السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : من قال في المعسر: يستسعى العبد في نصيب صاحبه غير مشقوق عليه. باب: جس نے تنگ دست کے بارے میں کہا: غلام اپنے (دوسرے) مالک کے حصے کی ادائیگی کے لیے محنت مزدوری کرے گا بشرطیکہ اس پر کوئی مشقت نہ ڈالی جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَلِيٌّ قَالَ: سَمِعْتُ النَّيْسَابُورِيَّ يَقُولُ: مَا أَحْسَنَ مَا رَوَاهُ هَمَّامٌ ضَبَطَهُ وَفَصَلَ بَيْنَ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ قَوْلِ قَتَادَةَ، وَفِيمَا بَلَغَنِي عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ الْمُنْذِرِ صَاحِبِ الْخِلَافِيَّاتِ قَالَ: هَذَا الْكَلَامُ مِنْ فُتْيَا قَتَادَةَ، لَيْسَ مِنْ مَتْنِ الْحَدِيثِ. ثُمَّ ذَكَرَ حَدِيثَ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْمُقْرِيِّ، عَنْ هَمَّامٍ، ثُمَّ قَالَ: فَقَدْ أَخْبَرَ هَمَّامٌ أَنَّ ذِكْرَ السِّعَايَةِ مِنْ قَوْلِ قَتَادَةَ، وَأَلْحَقَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ الَّذِي مَيَّزَهُ هَمَّامٌ مِنْ قَوْلِ قَتَادَةَ، فَجَعَلَهُ مُتَّصِلًا بِالْحَدِيثِ..نیشاپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمام نے کیا ہی خوب روایت کی ہے، انہوں نے اسے ٹھیک ٹھیک یاد رکھا اور نبی ﷺ کے فرمان اور قتادہ کے قول کے درمیان فرق کر دیا۔ اور ابو سلیمان خطابی سے جو مجھے پہنچا ہے، وہ حسن بن یحییٰ سے اور وہ ابن المنذر صاحب الخلافیات سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: یہ بات قتادہ کے فتویٰ میں سے ہے، حدیث کے متن کا حصہ نہیں۔ پھر انہوں نے علی بن حسن عن المقری عن ہمام کی حدیث ذکر کی، پھر کہا: ہمام نے بتا دیا ہے کہ سعایہ کا ذکر قتادہ کا قول ہے، اور سعید بن ابی عروبہ نے اس حصے کو، جسے ہمام نے قتادہ کا قول قرار دے کر الگ کیا تھا، حدیث کے ساتھ ملا کر متصل کر دیا۔