تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { لَكُمْ فِيْهَا خَيْرٌ: ” خَيْرٌ “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”تمھارے لیے ان میں بڑی خیر ہے۔“ اس خیر میں وہ منافع بھی شامل ہیں جو آیت (۲۳) کی تفسیر میں گزرے ہیں اور ذبح کرنے کے بعد ان کے گوشت، چمڑے، ہڈیوں اور جسم کے ہر حصے سے فائدہ اٹھانا بھی شامل ہے۔ آخرت میں ملنے والا اجر و ثواب اس کے علاوہ ہے اور وہ ایسی خیر ہے جو شمار سے باہر ہے۔
➌ { فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهَا:} یہ کہنے کے بجائے کہ انھیں ذبح کرو، فرمایا، ان پر اللہ کا نام لو۔ اس لفظ کو بار بار دہرانے سے یہ بات ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ اللہ کے پیدا کیے یہ چوپائے اسی کے نام پر ذبح ہونے چاہییں، نہ کسی غیر سے کوئی مراد بر لانے کی نیت پر اور نہ کسی غیر کے نام پر۔
➍ { ” صَوَآفَّ “ ” صَافَّةٌ “} کی جمع ہے بروزن {”فَوَاعِلَ۔“} صف کا معروف معنی قطار ہے، یعنی اونٹوں کو قربان گاہ میں قطار کی صورت میں کھڑا کرکے باری باری نحر کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے قربانی کے جمال و جلال میں اضافہ ہوتا ہے، جیسا کہ جابر رضی اللہ عنہ سے مروی لمبی حدیث میں ہے: [ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلاَثًا وَسِتِّيْنَ بِيَدِهٖ ثُمَّ أَعْطٰی عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ] [مسلم، الحج، باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ۱۲۱۸۔ مسند أحمد: ۳ /۳۲۰،۳۲۱، ح: ۱۴۴۵۳]”پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربان گاہ کی طرف پلٹے اور اپنے ہاتھ سے تریسٹھ (۶۳) اونٹ نحر کیے، آپ انھیں ایک برچھے کے ساتھ زخم لگاتے تھے، پھر آپ نے وہ برچھا علی رضی اللہ عنہ کو دے دیا تو انھوں نے باقی کو نحر کر دیا (اور وہ کل سو اونٹ تھے)۔“ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت بھی منیٰ میں باقاعدہ قربان گاہ تھی، جیسا کہ آج کل حکومت نے باقاعدہ جگہیں مقرر کر رکھی ہیں اور یہ بھی کہ سب اونٹ وہاں قریب قریب جمع تھے۔ (ابن عاشور) مگر حبر الامہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے اس کی تفسیر فرمائی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اونٹوں کو تین ٹانگوں پر کھڑا کر کے نحر کیا جائے، اس طرح کہ ان کی اگلی بائیں ٹانگ اکٹھی کرکے باندھی ہوئی ہو۔ [طبري بسند ثابت] جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: [أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهٗ كَانُوْا يَنْحَرُوْنَ الْبَدَنَةَ مَعْقُوْلَةَ الْيُسْرٰی قَائِمَةً عَلٰی مَا بَقِيَ مِنْ قَوَائِمِهَا] [أبوداوٗد، المناسک، باب کیف تنحر البدن: ۱۷۶۷، و صححہ الألباني]”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اونٹوں کو اس طرح نحر کرتے تھے کہ ان کے اگلے بائیں پاؤں کا گھٹنا بندھا ہوتا اور وہ باقی ٹانگوں پر کھڑے ہوتے۔“ ابن عمر رضی اللہ عنھما ایک آدمی کے پاس سے گزرے جس نے اپنی اونٹنی بٹھا رکھی تھی اور اسے نحر کر رہا تھا تو فرمایا: ”اسے کھڑا کرکے پاؤں باندھ کر نحر کرو، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔“ [بخاري، الحج، باب نحر الإبل مقیدۃ: ۱۷۱۳] قرآن مجید کے الفاظ {” فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا “} (جب ان کے پہلو گر پڑیں) سے بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ اونٹوں کو کھڑا کرکے نحر کرنا چاہیے، کیونکہ اگر ان کے پہلو پہلے ہی زمین پر ہوں تو وہ کیسے گریں گے؟
➎ {فَاِذَاوَجَبَتْ جُنُوْبُهَا:} نحر یہ ہے کہ اونٹ کو اگلی بائیں ٹانگ بندھی ہونے کی حالت میں کھڑا کر دیا جاتا ہے، پھر اس کے سینے کے گڑھے میں، جہاں سے گردن شروع ہوتی ہے، کوئی برچھا یا نیزہ یا چھرا {”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ“} پڑھ کر مارا جاتا ہے جس سے خون کا پرنالہ بہ نکلتا ہے، بہت سا خون نکل جانے پر اونٹ دائیں یا بائیں کروٹ پر گر پڑتا ہے۔ اس کی جان پوری طرح نکلنے سے پہلے اس کی کھال اتارنا یا گوشت کا کوئی ٹکڑا کاٹنا منع ہے، کیونکہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهٗ فَلْيُرِحْ ذَبِيْحَتَهٗ] [مسلم، الصید و الذبائح، باب الأمر بإحسان الذبح…: ۱۹۵۵]”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان یعنی اس سے اچھا سلوک کرنا فرض فرمایا ہے، سو تم جب قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو اور لازم ہے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری تیز کرے اور اپنے ذبیحہ کو راحت پہنچائے۔“ اور ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيْمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهِيَ مَيْتَةٌ] [أبوداوٗد، الضحایا، باب إذا قطع من الصید قطعۃ: ۲۸۵۸۔ ترمذي: ۱۴۸۰] ”جانور کا جو حصہ اس وقت کاٹا جائے جب وہ زندہ ہو تو وہ (گوشت) مردار ہے۔“ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
➏ { فَكُلُوْا مِنْهَا …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے اس سے پہلے آیت (۲۸) کی تفسیر۔ {” الْقَانِعَ “ ”قَنِعَ يَقْنَعُ“} (ع) سے اسم فاعل ہے، قناعت کرنے والا، اللہ نے جو دیا ہے اس پر صبر کرکے سوال سے بچنے والا۔ {” الْمُعْتَرَّ “} (سوال کے لیے) سامنے آنے والا۔ {” فَكُلُوْا “} میں ”فاء“ سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے جانور کی جان پوری طرح نکلنے کے بعد جتنی جلدی ہو سکے اس کا گوشت کھانے اور کھلانے کا اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ قربانی کے گوشت ہی سے ناشتہ کرنا مستحب ہے۔ معلوم ہوا قربانی کا گوشت خود بھی کھانا چاہیے، دوست احباب، خویش و اقارب اور ان مساکین کو بھی کھلانا چاہیے جو سوال نہیں کرتے اور ان فقراء و مساکین کو بھی جو سوال کے لیے آ جاتے ہیں۔ گویا قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جا سکتے ہیں اور ضروری نہیں کہ تینوں برابر ہوں۔
➐ { كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ:} یعنی یہ ہم ہیں جنھوں نے اس طرح بے بس کرکے اتنے بڑے قوی ہیکل اونٹ اور بیل، جو طاقت میں تم سے کہیں زیادہ ہیں، تمھارے تابع کر دیے ہیں۔ تم ان سے جو فائدہ چاہتے ہو اٹھاتے ہو، ان پر بوجھ لادتے ہو، سواری کرتے ہو، دودھ پیتے ہو اور جب چاہتے ہو ذبح کر لیتے ہو، وہ اف نہیں کرتے۔ مقصد یہ ہے کہ تم ہمارا شکر ادا کرو، نہ کہ مشرکین کی طرح ان کا جن کا نہ ان چوپاؤں کے پیدا کرنے میں کوئی دخل ہے اور نہ تمھارے لیے تابع کرنے میں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[57] لفظ صواف اور معنوں میں استعمال ہو رہا ہے ایک تو ترجمہ سے ہی واضح ہے یعنی اگر قربانی کے اونٹ زیادہ ہوں تو پہلے انھیں صف بستہ کھڑا کر لیا جائے۔ پھر باری باری نحر کیا جائے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ انھیں کھڑے کھڑے ہی نحر کیا جائے۔ انھیں بٹھا کر ذبح نہ کیا جائے۔ جیسا کہ اسی سورۃ کی آیت نمبر 29 کے تحت درج شدہ حدیث نمبر 13 سے واضح ہے۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اونٹ کا اگلا دایاں یا بایاں پاؤں رسی سے باندھ دیا جائے۔ پھر کسی نیزے، برچھے یا تیز دھار آلہ کو اس کے گلے یا سامنے کے حصہ میں چبھو دیا جائے۔ تاکہ کھڑے کھڑے ہی ان کا خون نکل جائے۔
[58] خون نکلنے کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ اونٹ از خود اپنے کسی دائیں یا بائیں پہلو پر گر پڑے گا۔ اس کی کھال اس وقت نہ اتاری جائے۔ جب تک تڑپنا بند نہ کر دے۔ یا زندگی کی کچھ بھی رمق اس میں باقی ہو۔
تاہم ایسے نسخ کا مطلب اتنا ہی ہوتا ہے کہ اگر آج بھی ویسے ہی حالات سامنے آ جائیں۔ کہ محتاج بکثرت ہوں جو خود قربانی دینے کے قابل نہ ہوں یا اتفاقاً اکٹھے ہو جائیں تو آج بھی وہی پہلا حکم ہی لاگو ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
حدیث میں ہے کہ { جس طرح اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے قربان ہوسکتا ہے اسی طرح گائے بھی }۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے صحیح مسلم شریف میں روایت ہے کہ { ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم اونٹ میں سات شریک ہو جائیں اور گائے میں بھی سات آدمی شرکت کر لیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1318]
امام اسحاق بن راہویہ وغیرہ تو فرماتے ہیں ان دونوں جانوروں میں دس دس آدمی شریک ہو سکتے ہیں مسند احمد اور سنن نسائی میں ایسی حدیث بھی آئی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ تو قرض اٹھا کر بھی قربانی کیا کرتے تھے اور لوگوں کے دریافت کرنے پر فرماتے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہیں اس میں تمہارا بھلا ہے۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { کسی خرچ کا فضل اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہ نسبت اس خرچ کے جو بقرہ عید والے دن کی قربانی پر کیا جائے ہرگز افضل نہیں } }۔ ۱؎ [دارقطنی:282/4:ضعیف]
پس اللہ فرماتا ’ تمہارے لیے ان جانوروں میں ثواب ہے نفع ہے ضرورت کے وقت دودھ پی سکتے ہو سوار ہو سکتے ہو ‘،پھر ان کی قربانی کے وقت اپنا نام پڑھنے کی ہدایت کرتا ہے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں نے عید الاضحی کی نماز رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی نماز سے فراغت پاتے ہی سامنے مینڈھا لایا گیا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا «بِسْمِ اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر اللَّهُمَّ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي» پڑھ کر ذبح کیا (کہا اے اللہ یہ میری طرف سے ہے اور میری امت میں سے جو قربانی نہ کر سکے اس کی طرف سے ہے) }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں { عید والے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو مینڈھے لائے گئے انہیں قبلہ رخ کر کے آپ نے دعا «وَجَّهْت وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَات وَالْأَرْض حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيك لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْت وَأَنَا أَوَّل الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ مِنْك وَلَك عَنْ مُحَمَّد وَأُمَّته» پڑھ کر «بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهِ أَكْبَرُ» کہہ کر ذبح کر ڈالا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2795،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
{ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے اپنے اونٹ کو قربان کرنے کے لیے بٹھایا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اسے کھڑا کر دے اور اس کا پیر باندھ کر اسے نحر کر یہی سنت ہے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1713]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اونٹ کا ایک پاؤں باندھ کر تین پاؤں پر کھڑا کر کے ہی نحر کرتے تھے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1768،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سلیمان بن عبدالملک سے فرمایا تھا کہ بائیں طرف سے نحر کیا کرو۔ حجتہ الوداع کا بیان کرتے ہوئے جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے نحر کئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں حربہ تھا جس سے آپ زخمی کر رہے تھے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1218]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «صَوَافِن» ہے یعنی کھڑے کر کے پاؤں باندھ کر «صَوَافَّ» کے معنی خالص کے بھی کئے گئے ہیں یعنی جس طرح جاہلیت کے زمانے میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک کرتے تھے تم نہ کرو، صرف اللہ واحد کے نام پر ہی قربانیاں کرو۔ پھر جب یہ زمین پر گر پڑیں یعنی نحر ہو جائیں ٹھنڈے پڑجائیں تو خود کھاؤ اوروں کو بھی کھلاؤ نیزہ مارتے ہی ٹکڑے کاٹنے شروع نہ کرو جب تک روح نہ نکل جائے اور ٹھنڈا نہ پڑ جائے۔
چنانچہ ایک حدیث میں بھی آیا ہے کہ { روحوں کے نکالنے میں جلدی نہ کرو }۔ صحیح مسلم کی حدیث میں کہ { اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ سلوک کرنا لکھ دیا ہے دشمنوں کو میدان جنگ میں قتل کرتے وقت بھی نیک سلوک رکھو اور جانوروں کو ذبح کرتے وقت بھی اچھی طرح سے نرمی کے ساتھ ذبح کرو چھری تیز کر لیا کرو اور جانور کو تکلیف نہ دیا کرو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1955]
فرمان ہے کہ { جانور میں جب تک جان ہے اور اس کے جسم کا کوئی حصہ کاٹ لیا جائے تو اس کا کھانا حرام ہے }۔ [سنن ابوداود:2857،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور «مُعْتَرَّ» سے مراد دوست اور ناتواں لوگ اور وہ پڑوسی جو گو مالدار ہوں لیکن تمہارے ہاں جو آئے جائے اسے وہ دیکھتے ہوں۔ وہ بھی ہیں جو طمع رکھتے ہوں اور وہ بھی جو امیر فقیر موجود ہوں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ «الْقَانِعَ» سے مراد اہل مکہ ہیں۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ ” «قَانِعَ» سے مراد تو سائل ہے کیونکہ وہ اپنا ہاتھ سوال کے لیے دراز کرتا ہے، اور «مُعْتَرَّ» سے مراد وہ جو ہیر پھیر کرے کہ کچھ مل جائے۔“
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنے چاہئیں۔ تہائی اپنے کھانے کو، تہائی دوستوں کے دینے کو، تہائی صدقہ کرنے کو۔
اور روایت میں ہے کہ { کھاؤ جمع کرو اور صدقہ کرو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1971]
اور روایت میں ہے { کھاؤ اور کھلاؤ اور راہ للہ دو }۔ بعض لوگ کہتے ہیں قربانی کرنے والا آدھا گوشت آپ کھائے اور باقی صدقہ کر دے کیونکہ قرآن نے فرمایا ہے ’ خود کھاؤ اور محتاج فقیر کو کھلاؤ ‘۔ اور حدیث میں بھی ہے کہ { کھاؤ، جمع، ذخیرہ کرو اور راہ للہ دو }۔
اب جو شخص اپنی قربانی کا سارا گوشت خود ہی کھا جائے تو ایک قول یہ بھی ہے کہ اس پر کچھ حرج نہیں۔ بعض کہتے ہیں اس پر ویسی ہی قربانی یا اس کی قیمت کی ادائیگی ہے بعض کہتے ہیں آدھی قیمت دے، بعض آدھا گوشت۔ بعض کہتے ہیں اس کے اجزا میں سے چھوٹے سے چھوٹے جز کی قیمت اس کے ذمے ہے باقی معاف ہے۔
کھال کے بارے میں مسند احمد میں حدیث ہے کہ { کھاؤ اور فی اللہ دو اور اس کے چمڑوں سے فائدہ اٹھاؤ لیکن انہیں بیچو نہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:15/4:ضعیف]
بعض علماء نے بیچنے کی رخصت دی ہے۔ بعض کہتے ہیں غریبوں میں تقسیم کر دئیے جائیں۔
اسی لیے امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ اور علماء کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ قربانی کا اول وقت اس وقت ہوتا ہے جب سورج نکل آئے اور اتنا وقت گزر جائے کہ نماز ہولے اور دو خطبے ہو لیں۔ امام احمد رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک اس کے بعد کا اتنا وقت بھی کہ امام ذبح کر لے۔ کیونکہ صحیح مسلم میں ہے { امام جب تک قربانی نہ کرے تم قربانی نہ کرو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1964]
امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک تو گاؤں والوں پر عید کی نماز ہی نہیں اس لیے کہتے ہیں کہ وہ طلوع فجر کے بعد ہی قربانی کر سکتے ہیں ہاں شہری لوگ جب تک امام نماز سے فارغ نہ ہولے قربانی نہ کریں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب یہی ہے کیونکہ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایام تشریق سب قربانی کے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:82/4:ضعیف و منقطع] کہا گیا ہے کہ قربانی کے دن ذی الحجہ کے خاتمہ تک ہیں لیکن یہ قول غریب ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اسی وجہ سے ہم نے ان جانوروں کو تمہارا فرماں بردار اور زیر اثر کر دیا ہے کہ تم چاہو سواری لو، جب چاہو دودھ نکال لو، جب چاہو ذبح کر کے گوشت کھا لو ‘۔
جیسے سورۃ یسٰین میں آیت «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَا أَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مَالِكُونَ وَذَلَّلْنَاهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ وَلَهُمْ فِيهَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُ أَفَلَا يَشْكُرُونَ» ۱؎ [36-یس:71-73] تک بیان ہوا ہے۔ یہی فرمان یہاں ہے کہ ’ اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کرو اور ناشکری، ناقدری نہ کرو ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا دليل على أن الشعائر عامٌّ في جميع أعلام الدين الظاهرة، وتقدَّم أنَّ الله أخبر أنَّ مَنْ عَظَّمَ شعائِرَه؛ فإنَّ ذلك من تقوى القلوب، وهنا أخبر أن من جُملة شعائرِهِ البُدْنَ؛ أي: الإبل والبقر على أحد القولين، فَتُعَظَّمُ وتستسمن وتُستحسن. {لكم فيها خيرٌ}؛ أي: المهدي وغيره من الأكل والصدقة والانتفاع والثواب والأجر. {فاذكُروا اسم الله عليها}؛ أي: عند ذبحها، قولوا: بسم الله، واذْبَحوها {صَوَافَّ}؛ أي: قائماتٍ؛ بأنْ تُقام على قوائمها الأربع، ثم تُعْقَلُ يدُها اليُسرى، ثم تُنْحَر. {فإذا وَجَبَتْ جُنوبها}؛ أي: سقطت في الأرض جُنوبها حين تُسلخ ثم يسقِطُ الجزارُ جنوبَها على الأرض؛ فحينئذٍ قد استعدَّتْ لأن يُؤْكَلَ منها؛ {فكلوا منها}: وهذا خطابٌ للمهدي، فيجوز له الأكل من هديِهِ، {وأطعِموا القانعَ والمعتَرَّ}؛ أي: الفقير الذي لا يسأل تقنُّعاً وتعففاً، والفقير الذي يسألُ؛ فكلٌّ منهما له حقٌّ فيهما. {كذلك سخَّرْناها لكم}؛ أي: البدن، {لعلَّكم تشكرونَ}: الله على تسخيرها؛ فإنَّه لولا تسخيرُه لها؛ لم يكنْ لكم بها طاقةٌ، ولكنَّه ذلَّلها لكم وسخَّرها رحمةً بكم وإحساناً إليكم؛ فاحْمَدوه.