السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : من قال في المعسر: يستسعى العبد في نصيب صاحبه غير مشقوق عليه. باب: جس نے تنگ دست کے بارے میں کہا: غلام اپنے (دوسرے) مالک کے حصے کی ادائیگی کے لیے محنت مزدوری کرے گا بشرطیکہ اس پر کوئی مشقت نہ ڈالی جائے۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ مِنْهُمْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَأَعْتَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُلُثَهُ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَسْعَى فِي الثُّلُثَيْنِ. . فَقَدْ ذُكِرَ ذَلِكَ لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ فَقَالَ مَنْ حَضَرَهُ: هُوَ مُرْسَلٌ، وَلَوْ كَانَ مَوْصُولًا كَانَ عَنْ رَجُلٍ لَمْ يُسَمَّ لَا يُعْرَفُ وَلَمْ يَثْبُتْ حَدِيثُهُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَعَارَضَنَا مِنْهُمْ مُعَارِضٌ بِحَدِيثٍ آخَرَ فِي الِاسْتِسْعَاءِ، فَقَطَعَهُ عَلَيْهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ وَقَالَ: لَا يَذْكُرُ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ أَحَدٌ يَعْرِفُ الْحَدِيثَ لِضَعْفِهِ..ابوقلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنو عذرہ قبیلے کے ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت غلام آزاد کر دیا، اس کے پاس اور مال نہ تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا تیسرا حصہ آزاد کر دیا اور حکم دیا کہ ”باقی دو ثلث میں غلام سے محنت لی جائے۔“
یہ روایت امام شافعی رحمہ اللہ کے سامنے ذکر کی گئی تو ان کے پاس موجود لوگوں نے کہا: یہ مرسل ہے، اور اگر موصول بھی ہو تو ایسے آدمی سے ہے جس کا نام نہیں لیا گیا، وہ معروف نہیں اور اس کی حدیث ثابت نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ان میں سے ایک معترض نے استسعاء (غلام سے محنت کروانے) کے بارے میں ایک اور حدیث سے ہم پر اعتراض کیا تو اس کے بعض ساتھیوں نے اس کی بات کاٹ دی اور کہا: حدیث کو جاننے والا کوئی شخص اس جیسی حدیث اس کے ضعف کی وجہ سے ذکر نہیں کرتا۔