السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: : الدليل على أن لغلبة الأشباه تأثيرا في الأنساب، وأن لها حكما إذا لم يكن ما هو أقوى منها من فراش، أو غيره. باب: اس بات کی دلیل کہ مشابہت کے غلبے کا نسب میں اثر ہوتا ہے، اور اس کا حکم لاگو ہوتا ہے بشرطیکہ وہاں اس سے زیادہ قوی چیز مثلاً بستر (نکاح) یا کوئی اور چیز موجود نہ ہو۔
حدیث نمبر: 21272
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ، فَقَالَ: " أَلَمْ ⦗٤٤٨⦘ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا نَظَرَ آنِفًا إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَإِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ: إِنَّ بَعْضَ هَذِهِ الْأَقْدَامِ مِنْ بَعْضٍ "..حافظ ثناء اللہ
عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک دن خوش خوش ان کے پاس آئے حتیٰ کہ آپ کی پیشانی کی سلوٹیں بھی چمک رہی تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا آپ کو پتہ نہیں کہ قیافہ شناس نے ابھی زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھ کر کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے کا حصہ ہیں۔“