کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: جس نے تنگ دست کے بارے میں کہا: غلام اپنے (دوسرے) مالک کے حصے کی ادائیگی کے لیے محنت مزدوری کرے گا بشرطیکہ اس پر کوئی مشقت نہ ڈالی جائے۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَدِيبُ قَالُوا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي مَمْلُوكٍ فَأَعْتَقَهُ فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ فِي مَالِهِ، إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى الْعَبْدُ فِي ثَمَنِ رَقَبَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ ". ⦗٤٧٥⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں: ”جس کا غلام میں حصہ ہو اس نے آزاد کر دیا تو باقی جانوں کا آزاد کرنا اس پر لازم ہے، اگر اس کے پاس مال ہو اور اگر مال نہ ہو تو غلام سے محنت کروائی جائے لیکن مشقت نہ ڈالی جائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21369
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا فِي مَمْلُوكٍ فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ ثُمَّ يُسْتَسْعَى فِي نَصِيبِ صَاحِبِهِ الَّذِي لَمْ يُعْتِقْ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سعید رحمہ اللہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے غلام کا اپنا حصہ آزاد کر دیا تو باقی ماندہ کو بھی آزاد کرنا اس پر لازم ہے، اگر اس کے پاس مال ہو۔ اگر مال نہ ہو تو عدل والی قیمت مقرر کی جائے اور باقی حصہ کے لیے غلام سے محنت کروائی جائے لیکن مشقت نہ ڈالی جائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21370
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يَقُولُ: حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْعَبْدِ يَكُونُ بَيْنَ رَجُلَيْنِ يُعْتِقُ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ؟ قَالَ: " قَدْ عَتَقَ الْعَبْدُ، يُقَوَّمُ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ قِيمَةَ عَدْلٍ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک غلام کے بارے میں سوال ہوا جس کا ایک حصہ آزاد کر دیا گیا، فرمایا: ”غلام تو آزاد ہے، لیکن اس حصہ والے پر قیمت ڈال دی جائے۔ اگر مال دار ہو تو ٹھیک، وگرنہ غلام سے محنت کروائی جائے لیکن مشقت نہ ڈالی جائے“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21371
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا قَتَادَةُ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ فَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ قِيمَتَهُ أَعْتَقَ مِنْ مَالِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ وَقَالَا: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَكَذَلِكَ رواه الْحَجَّاجُ بْنُ الْحَجَّاجِ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، وَمُوسَى بْنُ خَلَفٍ الْعَمِّيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، ذَكَرُوا فِيهِ الِاسْتِسْعَاءَ مُدْرَجًا فِي الْحَدِيثِ، وَاسْتَشْهَدَ الْبُخَارِيُّ بِرِوَايَتِهِمْ، وَأَمَّا الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، فَإِنَّهُ ضَعَّفَ أَمْرَ السِّعَايَةِ فِيهِ بِوُجُوهٍ، مِنْهَا: أَنَّ شُعْبَةَ بْنَ الْحَجَّاجِ، وَهِشَامًا الدَّسْتُوَائِيَّ رَوَيَا هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ قَتَادَةَ لَيْسَ فِيهِ اسْتِسْعَاءٌ، وَهُمَا أَحْفَظُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ قَدَّمْنَا رِوَايَتَهُمَا..
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جس نے غلام کا اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس مال بھی موجود ہو تو وہ مکمل آزاد کروائے، اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام سے محنت کروائی جائے، لیکن مشقت نہ ڈالی جائے۔“
حجاج بن حجاج، ابان بن یزید عطار اور موسیٰ بن خلف عمی نے بھی اسے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں استسعاء (غلام سے محنت کروانے) کا ذکر حدیث میں مدرج کر دیا ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس میں سعایہ کے معاملے کو کئی وجوہ سے ضعیف قرار دیا ہے، ان میں سے ایک یہ کہ شعبہ بن حجاج اور ہشام دستوائی نے یہ حدیث قتادہ سے روایت کی ہے اور اس میں استسعاء کا ذکر نہیں، اور وہ دونوں زیادہ حافظ ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21372
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ: شُعْبَةُ وَهِشَامٌ أَحْفَظُ مَنْ رَوَاهُ عَنْ قَتَادَةَ، وَلَمْ يَذْكُرَا فِيهِ الِاسْتِسْعَاءَ. وَمِنْهَا: أَنَّ ⦗٤٧٦⦘ الشَّافِعِيَّ سَمِعَ بَعْضَ أَهْلِ النَّظَرِ وَالتَّدَبُّرِ مِنْهُمْ وَالْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ يَقُولُ: لَوْ كَانَ حَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ فِي الِاسْتِسْعَاءِ مُنْفَرِدًا لَا يُخَالِفُهُ غَيْرُهُ مَا كَانَ ثَابِتًا قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَعَلَّهُ إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ لِأَنَّ حَدِيثَ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يُقَالُ إِنَّهُ مِنْ كِتَابٍ، وَقَدْ رُوِيَ، عَنْ بَشِيرٍ أَنَّهُ قَرَأَ مَا كَتَبَ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَلَيْسَ فِيهِ مَا يُوهِنُ حَدِيثَهُ، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ لِأَنَّ سَعِيدًا يَنْفَرِدُ بِهِ، وَالْحُفَّاظُ يَتَوَقَّفُونَ فِي إِثْبَاتِ مَا يَنْفَرِدُ بِهِ سَعِيدٌ لِاخْتِلَاطِهِ فِي آخِرِ عُمُرِهِ، وَقَدْ وَافَقَهُ غَيْرُهُ فِي رِوَايَةِ الِاسْتِسْعَاءِ. أَوْ قَالَ ذَلِكَ لِأَنَّ سَنَدَهُ مُخْتَلَفٌ فِيهِ، وَأَكْثَرَهُمْ رَوَوْهُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، وَسَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ بَشِيرٍ، لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، وَكَذَلِكَ هُوَ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْ هِشَامٍ، وَقِيلَ: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرٍ، وَقِيلَ: عَنْ بَشِيرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَكُلُّ هَذَا وَهْمٌ، وَالْقَوْلُ قَوْلُ الْأَكْثَرِ، وَالَّذِي يُوهِنُ أَمْرَ السِّعَايَةِ فِيهِ: رِوَايَةُ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، حَيْثُ جَعَلَ الِاسْتِسْعَاءَ مِنْ قَوْلِ قَتَادَةَ، وَفَصَلَهُ مِنْ كَلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو الحسن دارقطنی حافظ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قتادہ سے روایت کرنے والوں میں شعبہ اور ہشام سب سے زیادہ حافظ ہیں، اور ان دونوں نے اس میں استسعاء (غلام سے محنت کروانے) کا ذکر نہیں کیا۔
اور ان وجوہ میں سے ایک یہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے ان میں سے بعض اہل نظر و تدبر اور علم حدیث رکھنے والوں کو یہ کہتے سنا: اگر استسعاء کے بارے میں سعید بن ابی عروبہ کی حدیث اکیلی ہوتی اور کوئی دوسرا اس کی مخالفت نہ کرتا تب بھی وہ ثابت نہ ہوتی۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شاید انہوں نے یہ بات اس لیے کہی کہ بشیر بن نہیک کی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک کتاب سے ہے، حالانکہ بشیر سے مروی ہے کہ انہوں نے جو لکھا تھا وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو پڑھ کر سنایا، لہٰذا اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو ان کی حدیث کو کمزور کرے۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ انہوں نے یہ اس لیے کہا ہو کہ سعید اسے بیان کرنے میں منفرد ہیں، اور حفاظ سعید کی منفرد روایت کو ثابت ماننے میں توقف کرتے ہیں کیونکہ آخری عمر میں انہیں اختلاط ہو گیا تھا، حالانکہ استسعاء کی روایت میں دوسروں نے بھی ان کی موافقت کی ہے۔ یا انہوں نے یہ اس لیے کہا کہ اس کی سند میں اختلاف ہے: اکثر نے اسے قتادہ عن نضر بن انس عن بشیر بن نہیک عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کیا ہے، معمر اور سعید بن بشیر نے اسے قتادہ عن بشیر روایت کیا ہے اور اس میں نضر بن انس کا ذکر نہیں، اور ہشام سے دو روایتوں میں سے ایک میں بھی اسی طرح ہے، اور کہا گیا: قتادہ عن موسیٰ بن انس عن بشیر، اور کہا گیا: بشیر عن جابر بن عبداللہ۔ یہ سب وہم ہے اور بات اکثر کی معتبر ہے۔ اور جو چیز اس میں سعایہ کے معاملے کو کمزور کرتی ہے وہ ہمام بن یحییٰ کی قتادہ سے روایت ہے، جس میں انہوں نے استسعاء کو قتادہ کا قول قرار دیا اور اسے نبی ﷺ کے کلام سے الگ کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21373
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي كِتَابِ مَعْرِفَةِ الْحَدِيثِ، قَالَ: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّارَابَجِرْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ، فَغَرَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَنَهُ. قَالَ هَمَّامٌ: فَكَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ: إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے غلام کا اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی ﷺ نے اس پر قیمت کی چٹی ڈال دی۔
قتادہ کہتے ہیں: اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام سے محنت کروا لیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21374
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله بواحد»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حُرَيْثٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنِي أَبِي ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا مِنْ مَمْلُوكٍ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ، وَغَرَّمَهُ بَقِيَّةَ ثَمَنِهِ. . قَالَ قَتَادَةُ: إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ..
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے غلام کا اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی ﷺ نے اس کی آزادی کو جائز قرار دیا اور اس کی قیمت کی چٹی اس پر ڈال دی۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو محنت کروا لیں لیکن مشقت نہ ڈالیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21375
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَلِيٌّ قَالَ: سَمِعْتُ النَّيْسَابُورِيَّ يَقُولُ: مَا أَحْسَنَ مَا رَوَاهُ هَمَّامٌ ضَبَطَهُ وَفَصَلَ بَيْنَ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ قَوْلِ قَتَادَةَ، وَفِيمَا بَلَغَنِي عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ الْمُنْذِرِ صَاحِبِ الْخِلَافِيَّاتِ قَالَ: هَذَا الْكَلَامُ مِنْ فُتْيَا قَتَادَةَ، لَيْسَ مِنْ مَتْنِ الْحَدِيثِ. ثُمَّ ذَكَرَ حَدِيثَ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْمُقْرِيِّ، عَنْ هَمَّامٍ، ثُمَّ قَالَ: فَقَدْ أَخْبَرَ هَمَّامٌ أَنَّ ذِكْرَ السِّعَايَةِ مِنْ قَوْلِ قَتَادَةَ، وَأَلْحَقَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ الَّذِي مَيَّزَهُ هَمَّامٌ مِنْ قَوْلِ قَتَادَةَ، فَجَعَلَهُ مُتَّصِلًا بِالْحَدِيثِ..
حافظ ثناء اللہ
نیشاپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمام نے کیا ہی خوب روایت کی ہے، انہوں نے اسے ٹھیک ٹھیک یاد رکھا اور نبی ﷺ کے فرمان اور قتادہ کے قول کے درمیان فرق کر دیا۔ اور ابو سلیمان خطابی سے جو مجھے پہنچا ہے، وہ حسن بن یحییٰ سے اور وہ ابن المنذر صاحب الخلافیات سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: یہ بات قتادہ کے فتویٰ میں سے ہے، حدیث کے متن کا حصہ نہیں۔ پھر انہوں نے علی بن حسن عن المقری عن ہمام کی حدیث ذکر کی، پھر کہا: ہمام نے بتا دیا ہے کہ سعایہ کا ذکر قتادہ کا قول ہے، اور سعید بن ابی عروبہ نے اس حصے کو، جسے ہمام نے قتادہ کا قول قرار دے کر الگ کیا تھا، حدیث کے ساتھ ملا کر متصل کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21376
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حُرَيْثٍ، ثنا أَبُو مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ: أَحَادِيثُ هَمَّامٍ عَنْ قَتَادَةَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ غَيْرِهِ، لِأَنَّهُ كَتَبَهَا إِمْلَاءً..
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمام رحمہ اللہ جو احادیث قتادہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں وہ دوسروں کی احادیث سے زیادہ صحیح ہیں؛ کیونکہ انہوں نے انہیں املاء کے وقت تحریر کیا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21377
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ أَحْمَدَ بْنَ كَامِلٍ الْقَاضِي يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا قِلَابَةَ الرَّقَاشِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: شُعْبَةُ أَعْلَمُ النَّاسِ بِحَدِيثِ قَتَادَةَ، مَا سَمِعَ مِنْهُ وَمَا لَمْ يَسْمَعْ، وهِشَامٌ أَحْفَظُ، وَسَعِيدٌ أَكْثَرُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَقَدِ اجْتَمَعَ شُعْبَةُ مَعَ فَضْلِ حِفْظِهِ وَعِلْمِهِ بِمَا سَمِعَ مِنْ قَتَادَةَ وَمَا لَمْ يَسْمَعْ، وَهِشَامٌ مَعَ فَضْلِ حِفْظِهِ، وَهَمَّامٌ مَعَ صِحَّةِ كِتَابِهِ، وَزِيَادَةِ مَعْرِفَتِهِ بِمَا لَيْسَ مِنَ الْحَدِيثِ عَلَى خِلَافِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَمَنْ وَافَقَهُ فِي إِدْرَاجِ السِّعَايَةِ فِي الْحَدِيثِ. وَفِي هَذَا مَا يُشْكِلُ فِي ثُبُوتِ الِاسْتِسْعَاءِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ. وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى أَنَّ فَضْلَ الِاسْتِسْعَاءِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ فُتْيَا قَتَادَةَ مَا:.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شعبہ قتادہ کی حدیث کو سب لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں کہ انہوں نے ان سے کیا سنا اور کیا نہیں سنا، ہشام زیادہ حافظ ہیں اور سعید سب سے زیادہ روایت کرنے والے ہیں۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شعبہ اپنے حافظے کی فضیلت اور قتادہ سے جو سنا اور جو نہیں سنا اس کے علم کے ساتھ، ہشام اپنے حافظے کی فضیلت کے ساتھ، اور ہمام اپنی کتاب کی صحت اور جو چیز حدیث کا حصہ نہیں اس کی زیادہ معرفت کے ساتھ، ابن ابی عروبہ اور سعایہ کو حدیث میں مدرج کرنے میں ان کی موافقت کرنے والوں کے خلاف متفق ہیں۔ اور اس میں وہ بات ہے جو اس حدیث میں استسعاء (غلام سے محنت کروانے) کے ثابت ہونے کو مشکوک بناتی ہے۔ اور جو چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس حدیث میں استسعاء کا اضافی حصہ قتادہ کا فتویٰ ہے وہ درج ذیل ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21378
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٤٧٨⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ قَالَ: أَنْبَأَ عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ قَالَ: سُئِلَ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَبْدٍ بَيْنَ ثَلَاثَةِ نَفَرٍ، كَاتَبَ أَحَدُهُمْ، ثُمَّ أَعْتَقَ الْآخَرُ، وَأَمْسَكَ الثَّالِثُ؟ قَالَ: ذُكِرَ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ قَالَ لِهَذَا الَّذِي أَمْسَكَ نَصِيبَهُ عَلَى الْمُعْتَقِ: " إِنْ كَانَ ذَا يَسَارٍ عَنْ حَظِّهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى الْمَمْلُوكُ فِي الثُّلُثِ مِنْ قِيمَتِهِ، وَالْوَلَاءُ بَيْنَ الْمُعْتَقِ وَالْمُكَاتَبِ، لِلْمُعْتِقِ الثُّلُثَانِ، وَلِلْمُكَاتِبِ الثُّلُثُ ". وَمِنْهَا أَنْ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قِيلَ لِمَنْ حَضَرَ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ: لَوِ اخْتَلَفَ نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ، وَهَذَا الْإِسْنَادُ أَيُّهُمَا كَانَ أَثْبَتَ؟ قَالَ: نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قُلْتُ: وَعَلَيْنَا أَنْ نَصِيرَ إِلَى الْأَثْبَتِ مِنَ الْحَدِيثَيْنِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ الشَّيْخُ: مَعَ نَافِعٍ حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ بِإِبْطَالِ الِاسْتِسْعَاءِ..
حافظ ثناء اللہ
عقبہ بن علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام اوزاعی رحمہ اللہ سے تین آدمیوں کے مشترک غلام کے بارے میں سوال کیا گیا: ایک نے اسے مکاتب کر لیا، دوسرے نے آزاد کر دیا اور تیسرے نے اپنا حصہ باقی رکھا۔ راوی کہتے ہیں کہ قتادہ رحمہ اللہ سے ذکر کیا گیا کہ انہوں نے کہا: جس نے اپنا حصہ روکا تھا، اس کے حصے کی قیمت آزاد کرنے والے پر ہے اگر وہ مال دار ہے۔ اگر وہ مال دار نہیں تو ثلث قیمت کی مزدوری کروا لیں اور ولاء آزاد کیے ہوئے اور مکاتب کے درمیان ہے، آزاد کرنے والے کو دو تہائی اور مکاتب کے لیے ایک تہائی ثلث ہو گی۔
اور ان وجوہ میں سے ایک یہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: وہاں موجود اہل حدیث سے پوچھا گیا: اگر نافع عن ابن عمر عن النبی ﷺ کی سند اکیلی اس سند کے خلاف ہو تو ان دونوں میں سے کون سی زیادہ ثابت ہے؟ انہوں نے کہا: نافع عن ابن عمر عن النبی ﷺ۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے کہا: تو کیا ہم پر لازم ہے کہ دونوں حدیثوں میں سے زیادہ ثابت کی طرف رجوع کریں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نافع کے ساتھ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی ہے جو استسعاء کو باطل کرتی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21379
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ يَقُولُ: أَصَحُّ الْأَسَانِيدِ كُلِّهَا: مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ..
حافظ ثناء اللہ
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تمام اسانید میں سب سے صحیح سند: مالک، عن نافع، عن ابن عمر ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21380
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الصُّوفِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيَّ قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ أَصَحِّ الْأَسَانِيدِ فَقَالَ: مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو العباس محمد بن اسحاق ثقفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے سب سے صحیح سند کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مالک، عن نافع، عن ابن عمر۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21381
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ مِنْهُمْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَأَعْتَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُلُثَهُ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَسْعَى فِي الثُّلُثَيْنِ. . فَقَدْ ذُكِرَ ذَلِكَ لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ فَقَالَ مَنْ حَضَرَهُ: هُوَ مُرْسَلٌ، وَلَوْ كَانَ مَوْصُولًا كَانَ عَنْ رَجُلٍ لَمْ يُسَمَّ لَا يُعْرَفُ وَلَمْ يَثْبُتْ حَدِيثُهُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَعَارَضَنَا مِنْهُمْ مُعَارِضٌ بِحَدِيثٍ آخَرَ فِي الِاسْتِسْعَاءِ، فَقَطَعَهُ عَلَيْهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ وَقَالَ: لَا يَذْكُرُ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ أَحَدٌ يَعْرِفُ الْحَدِيثَ لِضَعْفِهِ..
حافظ ثناء اللہ
ابوقلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنو عذرہ قبیلے کے ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت غلام آزاد کر دیا، اس کے پاس اور مال نہ تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا تیسرا حصہ آزاد کر دیا اور حکم دیا کہ ”باقی دو ثلث میں غلام سے محنت لی جائے۔“
یہ روایت امام شافعی رحمہ اللہ کے سامنے ذکر کی گئی تو ان کے پاس موجود لوگوں نے کہا: یہ مرسل ہے، اور اگر موصول بھی ہو تو ایسے آدمی سے ہے جس کا نام نہیں لیا گیا، وہ معروف نہیں اور اس کی حدیث ثابت نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ان میں سے ایک معترض نے استسعاء (غلام سے محنت کروانے) کے بارے میں ایک اور حدیث سے ہم پر اعتراض کیا تو اس کے بعض ساتھیوں نے اس کی بات کاٹ دی اور کہا: حدیث کو جاننے والا کوئی شخص اس جیسی حدیث اس کے ضعف کی وجہ سے ذکر نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21382
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا بِجَمِيعِ هَذَا الْكَلَامِ وَمَا نَقَلْتُهُ فِي هَذَا الْبَابِ مِنْ كَلَامِهِ: أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ فَذَكَرَهُ، وَلَا أَدْرِي أِيَّ حَدِيثٍ عُورِضَ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے (اپنی سند سے) یہ سارا کلام ہمیں بیان کیا، اور (امام بیہقی رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کون سی حدیث اس کے مقابل پیش کی گئی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21383
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَلَعَلَّهُ عُورِضَ بِمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا ⦗٤٧٩⦘ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ بَدْرٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَبْدٍ أَعْتَقَهُ مَوْلَاهُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْعَى فِي الدَّيْنِ. . وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرَاوِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو یحییٰ اعرج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے غلام کے بارے میں سوال کیا گیا جس کو اس کا مالک موت کے وقت آزاد کر دے اور اس کا مال بھی نہ ہو، اس پر قرض بھی ہو تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”قرض کے لیے محنت کروائی جائے۔“
یہ روایت منقطع ہے، اور اس کا راوی حجاج بن ارطاۃ ہے جو قابل حجت نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21384
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَوْ عُورِضَ بِمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: كَانَ ثَلَاثُونَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ: " إِذَا أَعْتَقَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّجُلِ فَهُوَ ضَامِنٌ إِنْ كَانَ مُوسِرًا، وَإِنْ كَانَ مُعْسِرًا سَعَى بِالْعَبْدِ صَاحِبُهُ فِي نِصْفِ قِيمَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " وَهَذَا أَيْضًا ضَعِيفٌ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرُوِيَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي السِّعَايَةِ، وَهُوَ مُنْكَرٌ بِمَرَّةٍ..
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے تیس صحابہ رضی اللہ عنہم فرمایا کرتے تھے: اگر ایک آدمی غلام آزاد کر دے جو دو کا مشترک تھا تو وہ (آزاد کرنے والا) ضامن ہے، اگر وہ مال دار ہے۔ اگر وہ تنگ دست ہے تو پھر ان سے باقی قیمت میں محنت کروائی جائے، لیکن مشقت نہ ڈالی جائے۔
یہ روایت بھی ضعیف ہے، حجاج بن ارطاۃ قابل حجت نہیں۔ اور حجاج بن ارطاۃ سے نافع عن ابن عمر کی سند سے بھی سعایہ کے بارے میں روایت کی گئی ہے، اور وہ سخت منکر ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21385
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ التِّرْمِذِيُّ ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: ذَكَرْتُ أَنَا وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْحَجَّاجَ بْنَ أَرْطَاةَ وَخِلَافَهُ عَنِ الثِّقَاتِ وَالْحُفَّاظِ، فَتَذَاكَرْنَا مِنْ هَذَا النَّحْوِ أَحَادِيثَ كَثِيرَةً، قَالَ: فَذَكَرْنَا لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ حَدِيثَ الْحَجَّاجِ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا كَانَ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ أَنَّ الَّذِي لَمْ يُعْتِقْ إِنْ شَاءَ ضَمِنَ الْمُعْتِقَ الْقِيمَةَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ اسْتَسْعَى الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَيْضًا مِنْ أَعْظَمِ الْفِرْيَةِ، كَيْفَ يَكُونُ هَذَا عَلَى مَا رَوَاهُ الْحَجَّاجُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَقَدْ رَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرَ، لَمْ يَكُنْ فِي آلِ عُمَرَ أَثْبَتَ مِنْهُ، وَلَا أَحْفَظَ، وَلَا أَوْثَقَ، وَلَا أَشَدَّ تَقَدُّمَةً فِي عِلْمِ الْحَدِيثِ فِي زَمَانِهِ، فَكَانَ يُقَالُ: إِنَّهُ وَاحِدُ دَهْرِهِ فِي الْحِفْظِ، ثُمَّ تَلَاهُ فِي رِوَايَتِهِ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَلَمْ يَكُنْ دُونَهُ فِي الْحِفْظِ، بَلْ هُوَ عِنْدَنَا فِي الْحِفْظِ وَالْإِتْقَانِ مِثْلُهُ، أَوْ أَجْمَعُ مِنْهُ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَحْوَالِ، وَرَوَاهُ أَيْضًا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَهُوَ مِنْ أَثْبَتِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَأَصَحِّهِمْ رِوَايَةً، رَوَوْهُ جَمِيعًا، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ ⦗٤٨٠⦘ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا أَوْ شِقْصًا فِي عَبْدٍ كُلِّفَ عِتْقَ مَا بَقِيَ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ فَإِنَّهُ يُعْتِقُ مِنَ الْعَبْدِ مَا أَعْتَقَ ". قَالَ الْفَقِيهُ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَمْرُ السِّعَايَةِ إِنْ ثَبَتَ فِي حَدِيثِ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفِيهِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ عَلَى الِاخْتِيَارِ مِنْ جِهَةِ الْعَبْدِ، فَإِنَّهُ قَالَ: غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ، وَفِي الْإِجْبَارِ عَلَيْهِ وَهُوَ يَأْبَاهُ مَشَقَّةٌ عَظِيمَةٌ عَلَيْهِ، وَإِذَا كَانَ ذَلِكَ بِاخْتِيَارِهِ لَمْ يَكُنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَائِرِ الْأَخْبَارِ مُخَالَفَةٌ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ. وَقَدْ تَأَوَّلَهُ بَعْضُ النَّاسِ فَقَالَ: مَعْنَى السِّعَايَةِ أَنْ يُسْتَسْعَى الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ أَنْ يُسْتَخْدَمَ لِمَالِكِهِ، وَلِذَلِكَ قَالَ: غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ، أَيْ لَا يُحَمَّلُ مِنَ الْخِدْمَةِ فَوْقَ مَا يَلْزَمُهُ بِحِصَّةِ الرِّقِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فیصلہ فرمایا: ”جب دو آدمیوں کا غلام ہو، ایک آزاد کر دے تو آزاد کرنے والے کو ضامن بنایا جائے گا اگر وہ مالدار ہو۔ اگر مالدار نہ ہو تو غلام سے مزدوری کروائی جائے۔“
عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ بھی بہت بڑے جھوٹ میں سے ہے۔ یہ اس طرح کیسے ہو سکتا ہے جیسے حجاج نے نافع عن ابن عمر سے روایت کیا، حالانکہ اسے عبیداللہ بن عمر نے روایت کیا ہے، آل عمر میں ان سے بڑھ کر کوئی ثابت، حافظ، ثقہ اور اپنے زمانے میں علم حدیث میں آگے نہ تھا، یہاں تک کہ کہا جاتا تھا کہ وہ حفظ میں اپنے زمانے میں یکتا ہیں، پھر ان کے بعد مالک بن انس نے اسے روایت کیا اور وہ حفظ میں ان سے کم نہ تھے، بلکہ ہمارے نزدیک حفظ و اتقان میں ان کے برابر یا بہت سے پہلوؤں میں ان سے زیادہ جامع تھے، اور یحییٰ بن سعید انصاری نے بھی اسے روایت کیا جو اہل مدینہ میں سب سے زیادہ ثابت اور روایت میں سب سے صحیح ہیں۔
(ب) ان سب نے نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنا غلام کا حصہ آزاد کر دیا اس پر لازم ہے کہ باقی ماندہ بھی آزاد کرے، اگر مالدار ہے؛ اگر مالدار نہیں تو اتنا ہی آزاد ہوگا جتنا آزاد کر دیا۔“
فقیہ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سعایہ کا معاملہ اگر بشیر بن نہیک کی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ثابت ہو تو اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غلام کے اختیار پر ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مشقت نہ ڈالی جائے“ اور اس کے انکار کے باوجود اسے مجبور کرنے میں اس پر بڑی مشقت ہے۔ اور جب یہ اس کے اختیار سے ہو تو اس میں اور باقی روایات میں کوئی اختلاف نہیں رہتا، وباللہ التوفیق۔ بعض لوگوں نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ سعایہ کا معنی یہ ہے کہ غلام سے اس کے مالک کی خدمت لی جائے، اسی لیے فرمایا: ”مشقت نہ ڈالی جائے“ یعنی آقا اپنے غلام سے اس کے غلامی والے حصے سے بڑھ کر خدمت نہ لے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21386
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْعَنْبَرِيِّ، عَنِ ابْنِ التِّلِبِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا، أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ فَلَمْ يَضْمَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: إِنَّمَا هُوَ بِالتَّاءِ - يَعْنِي: التِّلِبَّ وَكَانَ شُعْبَةُ أَلْثَغَ، لَمْ يُبَيِّنِ التَّاءَ مِنَ الثَّاءِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا لَا يُخَالِفُ مَا مَضَى مِنَ الْأَحَادِيثِ، وَإِنَّمَا هُوَ فِي الْمُعْسِرِ إِذَا أَعْتَقَ نَصِيبَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ، فَلَا يَضْمَنُ الْبَاقِي، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ثلب اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی ﷺ نے اسے ضامن نہیں ٹھہرایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21387
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»