❮
❯
حدیث نمبر: 21385
أَوْ عُورِضَ بِمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: كَانَ ثَلَاثُونَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ: " إِذَا أَعْتَقَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّجُلِ فَهُوَ ضَامِنٌ إِنْ كَانَ مُوسِرًا، وَإِنْ كَانَ مُعْسِرًا سَعَى بِالْعَبْدِ صَاحِبُهُ فِي نِصْفِ قِيمَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " وَهَذَا أَيْضًا ضَعِيفٌ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرُوِيَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي السِّعَايَةِ، وَهُوَ مُنْكَرٌ بِمَرَّةٍ..
حافظ ثناء اللہ

سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے تیس صحابہ رضی اللہ عنہم فرمایا کرتے تھے: اگر ایک آدمی غلام آزاد کر دے جو دو کا مشترک تھا تو وہ (آزاد کرنے والا) ضامن ہے، اگر وہ مال دار ہے۔ اگر وہ تنگ دست ہے تو پھر ان سے باقی قیمت میں محنت کروائی جائے، لیکن مشقت نہ ڈالی جائے۔
یہ روایت بھی ضعیف ہے، حجاج بن ارطاۃ قابل حجت نہیں۔ اور حجاج بن ارطاۃ سے نافع عن ابن عمر کی سند سے بھی سعایہ کے بارے میں روایت کی گئی ہے، اور وہ سخت منکر ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21385
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»