مضمون کے اہم نکات
قربانی کا حکم
قربانی واجب ہے یا سنتِ مؤکدہ، اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے، آئندہ سطور میں ہم ہر گروہ کے دلائل اور راجح مسئلہ کی نشاندہی کریں گے۔
قربانی سنتِ مؤکدہ:
جمہور علماء کا موقف ہے کہ قربانی سنتِ مؤکدہ ہے، قربانی کے سنتِ مؤکدہ ہونے کے دلائل حسبِ ذیل احادیث و آثار ہیں:
① سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أول ما نبدأ به فى يومنا هذا أن نصلي، ثم نرجع فننحر، من فعله فقد أصاب سنتنا، ومن ذبح قبل فإنما هو لحم قدمه لأهله، ليس من النسك فى شيء
”بلاشبہ ہم اپنے اس (عید الاضحیٰ کے) دن میں سب سے پہلے جس عمل سے آغاز کریں گے، وہ نماز پڑھنا ہے، پھر ہم واپس پلٹیں گے اور قربانی ذبح کریں گے۔ جس نے یہ عمل کیا، بالتحقیق اس نے ہماری سنت اختیار کی اور جس نے (نمازِ عید سے قبل) ذبح کیا، یہ محض گوشت ہے جو اس نے اپنے اہل خانہ کو جلد پیش کیا ہے، اس کی کوئی قربانی نہیں ہے۔“
بخارى، كتاب الأضاحي، باب سنة الأضحية : 5545- صحيح مسلم، صحیح بخاری، كتاب الأضاحي، باب وقتها : 1961۔
② سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من ذبح قبل الصلاة فإنما ذبح لنفسه، ومن ذبح بعد الصلاة فقد تم نسكه، وأصاب سنة المسلمين
”جس نے نماز سے قبل (قربانی) ذبح کی، اس نے محض اپنی خاطر ذبح کیا اور جس نے نمازِ عید کے بعد جانور ذبح کیا تو یقیناً اس کی قربانی پوری ہوگئی اور اس نے مسلمانوں کی سنت پالی۔“
صحیح بخاری، کتاب الأضاحي، باب سنة الأضحية : 5546۔
ان احادیث میں ”فقد أصاب سنتنا“ اور ”أصاب سنة المسلمين“ کے الفاظ دلیل ہیں کہ قربانی سنتِ مؤکدہ ہے، واجب نہیں۔
③ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا رأيتم هلال ذي الحجة، وأراد أحدكم أن يضحي، فليمسك عن شعره وأظفاره
”جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو وہ اپنے بال اور ناخنوں کو کاٹنے سے باز رہے۔“
صحیح مسلم، كتاب الأضاحي باب نهى دخل عليه عشر ذي الحجة، وهو يريد التضحية، أن ياخذ من شعره وأظفاره شيئًا : 1977 – سنن بيهقي : 266/9 – صحيح ابن حبان : 5916۔
فوائد:
① سید سابق: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ: ”أراد أن يضحي“ (جس کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو) دلیل ہیں کہ قربانی سنت ہے، واجب نہیں۔“
فقه السنة : 33/2۔
② شوکانی: ”قربانی کو ارادہ سے معلق کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی واجب نہیں۔“
نيل الأوطار : 118/5۔
③ ابن قدامہ: ”قربانی کے حکم کو ارادہ سے متعلق کیا گیا ہے، جب کہ واجب کو ارادہ سے معلق نہیں کیا جاتا، لہذا قربانی سنت ہے۔“
المغني لابن قدامه مع الشرح الكبير : 95/11 ۔
④ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ضحى النبى صلى الله عليه وسلم بكبشين أملحين أقرنين، ذبحهما بيده، وسمى وكبر، ووضع رجله على صفاحهما
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے سفید و سیاہ رنگ کے انتہائی جاذبِ نظر دو مینڈھے قربانی کے لیے ذبح کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور ذبح کرتے وقت ”بسم الله والله أكبر“ کہا اور اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھا۔“
صحيح بخارى، كتاب الأضاحى، باب التكبير عند الذبح : 5565- صحيح مسلم، كتاب الأضاحي، باب استحباب استحسان الضحية : 1966 –
یہ حدیث دلیل ہے کہ قربانی سنت ہے، واجب نہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے زیادہ سے زیادہ اس عمل کا مسنون ہونا ثابت ہوتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دائمی فعل سنتِ مؤکدہ ہوتا ہے۔
فقه السنه : 33/2-
سیدنا ابو بکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا عمل:
ابو سریحہ غفاری رحمہ اللہ بن حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں:
أدركت أبا بكر أو رأيت أبا بكر وعمر رضي الله عنهما كان لايضحيان كراهية أن يقتدى بھما
”میں نے سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ اس بات کی ناگواری کی وجہ سے قربانی نہیں کرتے تھے کہ (اس مسئلہ میں) ان کی اقتدا نہ کی جائے۔“
صحيح : سنن بيهقي : 265/9 – إروا الغليل : 1139 –
فائدہ:
سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کا قربانی نہ کرنا قربانی کے مسنون ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ اگر قربانی فرض ہوتی تو شیخین کبھی بھی اس عمل کو ترک نہ کرتے۔ اور نہ لوگوں میں اس کے عدم وجوب کا تاثر پیدا کرتے۔
ایک ضعیف اثر کا بیان:
ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے منقول اثر جو قربانی کے عدم وجوب پر دلالت کرتا ہے، ضعیف ہے۔ ابو وائل رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا:
إنى لأدع الأضحى و إنى لموسر، مخافة أن يرى جيراني أنه حتم على
”میں آسودہ حال ہونے کے باوصف اس ڈر سے قربانی چھوڑ دیتا ہوں کہ میرے ہمسائے یہ خیال نہ کریں کہ قربانی مجھ پر فرض ہے ۔“
ضعیف : سنن بیهقی : 265/9 – مصنف عبد الرزاق : 8149۔
اس سند میں سفیان ثوری اور سلیمان بن مہران اعمش کی تدلیس ہے۔
علماء کے اقوال و آراء :
① ابو عیسیٰ امام ترمذی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
والعمل على هذا عند أهل العلم أن الأضحية ليست بواجبة، ولكنها سنة من سنن النبى صلى الله عليه وسلم يستحب أن يعمل بها، وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك
”علماء اس موقف پر عمل پیرا ہیں کہ قربانی کرنا واجب نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے، جس پر عمل کرنا مستحب ہے۔ سفیان ثوری اور عبد اللہ بن مبارک کا بھی یہی قول ہے۔“
جامع ترمذی، تحت حديث : 1506 –
② امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح البخاری میں باب قائم کیا ہے: ”باب سنة الأضحية“ ”قربانی کے مسنون ہونے کا باب۔“ باندھ کر قربانی کے مسنون ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ باب قائم کر کے قربانی کے وجوب کے قائلین کی مخالفت کی طرف اشارہ کیا ہے۔
③ ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں :
”کسی بھی صحابی سے بسند صحیح قربانی کا وجوب ثابت نہیں جب کہ جمہور علماء سے قربانی کا غیر واجب ہونا ثابت ہے۔ البتہ قربانی شرائع دین میں سے ہے، اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف نہیں ہے اور شافعیہ اور جمہور علماء کے نزدیک قربانی سنت مؤکدہ ہے اور ایک توجیہہ ہے کہ شافعیہ اسے فرض کفایہ تسلیم کرتے ہیں۔“
④ ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ مالدار مقیم پر قربانی واجب ہے، مالک رحمہ اللہ بھی اسی موقف کے قائل ہیں، لیکن انھوں نے مقیم کی قید نہیں لگائی اور اوزاعی، ربیعہ اور لیث سے بھی یہی قول منقول ہے، پھر احناف میں سے ابو یوسف نے (ابو حنیفہ کی ) اور اشہب مالکی نے (امام مالک) کی مخالفت اور جمہور علماء کے موقف کی موافقت کی ہے۔
⑤ امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”استطاعت اور آسودہ حالی کے باوجود قربانی نہ کرنا مکروہ ہے اور ان سے قربانی کے وجوب کا قول بھی منقول ہے۔ محمد بن حسن شیبانی بیان کرتے ہیں : قربانی ایسی سنت ہے جسے ترک کرنے کی رخصت نہیں۔“
⑥ طحاوی کہتے ہیں: ہم اسی ( قول محمد بن حسن شیبانی کے) قول کو مذہب بناتے ہیں اور قربانی کے وجوب کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔
فتح البارى : 6/10 –
⑦ امام نووی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
”علماء کا مالدار شخص پر قربانی کے وجوب کے متعلق اختلاف ہے اور جمہور علماء کہتے ہیں کہ صاحبِ حیثیت شخص کے لیے قربانی کرنا مسنون ہے اور اگر ایسا شخص بغیر کسی عذر کے قربانی نہ کرے تو نہ یہ گناہ گار ہوگا اور نہ اس پر قضا لازم ہوگی۔ سیدنا ابو بکر صدیق، سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا بلال، ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہم اور سعید بن مسیب، عطاء، مالک، احمد، ابو یوسف، اسحاق، ابو ثور اور ابن منذر رحمہم اللہ بھی اسی موقف کے قائل ہیں۔“
شرح النووى : 13/ 109 – المغنى لابن قدامه مع الشرح الكبير : 95/11 –
⑧ شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: جمہور علماء کا مذہب ہے کہ قربانی سنت ہے، واجب نہیں۔
نيل الأوطار : 117/5-
⑨ سید سابق : ” قربانی سنت مؤکدہ ہے اور استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنا مکروہ فعل ہے۔“
فقه السنة : 33/2-
سعودی فتویٰ کمیٹی کا فتویٰ:
”صاحبِ استطاعت کے حق میں قربانی کرنا سنتِ مؤکدہ ہے۔ اس کی دلیل سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے سفید اور سیاہ رنگ کے دو مینڈھے قربانی کیے۔“
بخاری : 5565 – مسلم : 1966 – فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية : 413/9 –
راجح موقف:
اوپر بیان کردہ احادیث و آثار، جمہور علماء کی رائے اور محدثین کے اقوال سے ثابت ہوتا ہے کہ قربانی سنتِ مؤکدہ ہے، واجب نہیں۔