السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: : الدليل على أن لغلبة الأشباه تأثيرا في الأنساب، وأن لها حكما إذا لم يكن ما هو أقوى منها من فراش، أو غيره. باب: اس بات کی دلیل کہ مشابہت کے غلبے کا نسب میں اثر ہوتا ہے، اور اس کا حکم لاگو ہوتا ہے بشرطیکہ وہاں اس سے زیادہ قوی چیز مثلاً بستر (نکاح) یا کوئی اور چیز موجود نہ ہو۔
حدیث نمبر: 21279
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: حَجَّ بِنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَنَحْنُ سَبْعَةٌ وَلَدُ سِيرِينَ، فَمَرَّ بِنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، فَأُدْخِلْنَا عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَقَالَ لَهُ: هَؤُلَاءِ بَنُو سِيرِينَ، قَالَ: فَقَالَ زَيْدٌ: " هَذَانِ لِأُمٍّ، وَهَذَانِ لِأُمٍّ، وَهَذَانِ لِأُمٍّ، وَهَذَا لِأُمٍّ، قَالَ: فَمَا أَخْطَأَ، وَكَانَ يَحْيَى بْنُ سِيرِينَ أَخَا مُحَمَّدٍ لِأُمِّهِ..حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ابو ولید نے حج کیا اور ہم سیرین کے سات بیٹے تھے، مدینہ سے ہمارا گزر ہوا تو ہم زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ وہ کہنے لگے: یہ دو ایک ماں کے ہیں، یہ دو ایک ماں کے ہیں۔ یہ دو ایک ماں کے ہیں اور یہ ایک ماں کا ہے۔ انہوں نے غلطی نہ کی تھی؛ کیونکہ یحییٰ بن سیرین محمد کے بھائی ان کی والدہ سے تھے۔