السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : من قال في المعسر: يستسعى العبد في نصيب صاحبه غير مشقوق عليه. باب: جس نے تنگ دست کے بارے میں کہا: غلام اپنے (دوسرے) مالک کے حصے کی ادائیگی کے لیے محنت مزدوری کرے گا بشرطیکہ اس پر کوئی مشقت نہ ڈالی جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ أَحْمَدَ بْنَ كَامِلٍ الْقَاضِي يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا قِلَابَةَ الرَّقَاشِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: شُعْبَةُ أَعْلَمُ النَّاسِ بِحَدِيثِ قَتَادَةَ، مَا سَمِعَ مِنْهُ وَمَا لَمْ يَسْمَعْ، وهِشَامٌ أَحْفَظُ، وَسَعِيدٌ أَكْثَرُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَقَدِ اجْتَمَعَ شُعْبَةُ مَعَ فَضْلِ حِفْظِهِ وَعِلْمِهِ بِمَا سَمِعَ مِنْ قَتَادَةَ وَمَا لَمْ يَسْمَعْ، وَهِشَامٌ مَعَ فَضْلِ حِفْظِهِ، وَهَمَّامٌ مَعَ صِحَّةِ كِتَابِهِ، وَزِيَادَةِ مَعْرِفَتِهِ بِمَا لَيْسَ مِنَ الْحَدِيثِ عَلَى خِلَافِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَمَنْ وَافَقَهُ فِي إِدْرَاجِ السِّعَايَةِ فِي الْحَدِيثِ. وَفِي هَذَا مَا يُشْكِلُ فِي ثُبُوتِ الِاسْتِسْعَاءِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ. وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى أَنَّ فَضْلَ الِاسْتِسْعَاءِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ فُتْيَا قَتَادَةَ مَا:.یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شعبہ قتادہ کی حدیث کو سب لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں کہ انہوں نے ان سے کیا سنا اور کیا نہیں سنا، ہشام زیادہ حافظ ہیں اور سعید سب سے زیادہ روایت کرنے والے ہیں۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شعبہ اپنے حافظے کی فضیلت اور قتادہ سے جو سنا اور جو نہیں سنا اس کے علم کے ساتھ، ہشام اپنے حافظے کی فضیلت کے ساتھ، اور ہمام اپنی کتاب کی صحت اور جو چیز حدیث کا حصہ نہیں اس کی زیادہ معرفت کے ساتھ، ابن ابی عروبہ اور سعایہ کو حدیث میں مدرج کرنے میں ان کی موافقت کرنے والوں کے خلاف متفق ہیں۔ اور اس میں وہ بات ہے جو اس حدیث میں استسعاء (غلام سے محنت کروانے) کے ثابت ہونے کو مشکوک بناتی ہے۔ اور جو چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس حدیث میں استسعاء کا اضافی حصہ قتادہ کا فتویٰ ہے وہ درج ذیل ہے۔