کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس بات کی دلیل کہ مشابہت کے غلبے کا نسب میں اثر ہوتا ہے، اور اس کا حکم لاگو ہوتا ہے بشرطیکہ وہاں اس سے زیادہ قوی چیز مثلاً بستر (نکاح) یا کوئی اور چیز موجود نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ، فَقَالَ: " أَلَمْ ⦗٤٤٨⦘ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا نَظَرَ آنِفًا إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَإِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ: إِنَّ بَعْضَ هَذِهِ الْأَقْدَامِ مِنْ بَعْضٍ "..
حافظ ثناء اللہ
عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک دن خوش خوش ان کے پاس آئے حتیٰ کہ آپ کی پیشانی کی سلوٹیں بھی چمک رہی تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا آپ کو پتہ نہیں کہ قیافہ شناس نے ابھی زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھ کر کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے کا حصہ ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21272
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عورت کے احتلام کے قصے کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «وَهَلْ يَكُونُ الشَّبَهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَلِكَ إِذَا عَلَا مَاؤُهَا مَاءَ الرَّجُلِ شَبَهَ الْوَلَدُ أَخْوَالَهُ وَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَهَا أَشْبَهَ الْوَلَدُ أَعْمَامَهُ» ”اور کیا مشابہت اسی کے علاوہ کسی اور چیز سے ہوتی ہے؟ جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جائے تو بچہ اپنے ماموؤں کے مشابہ ہوتا ہے اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آ جائے تو بچہ اپنے چچاؤں کے مشابہ ہوتا ہے“۔
اسے مسلم نے صحیح میں یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ کی حدیث سے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21273
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِي، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ مُسَافِعِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي قِصَّةِ احْتِلَامِ الْمَرْأَةِ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَهَلْ يَكُونُ الشَّبَهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَلِكَ؟ إِذَا عَلَا مَاؤُهَا مَاءَ الرَّجُلِ أَشَبَهَ الْوَلَدُ أَخْوَالَهُ، وَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَهَا أَشْبَهَ الْوَلَدُ أَعْمَامَهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک اعرابی آیا اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری بیوی نے ایک سیاہ رنگ کا لڑکا جنا ہے، تو نبی ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”ان کے رنگ کیا ہیں؟“ اس نے عرض کیا: سرخ۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا ان میں کوئی «أَوْرَقَ» ”خاکستری“ رنگ کا بھی ہے؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تو وہ کہاں سے آگیا؟“ اس نے عرض کیا: میرا خیال ہے کہ «عِرْقًا نَزَعَهُ» ”کسی رگ نے اسے کھینچ لیا ہو گا۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تمہارے اس بیٹے کو بھی «نَزَعَهُ عِرْقٌ» ”کسی رگ نے کھینچ لیا ہو۔“
اسے بخاری نے صحیح میں اسماعیل بن ابی اویس سے روایت کیا ہے اور اسے مسلم نے زہری سے دوسری سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔
[صحیح۔ اس سے پہلے گزر چکی ہے]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21274
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ "؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " مَا أَلْوَانُهَا "؟ قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: " هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ "؟ قَالَ: أُرَاهُ عِرْقًا نَزَعَهُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّ ابْنَكَ هَذَا نَزْعَةُ عِرْقٌ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے لعان کے قصے میں مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «أَبْصِرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ» ”تم اسے دیکھتے رہنا، پس اگر وہ سفید رنگت والا، سیدھے بالوں والا اور چندھی آنکھوں والا بچہ جنے تو وہ ہلال بن امیہ کا ہے، اور اگر وہ سرمئی آنکھوں والا، گھنگھریالے بالوں والا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو وہ شریک بن سحماء کا ہے“۔ انہوں نے کہا: پھر مجھے بتایا گیا کہ اس عورت نے سرمئی آنکھوں والا، گھنگھریالے بالوں والا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ ہی جنا۔
اسے مسلم نے الصحیح میں محمد بن مثنی سے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21275
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فِي قِصَّةِ اللِّعَانِ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْصِرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ "، قَالَ: فَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنًّى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے پاس اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ تہمت لگائی، پھر انہوں نے لعان کے قصے میں حدیث ذکر کی، (راوی نے) کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «أَبْصِرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الْإِلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ» ”اسے دیکھتے رہو، پس اگر وہ ایسا بچہ جنے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں، سرین بھرے ہوئے ہوں اور پنڈلیاں گوشت سے بھری ہوئی ہوں تو وہ شریک بن سحماء کا ہے“۔ پھر اس نے ویسا ہی بچہ جنا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «لَوْلَا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ» ”اگر اللہ کی کتاب کا (حکم) پہلے نہ گزر چکا ہوتا تو میرا اور اس کا ایک معاملہ ہوتا“۔
اسے بخاری نے صحیح میں محمد بن بشار سے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21276
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ⦗٤٤٩⦘ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قِصَّةِ اللِّعَانِ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْصِرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ، سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ، خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ، فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما کا ایک لڑکے کے بارے میں جھگڑا ہوا تو سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے، اس نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ یہ اسی کا بیٹا ہے، آپ اس کی شباہت ملاحظہ فرمائیں۔“ اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ میرا بھائی ہے، یہ میرے والد کے بستر پر ان کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔“ پس رسول اللہ ﷺ نے اس کی شباہت دیکھی تو اس میں عتبہ کی واضح شباہت پائی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبد! یہ لڑکا تمہارا ہی (بھائی) ہے، «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» ”بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے“ اور اے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا! تم اس سے پردہ کرو۔“ چنانچہ اس (لڑکے) نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو کبھی نہیں دیکھا۔
اسے بخاری اور مسلم نے صحیح میں قتیبہ بن سعید سے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21277
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَامٍ، فَقَالَ سَعْدٌ: هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَهِدَ إِلِيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ، انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: هَذَا أَخِيُ يَا رَسُولَ اللهِ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ، فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ "، فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں ابوالولید نے حج کروایا اور ہم سیرین کے سات بیٹے تھے، وہ ہمیں لے کر مدینہ منورہ سے گزرے اور ہمیں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر کیا اور ان سے کہا: «هَؤُلَاءِ بَنُو سِيرِينَ» ”یہ سیرین کے بیٹے ہیں“، تو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «هَذَانِ لِأُمٍّ وَهَذَانِ لِأُمٍّ وَهَذَانِ لِأُمٍّ وَهَذَا لِأُمٍّ» ”یہ دونوں ایک ماں سے ہیں، یہ دونوں ایک ماں سے ہیں، یہ دونوں ایک ماں سے ہیں اور یہ (اکیلا) ایک ماں سے ہے“، محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے (پہچاننے میں) کوئی غلطی نہیں کی اور یحییٰ بن سیرین، محمد بن سیرین کے مادری (ایک ہی ماں سے) بھائی تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21278
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: حَجَّ بِنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَنَحْنُ سَبْعَةٌ وَلَدُ سِيرِينَ، فَمَرَّ بِنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، فَأُدْخِلْنَا عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَقَالَ لَهُ: هَؤُلَاءِ بَنُو سِيرِينَ، قَالَ: فَقَالَ زَيْدٌ: " هَذَانِ لِأُمٍّ، وَهَذَانِ لِأُمٍّ، وَهَذَانِ لِأُمٍّ، وَهَذَا لِأُمٍّ، قَالَ: فَمَا أَخْطَأَ، وَكَانَ يَحْيَى بْنُ سِيرِينَ أَخَا مُحَمَّدٍ لِأُمِّهِ..
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ابو ولید نے حج کیا اور ہم سیرین کے سات بیٹے تھے، مدینہ سے ہمارا گزر ہوا تو ہم زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ وہ کہنے لگے: یہ دو ایک ماں کے ہیں، یہ دو ایک ماں کے ہیں۔ یہ دو ایک ماں کے ہیں اور یہ ایک ماں کا ہے۔ انہوں نے غلطی نہ کی تھی؛ کیونکہ یحییٰ بن سیرین محمد کے بھائی ان کی والدہ سے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21279