سے نہیں۔

⑦ اعتراف حقیقت کے بعد ڈاکٹر صاحب کا انکار:

اس اقرار کے بعد ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں: لیکن کائنات کے اس پورے سلسلہ تخلیق کے ساتھ اللہ تعالٰی کی ذات کا ربط یہ ہے کہ وہ اس کا غیر نہیں ہے۔ [سورۃ الحدید کی مختصر تشریح، ص:58]

کاش ڈاکٹر صاحب نے اوپر جو حق کا اقرار کیا، اس پر ٹھہر جاتے اس اقرار کو انکار سے نہ بدلتے، اس کا غیر نہیں کا منطقی نتیجہ اور عکس یہ ہے کہ وہ اس کا عین ہے۔ مطلب ہوا کہ اللہ اورکا ئنات کے درمیان جدائی ممکن نہیں کیونکہ مغایرت کا مطلب ہی یہ ہے دونوں میں سے ایک کا وجود دوسرے کے بغیر ممکن ہو اور ایک کی دوسرے سے جدائی متصور ہو۔ جب اللہ تعالٰی کا ئنات سے غیر نہیں تو مطلب یہ ہوا کہ اللہ عین کا ئنات ہے۔ اور کائنات عین اللہ ہے، یہ تو صریح الحاد، قبیح کفر اور رب کا انکار ہے۔ یہ کفر تو نصاری کے کفر سے بھی بدتر ہے۔

دکتور محمد خلیل ہراس رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[هل تقول بان وجود الله غير وجود هذه الأكوان أو تراه عينها فاذا نفى مغايرة وجوده سبحانه لوجود خلقه- وقال: بل هو عينها وليس هناك غيران، فقد اتشح بثوب الاتحاد وصرّح على نفسه بالكفر وجحد وجود الرب جل شأنه بل كان أشد كفرا من النصارى عبدة الصلبان لأنهم لم يقولوا باتحاده سبحانه بجميع خلقه، ولكنهم خصوا ذلك بالمسيح وأمه مريم العذراء واما هذا الاتحادي فقد زعم ان الله متحد بجميع خلقه بما فى ذالك الحيوانات المنحطة من القردة و الخنازير و نحوها فلم يصنه عن الاتحاد بهذا الحيوانات وغيرها من المستقذرات]

یعنی اس (لا غیر) والا نظریہ رکھنے والے سے کہیں گے کہ کیا تو یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ان موجودات کے وجود سے غیر ہے یا تیرا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود عین وجود کائنات ہے؟ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے وجود کی اس کی مخلوق کے وجود سے مغایرت کی نفی کر دے بلکہ کہے اللہ کا وجود عین وجود کائنات ہے۔ یہاں دو غیر نہیں۔ تو اس نے وحدۃ الوجود کا اقرار کر لیا۔ اور اپنے کفر پر صراحت کی اور رب کے وجود کا انکار کیا بلکہ یہ نصاریٰ صلیب کے پجاریوں سے سخت کافر ہے کیونکہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ کا اتحاد تمام مخلوق سے ہے جبکہ عیسائیوں نے اس اتحاد کو عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ مریم علیھا السلام کے ساتھ خاص کیا ہے۔ اور اس اتحادی کا خیال ہے کہ اللہ تعالی تمام مخلوق کے ساتھ متحد ہے یہاں تک کہ ذلیل حیوانات بندر خنزیر وغیرہ جیسے کے ساتھ بھی، انہوں نے اللہ کو ان حیوانات و غیرہم اور گندگیوں سے بھی نہیں بچایا۔

[شرح النونيه للدكتور خليل هراس:196/1]،[توضيح المقاصد:396،393/1]،[الصواعق المرسلۃ:131/4]

قارئین کرام! غور کیجیے وحدۃ الوجود کا عقیدہ اور نظریہ و مسلک جس کو ڈاکٹر صاحب اپنائے ہوئے ہیں، کتنا خطرناک ہے۔ کہ دین و ایمان کو جڑ سے نکال پھینکتا ہے۔ معاذ اللہ اگر ڈاکٹر صاحب کا موقف درست ہے، کہ کائنات، اللہ کا غیر نہیں تو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں کائنات کو  [،،من دون الله،،من دونه،،من دونك،،من دوني، ،غير الله،،اله غیرہ،،] کہہ کر فرق نہ کرتا۔ قرآن کا مطالعہ کیجیے کہ اللہ نے قرآن پاک میں (71) جگہ ،،من دون اللہ،، کا ذکر کیا اور (39) جگہ ضمیر کے ساتھ

،،من دونہ،، کا ذکر کیا ہے اور (2) جگہوں میں کاف خطاب کے ساتھ ،،من دونك،، ذکر کیا ہے اور (3) جگہوں میں یائے متکلم کے ساتھ ،،من دونی،، ذکر کیا ہے۔

اسی طرح (20) جگہوں میں لفظ ،،غیر اللہ،، کو ذکر کیا اور (10) جگہوں میں لفظ ،،مالکم من اله غيره،، ذکر کیا ہے۔ تعجب ہے ڈاکٹر صاحب مفسر قرآن ہو کر کہتے ہیں، کہ وہ اس سے غیر نہیں ہے۔ اور یہ کائنات نہ اللہ کا عین ہے، نہ غیر اور ایک ہی وجود ماننا پڑے گا۔ [فالی الله المشتكى]

اگر ڈاکٹر صاحب کا نظریہ درست ہے اور وہ اس نصیحت میں حق بجانب ہے. اور خیر خواہی مقصود ہے, تو پھر رسول اللہﷺ سے دین کو کیا پڑا تھا، کہ غیر اللہ کا رد کرتے اور اللہ نے قرآن کریم میں اس کا کیوں ذکر کیا ہے؟

⑧معیت الہی کا مفہوم:

معیت الہی کا مفہوم پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں: ذات باری تعالٰی کے بارے میں ہمارے عوام کا ایک عام تصور ہے کہ وہ کسی خاص جگہ پر موجود ہے اس کا وجود کائنات میں ہر جگہ نہیں۔ [سورۃ الحدید کی مختصر تشریح، ص: 59]

یہ تصور عوام کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا سکھایا ہو ا عقیدہ ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ نہیں، بلکہ عرش پر مستوی ہے۔ یہ عرش پر مستوی ہونا ہمیں اللہ تعالیٰ نے سکھایا ہے۔ قرآن کریم میں مختلف انداز میں سات مقامات پر فرمایا [الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى] لہٰذا یہ عام تصور قرآن کریم کا سکھایا ہوا تصور ہے۔ اس کے خلاف جو تصور و عقیدہ ہے، وہ باطل اور قرآن وسنت کے خلاف ہے۔

پھر ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں:[وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ] کے بارے میں بالعموم یہ تصور ہے۔ کہ وہ صرف اپنی صفات کے اعتبار سے ہمارے ساتھ ہے۔ یہ تو اس کی تاویل ہو گئی جبکہ الفاظ تو یہ ہیں۔ [وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ] یہ تاویل در حقیقت ان الفاظ کا حق ادا نہیں کر رہی۔ وہ ہمارے ساتھ کیسے ہے؟ یہ ہم نہیں جانتے لیکن وہ ہمارے ساتھ ہر جگہ ہر آن موجود ہے۔

[وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ] یہ الفاظ بالکل واضح ہیں ان میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں۔ [سورۃ الحدید کی مختصر تشریح، ص:59]

ڈاکٹر صاحب کی اس عبارت میں تین باتیں غور طلب ہیں:

① یہ تو اس کی تاویل ہو گئی۔

② ہمارے ساتھ کیسے ہے؟ ہم نہیں جانتے ہیں۔

③ وہ ہمارے ساتھ ہر جگہ ہر آن موجود ہے۔

① یہ تو اس کی تاویل ہو گئی:

اس میں شک نہیں کہ معیت کا معنی نصرت و مدد اور علم و احاطہ کے اعتبار سے ظاہرا نص اور حقیقت النص سے ثابت ہے۔ اور لغت عربی بھی اسی کی تائید کرتی ہے۔ اس میں کسی قسم کی تاویل نہیں اور نہ ہی لفظ کو اپنے ظاہری اور حقیقی معنی سے پھیرنا ہے۔ اس لئے کہ لفظ ،،مع،، کا اطلاق ہو تو اس سے مراد مطلق مصاحبت و مقارنت ہوتی ہے مخالطت (خلط ہونا) مماست (مس ہونا) محاذاة (برابر میں ہونا) مراد نہیں۔ ہاں اگر معانی میں سے خاص کسی کے ساتھ مقید ہو تو الگ بات ہے، جو ہم نے معنی بیان کئے ہیں وہ بغیر تاویل کے نص قرآنی سے ثابت ہیں کہ یہ معیت مخالطت و مماسات و محاذات نہیں بلکہ صفات علم و احاطہ، نصرت و مدد کے اعتبار سے ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

[وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ] ہم بے ہودہ بحث کرنے والوں کے ساتھ فضول باتیں کرتے تھے۔ [المدثر:45]

یہاں مع سے مراد خلط اور مس (Touch) ہونا نہیں بلکہ جیسے وہ فضول بات کرتے تھے ہم بھی کرتے تھے۔

[وَ بَنٰتِ خَالِکَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِکَ الّٰتِیۡ ہَاجَرۡنَ مَعَکَ] اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے۔ یہ آیت صریح ہے اس بات پر کہ یہاں معیت سے مراد خلط اور مس (Touch) ہونا نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی خالاؤں کی بیٹیوں میں سے کسی نے بھی آپ کے ساتھ ہجرت نہیں کی تھی۔ [الاحزاب:50]

[فَتَرَبَّصُوۡۤا اِنَّا مَعَکُمۡ مُّتَرَبِّصُوۡنَ] سو انتظار کرو، بے شک ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔ یہاں سب سر جوڑ کر انتظار کے لئے نہیں بیٹھے تھے۔ [التوبة:52]

[فَانۡتَظِرُوۡا اِنِّیۡ مَعَکُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِیۡنَ] سو انتظار کرو بے شک میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ [یونس:20]

[وَ ارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّیۡ مَعَکُمۡ رَقِیۡبٌ] انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ [هود:93]

یہ اور ان جیسی دیگر آیات میں معیت صرف مصاحبت پر دلالت کرتی ہیں۔ کسی حالت میں بھی مس و مخالطت ومحاذاة پر دلالت نہیں کرتیں۔ یہ عام محاورہ ہے، کہتے ہیں [الامیر مع جندہ] امیر اپنے لشکر کے ساتھ ہے ، حالانکہ امیر اپنے بالا خانوں میں ہوتا ہے اور لشکر محاذوں پر۔ اسی طرح محاورہ ہے [مازلنا نسير والقمر معنا] ہم چلتے ہی رہے اور چاند ہمارے ساتھ چاند تو چلنے والوں کے ساتھ م (Touch) نہیں تھا اور نہ خلط ملط تھا۔

جب معیت مخلوق میں بغیر مخالطت ومس اور محاذات کے جائز ہے تو اللہ کے لئے بطریق اولی جائز ہے۔ اس میں تاویل کی کوئی بات ہی نہیں۔

[وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ] اور جہاں کہیں تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے۔ [الحديد:7]

میں معیت سے مراد بغیر کسی تاویل کے علم اور احاطہ ہے۔ اس معنی پر بغیر تاویل کے آیت خود دلالت کرتی ہے آیت کی ابتداء بھی علم کے ساتھ ہے: [يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ] وہ (خوب) جانتا ہے اُس چیز کو جو زمین میں ہے۔ [الحديد:4]

اور آخر میں ہے: [وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ] اور جو تم کر رہے ہو اللہ دیکھ رہا ہے۔ [الحديد:4]

اسی طرح:[هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا] [المجادلة :7]

میں معیت سے مراد بغیر کسی تاویل کے علم و احاطہ ہے۔ آیت کی ابتداء بھی علم کے ساتھ ہے:

[أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ] کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمانوں کی اور زمین کی ہر چیز سے واقف ہے۔

اور انتہی بھی علم کے ساتھ ہے: [أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ] جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے۔

اور وسط میں بھی علم کا ذکر ہے: [ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا] انہیں ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا۔ [المجادلۃ:7]

اس طرح سورۃ طہ کی آیت میں ہے: [إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَى] میں تمہارے ساتھ ہوں اور سنتا دیکھتا رہوں گا۔ [طه:46]

لہذا اللہ کی معیت کا معنی علم و احاطہ، نصرت و مدد کرنا تاویل نہیں، بلکہ لغت و محاورہ ہی ہے۔

② ہمارے ساتھ کیسے ہے؟ ہم نہیں جانتے ہیں:

اہل السنة والجماعۃ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات جیسے قرآن وسنت میں وارد ہیں۔ ان کو بلا کیف، بلا تشبیہ، بلا تمثیل، بلا تجسیم اور بلا تعطیل ماننا لازم اور اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ اور کیفیت کا علم اللہ کے سپرد ہے، کیفیت کا سوال کرنا کہ ہمارے ساتھ کیسے ہے؟ بدعت ہے ۔ جیسے امام مالک جو اللہ کا یہ قول مشہور ہے [الاستوا معلوم والكيف مجهول والسوال عنها بدعة] لہذا یہ سوال کہ ہمارے ساتھ کیسے ہے؟ کہنا بدعت ہے۔ بس قرآن و سنت سے معیتِ علم و احاطہ بلاتا ویل معلوم ہے اور اس پر ایمان واجب ہے۔

③ ہمارے ساتھ ہر جگہ ہر آن موجود ہے:

یہ عقیدہ اور نظریہ قرآن و سنت عقل و نقل اور اہل السنۃ والجماعۃ کے اجماع کے خلاف اور منافی ہے۔ اللہ کے عرش پر مستوی ہونے اور علم احاطہ کی وجہ سے ہر جگہ ہونے پر اہل السنتہ والجماعۃ کا اجماع ہے۔

ابو عمر والطلمنکی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

[ واجمع المسلمون من اهل السنة على ان معنى قوله تعالى: هو معكم اين ماكنتم ونحو ذلك من القرآن: ان ذلك علمه وان الله فوق السموت بذاته مستو على عرشه كيف شاء]…..

یعنی مسلمانوں میں سے اہل سنت کا اجماع ہے کہ اللہ کے اس قول [وَهُوَ مَعَكُمْ] اور اس جیسی دیگر قرآنی آیات کا معنی یہ ہے کہ یہ معیت علم کے اعتبار سے ہے اور وہ ذات کے اعتبار سے آسمانوں کے اوپر عرش پر مستوی ہے جیسے استواء اس کی شان کے مطابق ہے۔ [العلو للذهبي: ص 246 رقم566]،[اجتماع الجيوش الاسلامية لا بن القيم:142]،[الفتاوى الحموية 175]،[درء تعارض العقل والنقل:250/6]

① عن ابن عباس رضی الله عنهما في قوله: [وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ ما كُنتُمْ، قال: عالم بكم اينما كنتم] وہ تم پر عالم ہے تم جہاں بھی ہو۔ [تفسير ابن كثير:67/8]،[التمهيد لابن عبد البر:139،138/8]،[الدر المنثور للسيوطي:49/8]،[الفتاوى الحمويه: ص175]

② عن مالك بن انس قال: الله عز وجل في السماء وعلمه في كل مكان لا يخلو منه شئى وتلاهذه الآية [مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَى ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ] [المجادلۃ:7]

مالک بن انس رحمہ اللہ نے فرمایا: کہ اللہ عز وجل آسمان میں ہے، اور اس کا علم ہر جگہ پر ہے۔ اللہ کے علم سے کوئی جگہ خالی نہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: [مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَى ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُم] [السنة لعبد الله بن احمد:106/1 رقم 11]

③ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ: سے کسی نے آیت[وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ] کے بارےمیں پوچھا تو انہوں نے کہا: ،،علمہ،، یہ معیت اس کے علم کی ہے۔ [السنة لعبد الله بن احمد:306/1 رقم597]،[البهيقي في الاسماء والصفات:172/2]،[الفتاوى الحموية: ص175]

④ امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ: [ما معنى قوله ،،هو معكم،، و ،،مايكون من نجوى ثلاثة الا هو رابعهم،، قال: علمه عالم الغيب والشهادة علمه محيط بكل شئى علام الغيوب، يعلم الغيب ربنا على العرش بلا حد و لاصفة]

اس آيت:[وهو معكم  او ما يكون من نجوى]… کا کیا معنی؟جواب میں فرمایا: اس کا علم (یعنی ان آیتوں میں معیت اور نجوی کا مطلب اللہ کا علم ہے) جو کہ حاضر و غائب کا عالم ہے۔ اس کا علم ہر شئی پر محیط ہے، تمام غیبوں کا جاننے والا ہے۔ غیب کو جانتا ہے، ہمارا رب عرش پر بغیر تحدید اور بغیر کسی صفت کے ہے (کہ اس کے عرش پر ہونے کی کوئی محدود صفت نہیں)۔ [اجتماع الجيوش لابن القيم:200/2]،[اصول اعتقاد اهل السنة للالكالي:402]،[الفتاى الحموية:176]

گزشتہ آیات کریمات اور اہل السنۃ والجماعة کے اقوال سے معلوم ہوا کہ [هو معكم اینما کنتم] کا معنی وہ ہمارے ساتھ ہر جگہ ہر آن موجود ہے کرنا درست نہیں بلکہ قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ وباللہ التوفیق

⑨ شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمہ اللہ پر افترا اور اس کا جواب:

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا جو واقعہ ڈاکٹر صاحب نے نقل کیا ہے، یہ غلط ہے۔ امام ابن تیمیہ  رحمہ اللہ کا قطعاً یہ موقف نہیں تھا۔ نہ یہ واقعہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اور نہ آپ کے تلامذہ نے کسی کتاب میں نقل کیا۔ اس لئے کہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور آپ کے شاگردوں کا عقیدہ اور نظریہ وہی ہے، جو امام مالک  رحمہ اللہ نے پیش کیا کہ نزول (اترنا) صفت الہی ہے یہ معلوم ہے۔ اترنے کی کیفیت مجہول ہے، اور کیفیت کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے۔ تو کس طرح امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ایک ایک سیڑھی اتر کر کیفیت بیان کر سکتے ہیں؟ سبحانك هذا بهتان عظیم

ہاں! ابن بطوطہ نے یہ جھوٹ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ پر باندھا ہے چنانچہ ابن بطوطہ نے اپنے رحلہ (110/1) میں ذکر کیا ہے وہ کہتا ہیں [ونزل درجة من درج المنبر] ليكن يہ شیخ الاسلام پر محض افتراء ہے، اس لئے کہ مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ: [الامام ابن تیمیه اعتقل بقلعة دمشق الآخر مرة في اليوم السادس من شعبان سنة 726ھ ولم يخرج من السجن الاميتا]

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو دمشق کے قلعہ میں آخر مرتبہ چھ (6) شعبان 726 ہجری میں بند کیا گیا، پھر جیل سے ان کا جنازہ ہی نکلا۔ [التعليق على ابن بطوطه:110/1]

اس بات کا اقرار خود ابن بطوطہ کرتا ہے کہ: [فامر بسجن ابن تيميه بالقلعة فسجن بها حتى مات في السجن]

ملک ناصر نے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے حبس بےجا کا حکم دیا، سو آپ کو اس قلعہ میں قید کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ جیل ہی میں آپ کی وفات ہوئی۔ [رحلة ابن بطوطه:110/1]

ابن بطوطہ کے اس الزام کی تکذیب خود ابن بطوطہ ہی کر رہا ہے،کیونکہ دروغ گورا حافظ نباشد خود ابن بطوطہ کہتا ہے، کہ میں دمشق میں 9 رمضان 726 ھ میں داخل ہوا ہوں۔ [وصلت يوم الخميس التاسع من شهر رمضان المعظم عام ستة وعشرين الى مدينة دمشق الشام فنزلت منها بمدرسة المالكيه المعروفة بالشرابشية]

یعنی میں 9 رمضان جمعرات کے دن 726ھ کی شام کو دمشق شہر پہنچا۔ شام میں مالکیوں کے مدرسہ جو شر بشیہ نام سے مشہور ہے وہاں اترا۔ [رحله ابن بطوطه:102/1]

ابن بطوطہ کے اعتراف کے بعد کہ میں 9 رمضان726 ھ دمشق پہنچا، گویا کہ وہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے جیل جانے کے  27 دن بعد دمشق پہنچا، اور اس دوران امام صاحب جیل سے نہیں نکلے اس کا بھی ابن بطوطہ خود اقرار کرتا ہے۔ کہ جیل سے امام صاحب کی میت نکلی، تو پھر ابن بطوطہ کے اس قول کی کیا حقیقت ہے کہ وہ کہتا ہے : [وكنت اذ ذاك بدمشق فحضرته يوم الجمعة وهو يعظ الناس على منبر الجامع ويذكرهم فكان من جملة كلامه ان قال: ان الله ينزل الى سماء الدنيا كنزولي هذا فنزل درجة من درج المنبر]

یعنی اس وقت میں دمشق میں تھا ان کے پاس جمعہ کے دن حاضر ہوا وہ دمشق کی جامع مسجد کے منبر پر لوگوں کو وعظ و نصیحت کر رہے تھے۔ اُنہوں نے کہا اللہ تعالیٰ اس آسمان دنیا کی طرف میرے اس اترنے کی طرح اترتے ہیں اور منبر کی ایک سیڑھی اترے۔ [رحله ابن بطوطه:110/1]

[سُبْحَانَكَ هُذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ]

امام صاحب کی پوری عمر اس دعوت میں گزری کہ اللہ کی صفات کے معانی معلوم اور کیفیات مجہول ہیں۔ اس سے متعلق سوال بدعت ہے۔ بہر حال یہ امام صاحب کے معاصرین معاندین کا اُن پر بہتان ہے۔ ورنہ امام صاحب کی کتب موجود ہیں ،خاص کر [شرح حدیث النزول] اسی موضوع پر کتاب ہے۔ کیا کوئی اس کتاب میں اللہ کی صفات کی کیفیت کا بیان دکھا سکتا ہے؟

وصلى الله على نبينا محمد واله وصحبه وسلم

اللہ کی صفات، معیت اور وحدت الوجود سے متعلق ڈاکٹر اسرار احمد کے افکار و نظریات – Nazria-Toheed-Wajoodi-Aur-Dr-Israr-Ahmad_page-0040
اللہ کی صفات، معیت اور وحدت الوجود سے متعلق ڈاکٹر اسرار احمد کے افکار و نظریات – Nazria-Toheed-Wajoodi-Aur-Dr-Israr-Ahmad_page-0067