السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : من قال في المعسر: يستسعى العبد في نصيب صاحبه غير مشقوق عليه. باب: جس نے تنگ دست کے بارے میں کہا: غلام اپنے (دوسرے) مالک کے حصے کی ادائیگی کے لیے محنت مزدوری کرے گا بشرطیکہ اس پر کوئی مشقت نہ ڈالی جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ التِّرْمِذِيُّ ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: ذَكَرْتُ أَنَا وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْحَجَّاجَ بْنَ أَرْطَاةَ وَخِلَافَهُ عَنِ الثِّقَاتِ وَالْحُفَّاظِ، فَتَذَاكَرْنَا مِنْ هَذَا النَّحْوِ أَحَادِيثَ كَثِيرَةً، قَالَ: فَذَكَرْنَا لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ حَدِيثَ الْحَجَّاجِ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا كَانَ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ أَنَّ الَّذِي لَمْ يُعْتِقْ إِنْ شَاءَ ضَمِنَ الْمُعْتِقَ الْقِيمَةَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ اسْتَسْعَى الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَيْضًا مِنْ أَعْظَمِ الْفِرْيَةِ، كَيْفَ يَكُونُ هَذَا عَلَى مَا رَوَاهُ الْحَجَّاجُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَقَدْ رَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرَ، لَمْ يَكُنْ فِي آلِ عُمَرَ أَثْبَتَ مِنْهُ، وَلَا أَحْفَظَ، وَلَا أَوْثَقَ، وَلَا أَشَدَّ تَقَدُّمَةً فِي عِلْمِ الْحَدِيثِ فِي زَمَانِهِ، فَكَانَ يُقَالُ: إِنَّهُ وَاحِدُ دَهْرِهِ فِي الْحِفْظِ، ثُمَّ تَلَاهُ فِي رِوَايَتِهِ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَلَمْ يَكُنْ دُونَهُ فِي الْحِفْظِ، بَلْ هُوَ عِنْدَنَا فِي الْحِفْظِ وَالْإِتْقَانِ مِثْلُهُ، أَوْ أَجْمَعُ مِنْهُ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَحْوَالِ، وَرَوَاهُ أَيْضًا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَهُوَ مِنْ أَثْبَتِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَأَصَحِّهِمْ رِوَايَةً، رَوَوْهُ جَمِيعًا، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ ⦗٤٨٠⦘ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا أَوْ شِقْصًا فِي عَبْدٍ كُلِّفَ عِتْقَ مَا بَقِيَ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ فَإِنَّهُ يُعْتِقُ مِنَ الْعَبْدِ مَا أَعْتَقَ ". قَالَ الْفَقِيهُ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَمْرُ السِّعَايَةِ إِنْ ثَبَتَ فِي حَدِيثِ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفِيهِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ عَلَى الِاخْتِيَارِ مِنْ جِهَةِ الْعَبْدِ، فَإِنَّهُ قَالَ: غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ، وَفِي الْإِجْبَارِ عَلَيْهِ وَهُوَ يَأْبَاهُ مَشَقَّةٌ عَظِيمَةٌ عَلَيْهِ، وَإِذَا كَانَ ذَلِكَ بِاخْتِيَارِهِ لَمْ يَكُنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَائِرِ الْأَخْبَارِ مُخَالَفَةٌ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ. وَقَدْ تَأَوَّلَهُ بَعْضُ النَّاسِ فَقَالَ: مَعْنَى السِّعَايَةِ أَنْ يُسْتَسْعَى الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ أَنْ يُسْتَخْدَمَ لِمَالِكِهِ، وَلِذَلِكَ قَالَ: غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ، أَيْ لَا يُحَمَّلُ مِنَ الْخِدْمَةِ فَوْقَ مَا يَلْزَمُهُ بِحِصَّةِ الرِّقِّ.سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فیصلہ فرمایا: ”جب دو آدمیوں کا غلام ہو، ایک آزاد کر دے تو آزاد کرنے والے کو ضامن بنایا جائے گا اگر وہ مالدار ہو۔ اگر مالدار نہ ہو تو غلام سے مزدوری کروائی جائے۔“
عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ بھی بہت بڑے جھوٹ میں سے ہے۔ یہ اس طرح کیسے ہو سکتا ہے جیسے حجاج نے نافع عن ابن عمر سے روایت کیا، حالانکہ اسے عبیداللہ بن عمر نے روایت کیا ہے، آل عمر میں ان سے بڑھ کر کوئی ثابت، حافظ، ثقہ اور اپنے زمانے میں علم حدیث میں آگے نہ تھا، یہاں تک کہ کہا جاتا تھا کہ وہ حفظ میں اپنے زمانے میں یکتا ہیں، پھر ان کے بعد مالک بن انس نے اسے روایت کیا اور وہ حفظ میں ان سے کم نہ تھے، بلکہ ہمارے نزدیک حفظ و اتقان میں ان کے برابر یا بہت سے پہلوؤں میں ان سے زیادہ جامع تھے، اور یحییٰ بن سعید انصاری نے بھی اسے روایت کیا جو اہل مدینہ میں سب سے زیادہ ثابت اور روایت میں سب سے صحیح ہیں۔
(ب) ان سب نے نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنا غلام کا حصہ آزاد کر دیا اس پر لازم ہے کہ باقی ماندہ بھی آزاد کرے، اگر مالدار ہے؛ اگر مالدار نہیں تو اتنا ہی آزاد ہوگا جتنا آزاد کر دیا۔“
فقیہ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سعایہ کا معاملہ اگر بشیر بن نہیک کی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ثابت ہو تو اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غلام کے اختیار پر ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مشقت نہ ڈالی جائے“ اور اس کے انکار کے باوجود اسے مجبور کرنے میں اس پر بڑی مشقت ہے۔ اور جب یہ اس کے اختیار سے ہو تو اس میں اور باقی روایات میں کوئی اختلاف نہیں رہتا، وباللہ التوفیق۔ بعض لوگوں نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ سعایہ کا معنی یہ ہے کہ غلام سے اس کے مالک کی خدمت لی جائے، اسی لیے فرمایا: ”مشقت نہ ڈالی جائے“ یعنی آقا اپنے غلام سے اس کے غلامی والے حصے سے بڑھ کر خدمت نہ لے۔