السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : من قال في المعسر: يستسعى العبد في نصيب صاحبه غير مشقوق عليه. باب: جس نے تنگ دست کے بارے میں کہا: غلام اپنے (دوسرے) مالک کے حصے کی ادائیگی کے لیے محنت مزدوری کرے گا بشرطیکہ اس پر کوئی مشقت نہ ڈالی جائے۔
حدیث نمبر: 21379
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٤٧٨⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ قَالَ: أَنْبَأَ عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ قَالَ: سُئِلَ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَبْدٍ بَيْنَ ثَلَاثَةِ نَفَرٍ، كَاتَبَ أَحَدُهُمْ، ثُمَّ أَعْتَقَ الْآخَرُ، وَأَمْسَكَ الثَّالِثُ؟ قَالَ: ذُكِرَ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ قَالَ لِهَذَا الَّذِي أَمْسَكَ نَصِيبَهُ عَلَى الْمُعْتَقِ: " إِنْ كَانَ ذَا يَسَارٍ عَنْ حَظِّهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى الْمَمْلُوكُ فِي الثُّلُثِ مِنْ قِيمَتِهِ، وَالْوَلَاءُ بَيْنَ الْمُعْتَقِ وَالْمُكَاتَبِ، لِلْمُعْتِقِ الثُّلُثَانِ، وَلِلْمُكَاتِبِ الثُّلُثُ ". وَمِنْهَا أَنْ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قِيلَ لِمَنْ حَضَرَ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ: لَوِ اخْتَلَفَ نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ، وَهَذَا الْإِسْنَادُ أَيُّهُمَا كَانَ أَثْبَتَ؟ قَالَ: نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قُلْتُ: وَعَلَيْنَا أَنْ نَصِيرَ إِلَى الْأَثْبَتِ مِنَ الْحَدِيثَيْنِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ الشَّيْخُ: مَعَ نَافِعٍ حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ بِإِبْطَالِ الِاسْتِسْعَاءِ..حافظ ثناء اللہ
عقبہ بن علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام اوزاعی رحمہ اللہ سے تین آدمیوں کے مشترک غلام کے بارے میں سوال کیا گیا: ایک نے اسے مکاتب کر لیا، دوسرے نے آزاد کر دیا اور تیسرے نے اپنا حصہ باقی رکھا۔ راوی کہتے ہیں کہ قتادہ رحمہ اللہ سے ذکر کیا گیا: جس نے اپنا حصہ روکا تھا، اگر وہ مال دار ہے۔ اگر وہ مال دار نہیں تو ثلث قیمت کی مزدوری کروا لیں اور ولاء آزاد کیے ہوئے اور مکاتب کے درمیان ہے، آزاد کرنے والے کو دو تہائی اور مکاتب کے لیے ایک تہائی ثلث ہو گی۔