السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: : الدليل على أن لغلبة الأشباه تأثيرا في الأنساب، وأن لها حكما إذا لم يكن ما هو أقوى منها من فراش، أو غيره. باب: اس بات کی دلیل کہ مشابہت کے غلبے کا نسب میں اثر ہوتا ہے، اور اس کا حکم لاگو ہوتا ہے بشرطیکہ وہاں اس سے زیادہ قوی چیز مثلاً بستر (نکاح) یا کوئی اور چیز موجود نہ ہو۔
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عورت کے احتلام کے قصے کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «وَهَلْ يَكُونُ الشَّبَهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَلِكَ إِذَا عَلَا مَاؤُهَا مَاءَ الرَّجُلِ شَبَهَ الْوَلَدُ أَخْوَالَهُ وَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَهَا أَشْبَهَ الْوَلَدُ أَعْمَامَهُ» ”اور کیا مشابہت اسی کے علاوہ کسی اور چیز سے ہوتی ہے؟ جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جائے تو بچہ اپنے ماموؤں کے مشابہ ہوتا ہے اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آ جائے تو بچہ اپنے چچاؤں کے مشابہ ہوتا ہے“۔
اسے مسلم نے صحیح میں یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ کی حدیث سے روایت کیا ہے۔