السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: : الدليل على أن لغلبة الأشباه تأثيرا في الأنساب، وأن لها حكما إذا لم يكن ما هو أقوى منها من فراش، أو غيره. باب: اس بات کی دلیل کہ مشابہت کے غلبے کا نسب میں اثر ہوتا ہے، اور اس کا حکم لاگو ہوتا ہے بشرطیکہ وہاں اس سے زیادہ قوی چیز مثلاً بستر (نکاح) یا کوئی اور چیز موجود نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فِي قِصَّةِ اللِّعَانِ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْصِرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ "، قَالَ: فَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنًّى.سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے پاس اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ تہمت لگائی، پھر انہوں نے لعان کے قصے میں حدیث ذکر کی، (راوی نے) کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «أَبْصِرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الْإِلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ» ”اسے دیکھتے رہو، پس اگر وہ ایسا بچہ جنے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں، سرین بھرے ہوئے ہوں اور پنڈلیاں گوشت سے بھری ہوئی ہوں تو وہ شریک بن سحماء کا ہے“۔ پھر اس نے ویسا ہی بچہ جنا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «لَوْلَا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ» ”اگر اللہ کی کتاب کا (حکم) پہلے نہ گزر چکا ہوتا تو میرا اور اس کا ایک معاملہ ہوتا“۔
اسے بخاری نے صحیح میں محمد بن بشار سے روایت کیا ہے۔