ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 163

لَا شَرِیۡکَ لَہٗ ۚ وَ بِذٰلِکَ اُمِرۡتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۶۳﴾
اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں حکم ماننے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔ En
جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی بات کا حکم ملا ہے اور میں سب سے اول فرمانبردار ہوں
En
اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 162 میں تا آیت 164 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

163۔ 1 توحید الوہیت کی یہ دعوت تمام انبیاء نے دی، جس طرح یہاں آخری پیغمبر کی زبان مبارک سے کہلوایا گیا کہ ' مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب ماننے والوں سے پہلا ہوں۔ ' دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی انبیاء بھیجے، سب کو یہ وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس تم میری ہی عبادت کرو ' (انبیا۔ 25) چناچہ حضرت نوح ؑ کے بارے میں آتا ہے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں کہا کہ اسلم تو انہوں نے فرمایا اسلمت لرب العالمین۔ حضرت ابراہیم ؑ و یعقوب ؑ نے اپنی اولاد کو وصیت فرمائی کہ تمہیں موت اسلام پر آنی چاہیے۔ حضرت یوسف ؑ نے دعا فرمائی کہ مجھے اسلام کی حالت میں دنیا سے اٹھانا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا اگر تم ملسمان ہو تو اسی اللہ پر بھروسہ کرو۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے حواریوں نے کہا واشھد باننا مسلمون اسی طرح اور بھی تمام انبیاء اور ان کے مخلص پیروکاروں نے اسی اسلام کو اپنایا جس میں توحید الوہیت کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ گو بعض بعض شرع احکام ایک دوسرے سے مختلف تھی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

163۔ جس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔ اور میں سب سے پہلے اللہ کا فرمانبردار [186] بنتا ہوں
[186] ہر نبی پر یہ فرض ہوتا ہے کہ سب سے پہلے اپنی نبوت پر خود ایمان لائے اور وحی کی اتباع کرے اسی لحاظ سے رسول اللہ اپنی امت میں اول المسلمین ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَا شَرِیْكَ لَهٗ عبادت میں اس کا کوئی شریک ہے نہ اقتدار اور تدبیر میں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے لیے یہ اخلاص کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں جو میں نے خود گھڑ لی ہو بلکہ ﴿ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ اور مجھے اسی (اخلاص) کا حکم دیا گیا ہے۔ یعنی حتمی حکم۔ اور اس حکم کی تعمیل کیے بغیر میں اس کی ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الْ٘مُسْلِمِیْنَ اور میں سب سے اول فرماں بردار ہوں۔ یعنی اس امت میں، پہلا مسلمان ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لا شريكَ له}: في العبادة؛ كما أنه ليس له شريكٌ في الملك والتدبير، وليس هذا الإخلاص لله ابتداعاً مني وبدعاً أتيته من تلقاء نفسي، بل {بذلك أمِرْتُ}: أمراً حتماً لا أخرج من التبعة إلا بامتثاله، {وأنا أول المسلمين}: من هذه الأمة.