مضمون کے اہم نکات
نمازِ عید کے مسائل
نمازِ عید سے پہلے اور بعد کوئی نماز نہیں
نمازِ عید ادا کرنے سے پہلے کوئی خطبہ یا نماز (نوافل) نہیں ہے اور نہ ہی بعد میں کوئی نوافل ادا کرنے ہیں۔
(صحیح بخاری: 964، صحیح مسلم: 886 885، 884 سنن ابوداؤد: 1146، 1147 سنن ابن ماجہ: 1276، سنن ترمذی: 531، سنن نسائی: 1588، موطا امام مالک: 430)
دو رکعت نمازِ عید ادا کرنا
❀ سب سے پہلا کام 10 ذوالحجہ کو سورج نکلنے کے بعد دو رکعت نمازِ عید ادا کرنا ہے۔
(صحیح بخاری: 957، 963، 962صحیح مسلم: 889سنن ابوداؤد: 1159، سنن ابن ماجہ: 1291، سنن ترمذی: 537، سنن نسائی: 1566 ، 1565)
❀ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق عید الاضحی کی نماز کی دو رکعتیں ہیں، عید الفطر کی نماز کی دو رکعتیں ہیں، مسافر کی نماز کی دو رکعتیں ہیں، جمعہ کی نماز کی دو رکعتیں ہیں اور یہ سب پوری ہیں، ان میں کوئی قصر نہیں۔
(سنن نسائی: 1567)
نمازِ عید کے لیے اذان و اقامت
نمازِ عید کے لیے اذان یا اقامت نہیں ہے۔
(صحیح بخاری: 959 – 962 صحیح مسلم: 887، 886 سنن ابوداؤد: 1146، سنن ابن ماجہ: 1274، سنن نسائی: 1563)
نمازِ عید میں تکبیرات
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عید میں پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہتے تھے۔
(سنن ابوداؤد: 1149 – 1151 سنن ابن ماجہ: 1277، موطا امام مالک: 429، سنن ترمذی: 536)
نمازِ عید کے بعد خطبہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عید کے فوراً بعد (بغیر منبر کے) نمازیوں کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے۔
(صحیح بخاری: 957،962، 963 صحیح مسلم: 890 889، 884 سنن ابوداؤد: 1146، سنن ابن ماجہ: 1276، سنن ترمذی: 531، سنن نسائی: 1577، موطا امام مالک: 423)
نمازِ عید کا خطبہ سننے کے لیے بیٹھنا ضروری نہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خطبہ کے لیے جس کا دل چاہے بیٹھے جس کا دل چاہے چلا جائے۔ “
(سنن ابوداؤد: 1155، سنن ابن ماجہ: 1290، سنن نسائی: 1572)
وضاحت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ کے بغیر جانے کی رخصت عطا فرمائی لیکن اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر فرامین پر نگاہ ڈالیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ انہوں نے عورتوں کو تاکید فرمائی کہ وہ اگرچہ حیض میں ہوں پھر بھی وہ نمازِ عید کے اجتماع میں ضرور حاضر ہوں، نمازیوں سے علیحدہ بیٹھیں اور خطبہ کے بعد مسلمانوں کی دعا میں شامل ہوں۔ اس لیے بغیر حالت مجبوری خطبہ کو چھوڑ دینا جائز نہیں۔
خطبہ کے بعد صدقات اور خیرات کی ترغیب دلانا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عید کے بعد صدقہ و خیرات کی ترغیب دلاتے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو عورتوں سے صدقہ اکٹھا کرنے کو فرماتے۔
(صحیح بخاری: 98، صحیح مسلم: 889 سنن ابوداؤد: 1142، سنن ابن ماجہ: 1288، سنن ترمذی: 531)
نمازِ عید کے بعد اجتماعی دعا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عید کے بعد اللہ سے دعا کیا کرتے تھے۔
(صحیح بخاری: 971،974 صحیح مسلم: 890 سنن ابوداؤد: 1136، سنن نسائی: 1560، سنن ابن ماجہ: 1307، سنن ترمذی: 540)