السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : من قال في المعسر: يستسعى العبد في نصيب صاحبه غير مشقوق عليه. باب: جس نے تنگ دست کے بارے میں کہا: غلام اپنے (دوسرے) مالک کے حصے کی ادائیگی کے لیے محنت مزدوری کرے گا بشرطیکہ اس پر کوئی مشقت نہ ڈالی جائے۔
حدیث نمبر: 21385
أَوْ عُورِضَ بِمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: كَانَ ثَلَاثُونَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ: " إِذَا أَعْتَقَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّجُلِ فَهُوَ ضَامِنٌ إِنْ كَانَ مُوسِرًا، وَإِنْ كَانَ مُعْسِرًا سَعَى بِالْعَبْدِ صَاحِبُهُ فِي نِصْفِ قِيمَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " وَهَذَا أَيْضًا ضَعِيفٌ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرُوِيَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي السِّعَايَةِ، وَهُوَ مُنْكَرٌ بِمَرَّةٍ..حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تین صحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا: اگر ایک آدمی غلام آزاد کر دے جو دو کا مشترک تھا تو دوسرا ضامن ہے، اگر وہ مال دار ہے۔ اگر وہ تنگ دست ہے تو پھر ان سے باقی قیمت میں محنت کروائی جائے، لیکن مشقت نہ ڈالی جائے۔