قربانی کی اہمیت اور فضیلت قرآن اور صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی کی کتاب مسائل قربانی سے ماخوذ ہے۔

قربانی کی اہمیت

ا: قربانی کا سنت ابراہیمی ہونا:

قربانی خلیل الرحمن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ وہ بڑھاپے میں ملنے والے اکلوتے لخت جگر اور نور چشم کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں ذبح کرنے کے لیے تیار ہوئے اور سعادت مند بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی ذبح ہونے کے لیے تیار ہوئے۔ اللہ رؤوف و رحیم کو باپ بیٹے کی یہ بے مثال اطاعت اور تابع داری پسند آئی اور انہوں نے بیٹے کے عوض اپنی طرف سے مینڈھا ارسال فرما دیا، جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح فرمایا۔ اللہ مالک الملک نے ان کی اس سنت کو ان کے بعد آنے والے لوگوں میں ہمیشہ کے لیے جاری فرما دیا۔ اس واقعہ کا ذکر اللہ عزوجل نے قرآن کریم میں بایں الفاظ فرمایا ہے:
‏ ﴿وَقَالَ إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّي سَيَهْدِينِ .‏ رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ . فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ . فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ. فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ ‎. وَنَادَيْنَاهُ أَن يَا إِبْرَاهِيمُ . قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ. إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ . وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ ‎. وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ .﴾
”اور [ابراہیم علیہ السلام نے] کہا: ”میں تو [ہجرت کر کے] اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں، وہ ضرور میری رہنمائی کریں گے۔“ اے میرے رب! مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما۔ تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔ جب وہ [بچہ] اس کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گیا، تو اس [ابراہیم علیہ السلام] نے کہا: ”اے میرے چھوٹے سے بیٹے! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، اب تو بتا کہ تیری رائے کیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”اے میرے باپ! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے، اس کو بجا لائیے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔“ جب وہ دونوں مطیع ہو گئے (یعنی حکم الہی کی تعمیل کے لیے مستعد ہو گئے) اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کی ایک جانب گرایا، تو ہم نے اسے آواز دی: اے ابراہیم! یقیناً تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا۔ بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔ در حقیقت یہ بہت بڑی آزمائش تھی اور ہم نے اس [اسماعیل علیہ السلام] کے بدلے میں بہت بڑی قربانی دے دی۔ اور تمام آنے والے لوگوں میں اسی [عظيم واقعه] کا ذکر قائم کر دیا۔“
(37-الصافات:99 تا 108)
ان آیات کی تفسیر اور ان سے حاصل شدہ دروس کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: راقم السطور کی کتاب ” حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا قصہ تفسیر و دروس “

ب: اہمیت قربانی کے متعلق بعض دیگر دلائل:

قربانی کی اس سنت ابراہیمی علیہ السلام کی اہمیت پر قرآن و سنت کی متعدد نصوص اور حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے واقعات دلالت کرتے ہیں۔ مولائے کریم کی توفیق سے ان میں سے چند ایک ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں:
➊ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قربانی کرنے کا حکم دیا۔ فرمایا:
‏ ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾
پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجئے۔
(108-الکوثر:2)
حافظ ابن جوزی نے اللہ تعالیٰ کے فرمان وانحر کی تفسیر میں پانچ اقوال نقل کیے ہیں اور ان میں سے پہلا قول یہ ہے کہ: ”قربانی کے دن جانور ذبح کرو۔“ یہ قول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما، امام عطاء، امام مجاہد اور جمہور علمائے امت کا ہے۔
ملاحظہ ہو: زاد المسير 249/9
امام بغوی آیت کریمہ کی تفسیر میں رقم طراز ہیں:
نماز عید الاضحی ادا کرو اور اونٹوں کی قربانی دو۔
شرح السنة 326/4
➋ سورۃ الانعام میں ہے:
﴿‏ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾
کہہ دیجیے یقیناً میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
(6-الأنعام:162)
حافظ ابن کثیر اس آیت کریمہ کی تفسیر میں رقم طراز ہیں:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ وہ غیر اللہ کی عبادت کرنے اور ان کے نام کی قربانی دینے والے مشرکوں کو بتلا دیں کہ ان کا طریقہ ان مشرکوں سے مختلف ہے، ان کی نماز اور قربانی صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کے نام کی ہے اور یہ آیت اللہ تعالیٰ کے فرمان (فصل لربك وانحر) ہی کی مانند ہے۔
تفسير ابن كثير 222/2
حافظ ابن جوزی نے ذکر کیا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما، سعید بن جبیر، مجاہد اور ابن قتیبہ نے کہا ہے کہ نسكي سے مراد قربانیاں ہیں۔
ملاحظہ ہو: زاد المسير 161/3
مذکورہ بالا دونوں آیات میں اللہ تعالیٰ نے قربانی کا ذکر نماز کے ساتھ فرمایا ہے اور یہ بات بلا شک و شبہ قربانی کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔
➌ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید الاضحیٰ کے موقع پر نماز عید کے بعد قربانی کرنے کو اپنی سنت قرار دیا ہے۔ امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”إن أول ما نبدأ به فى يومنا هذا أن نصلي ثم نرجع فننحر. من فعله فقد أصاب سنتنا“
”بے شک اس دن ہم پہلا کام یہ کرتے ہیں کہ نماز [عید] ادا کرتے ہیں، پھر واپس آتے ہیں اور قربانی کرتے ہیں۔ جس شخص نے ایسا کیا، اس نے ہماری سنت کو پایا۔“
متفق عليه : صحيح بخاري، كتاب الأضاحي، باب سنة الأضحية، جزء من رقم الحديث 5545، 3/10؛ وصحيح مسلم، كتاب الأضاحي، باب وقتها، جزء من رقم الحديث 7۔(1961)، 1553/3 الفاظ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔
➍ ایک اور حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز عید کے بعد قربانی کرنے کو سنة المسلمين ”اہل اسلام کی سنت“ سے تعبیر فرمایا ہے۔ امام بخاری نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”من ذبح قبل الصلاة فإنما ذبح لنفسه ومن ذبح بعد الصلاة فقد تم نسكه وأصاب سنة المسلمين“
”جس نے نماز [عید] سے پہلے [جانور] ذبح کیا تو اس نے اپنے لیے ذبح کیا ہے اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا، اس کی قربانی مکمل ہو گئی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کو پا لیا۔“
صحيح بخاري، كتاب الأضاحي، باب سنة الأضحية، رقم الحديث 3/10،5546. نيز لملاحظہ ہو : صحيح مسلم، کتاب الأضاحي، باب وقتها، رقم الحديث 4- (1961)، 1552/3
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کی سنت ابراہیمی علیہ السلام پر مداومت اور ہمیشگی فرمائی۔ امام بخاری نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:
”كان النبى صلى الله عليه وسلم يضحي بكبشين وأنا أضحي بكبشين“
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو مینڈھوں کو ذبح کیا کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھے ذبح کرتا ہوں۔“
صحيح البخاري، كتاب الأضاحي، باب أضحية النبي ﷺ بكيشين أقرنين، رقم الحديث 5553،9/10
حافظ ابن حجر نے تحریر کیا ہے کہ اس روایت سے( آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) ہمیشہ قربانی کرنے کا پتہ چلتا ہے۔
فتح الباري 10/10. ایک حدیث میں ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں دس سالہ مدت قیام کے دوران قربانی کرتے رہے۔ (ملاحظہ ہو: جامع ترمذي، أبواب الأضاحي، باب، رقم الحديث 1543،79/5)، لیکن یہ حدیث ضعیف ہے۔ (ملاحظہ ہو: ضعيف سنن الترمذي ص 178)، اسی لیے متن میں درج نہیں کی گئی۔
➏ قربانی کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شدید اہتمام اس بات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کی قربانی کے سو اونٹ ذبح کرنے کے علاوہ عید الاضحیٰ کی قربانی بھی کی۔ اپنی طرف سے ایک بکری اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی طرف سے ایک گائے ذبح فرمائی۔
اس بات کی تفصیل کتاب ہذا کے ص 54 میں ملاحظہ کیجئے۔
➐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کو بھی تاکید فرمائی کہ ان کا ہر گھرانہ ہر سال قربانی دے۔ حضرات ائمہ احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عرفات میں تھے تو آپ نے فرمایا:
”يا أيها الناس إن على أهل كل بيت فى كل عام أضحية“
”اے لوگو! ہر سال ہر گھر والوں پر قربانی ہے۔“
المسند 215/4 (ط : المكتب الإسلامي)؛ وسنن أبي داود، كتاب الضحايا، باب ما جاء في إيحاب الأضاحي، جزء من رقم الحديث 2785 ، 4340/7 وجامع الترمذي، أبواب الأضاحي، باب، جزء من رقم الحديث 1555، 91/5-92؛ وسنن النسائي، كتاب الفرع والعتيرة، 167/7 – 168، وسنن ابن ماجه، أبواب الاضاحي، الأضاحي أواجبة هي أم لا؟، جزء من رقم الحديث 204/2،3163. الفاظ حدیث سنن ابی داؤد کے ہیں ۔
حافظ ابن حجر نے اس کی سند کو [ قوی] اور شیخ البانی نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے (ملاحظہ ہو فتح الباری 4/10 : وصحيح سنن الترمذي 93/2؛ وصحيح سنن النسائي 886/3؛ وصحیح سنن ابن ماجه 200/2)
➑ استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والے لوگوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شدید ناراضی کا اظہار فرمایا۔ حضرات ائمہ احمد، ابن ماجہ، دارقطنی اور حاکم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”من كان له سعة ولم يضح فلا يقربن مصلانا“
”جو آسودہ حال ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔“
المسند 321/2 (ط : المكتب الاسلامي) ؛ وسنن ابن ماجه، أبواب الأضاحي، الأضاحي أو اجبة هي أم لا؟، رقم الحديث 203/2،3160؛ وسنن الدار قطني، باب الصيد والذبائح والأطعمة وغير ذلك، رقم الحديث 277/4،35، والمستدرك، كتاب الأضاحي، 232/4الفاظ حدیث ابن ماجہ کے ہیں۔
امام حاکم نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے اور حافظ ذہبی نے ان کی تائید کی ہے۔ شیخ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المستدرك 231/4؛ والتلخيص 232/4 4 وصحيح سنن ابن ماجه 199/2)
➒ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم قربانی کا بہت اہتمام کرتے تھے۔ امام بخاری نے حضرت ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ:
”كنا نسمن الأضحية بالمدينة وكان المسلمون يسمنون“
”ہم مدینہ (طیبہ) میں قربانی کے جانوروں کی پرورش کر کے فربہ کرتے تھے اور [دیگر] مسلمان بھی اسی طرح انہیں پال کر موٹا کرتے تھے۔“
صحيح البخاري، كتاب الأضاحي، باب أضحية النبيﷺ و بكبشمن أفرنين، ويذكر سمينين، 9/10
➓ قربانی کے متعلق حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کا اہتمام اس بات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے حالت سفر میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں قربانی کی۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: کتاب ہذا کا ص 35