السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : من قال في المعسر: يستسعى العبد في نصيب صاحبه غير مشقوق عليه. باب: جس نے تنگ دست کے بارے میں کہا: غلام اپنے (دوسرے) مالک کے حصے کی ادائیگی کے لیے محنت مزدوری کرے گا بشرطیکہ اس پر کوئی مشقت نہ ڈالی جائے۔
حدیث نمبر: 21371
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يَقُولُ: حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْعَبْدِ يَكُونُ بَيْنَ رَجُلَيْنِ يُعْتِقُ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ؟ قَالَ: " قَدْ عَتَقَ الْعَبْدُ، يُقَوَّمُ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ قِيمَةَ عَدْلٍ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک غلام کے بارے میں سوال ہوا جس کا ایک حصہ آزاد کر دیا گیا، فرمایا: ”غلام تو آزاد ہے، لیکن اس حصہ والے پر قیمت ڈال دی جائے۔ اگر مال دار ہو تو ٹھیک، وگرنہ غلام سے محنت کروائی جائے لیکن مشقت نہ ڈالی جائے“۔