رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قربانی کرنے کا طریقہ
❀ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، کہ ایک مینڈھا لایا جائے جو سینگوں والا ہو، پاؤں کالے ہوں، آنکھیں کالی ہوں، سینہ اور پیٹ بھی کالا ہو۔ جب ایسا جانور پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! چھری لاؤ۔ “ پھر فرمایا: ”اسے پتھر پر تیز کرو۔ “ میں نے ایسا ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی اور مینڈھے کو پکڑا، اسے لٹایا اور ذبح کیا اور دعا کی:
بِاسْمِ اللهِ، اَللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ
”اللہ کے نام سے، اے اللہ! محمد، آل محمد اور امت محمد کی طرف سے قبول فرما۔ “
(صحیح مسلم: 1966، 1967، 1965 سنن ابوداؤد: 2792)
❀ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے ذبح کیے جو سینگوں والے اور چتکبرے تھے۔ ذبح کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر پڑھی اور بسم اللہ کہا بسم الله والله أكبر اور اپنا پاؤں ان کی گردن پر رکھا۔
(صحیح بخاری: 5565،7399 سنن ابوداؤد: 2794، سنن ترمذی: 1494)
❀ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما اس حدیث کے راوی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن دو مینڈھے ذبح کیے جو سینگوں والے، چتکبرے اور خصی تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبلہ رخ کیا تو یہ دعا پڑھی:
إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اَللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ، بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ
”میں نے اپنا رخ اس ذات مبارکہ کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، میں ملت ابراہیمی پر ہوں اور یکسو ہوں، اور مشرکوں میں سے نہیں ہوں، بیشک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں (اس اللہ کے) اطاعت گزاروں میں سے ہوں۔ اے اللہ! یہ (قربانی) تیری (ہی عطا کردہ) ہے اور تیرے ہی لیے ہے، (تو) اسے محمد اور اس کی امت کی طرف سے قبول فرما۔ اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ذبح کیا۔