❮
❯
حدیث نمبر: 21379
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٤٧٨⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ قَالَ: أَنْبَأَ عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ قَالَ: سُئِلَ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَبْدٍ بَيْنَ ثَلَاثَةِ نَفَرٍ، كَاتَبَ أَحَدُهُمْ، ثُمَّ أَعْتَقَ الْآخَرُ، وَأَمْسَكَ الثَّالِثُ؟ قَالَ: ذُكِرَ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ قَالَ لِهَذَا الَّذِي أَمْسَكَ نَصِيبَهُ عَلَى الْمُعْتَقِ: " إِنْ كَانَ ذَا يَسَارٍ عَنْ حَظِّهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى الْمَمْلُوكُ فِي الثُّلُثِ مِنْ قِيمَتِهِ، وَالْوَلَاءُ بَيْنَ الْمُعْتَقِ وَالْمُكَاتَبِ، لِلْمُعْتِقِ الثُّلُثَانِ، وَلِلْمُكَاتِبِ الثُّلُثُ ". وَمِنْهَا أَنْ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قِيلَ لِمَنْ حَضَرَ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ: لَوِ اخْتَلَفَ نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ، وَهَذَا الْإِسْنَادُ أَيُّهُمَا كَانَ أَثْبَتَ؟ قَالَ: نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قُلْتُ: وَعَلَيْنَا أَنْ نَصِيرَ إِلَى الْأَثْبَتِ مِنَ الْحَدِيثَيْنِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ الشَّيْخُ: مَعَ نَافِعٍ حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ بِإِبْطَالِ الِاسْتِسْعَاءِ..
حافظ ثناء اللہ

عقبہ بن علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام اوزاعی رحمہ اللہ سے تین آدمیوں کے مشترک غلام کے بارے میں سوال کیا گیا: ایک نے اسے مکاتب کر لیا، دوسرے نے آزاد کر دیا اور تیسرے نے اپنا حصہ باقی رکھا۔ راوی کہتے ہیں کہ قتادہ رحمہ اللہ سے ذکر کیا گیا کہ انہوں نے کہا: جس نے اپنا حصہ روکا تھا، اس کے حصے کی قیمت آزاد کرنے والے پر ہے اگر وہ مال دار ہے۔ اگر وہ مال دار نہیں تو ثلث قیمت کی مزدوری کروا لیں اور ولاء آزاد کیے ہوئے اور مکاتب کے درمیان ہے، آزاد کرنے والے کو دو تہائی اور مکاتب کے لیے ایک تہائی ثلث ہو گی۔
اور ان وجوہ میں سے ایک یہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: وہاں موجود اہل حدیث سے پوچھا گیا: اگر نافع عن ابن عمر عن النبی ﷺ کی سند اکیلی اس سند کے خلاف ہو تو ان دونوں میں سے کون سی زیادہ ثابت ہے؟ انہوں نے کہا: نافع عن ابن عمر عن النبی ﷺ۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے کہا: تو کیا ہم پر لازم ہے کہ دونوں حدیثوں میں سے زیادہ ثابت کی طرف رجوع کریں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نافع کے ساتھ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی ہے جو استسعاء کو باطل کرتی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21379
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»