السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: : الدليل على أن لغلبة الأشباه تأثيرا في الأنساب، وأن لها حكما إذا لم يكن ما هو أقوى منها من فراش، أو غيره. باب: اس بات کی دلیل کہ مشابہت کے غلبے کا نسب میں اثر ہوتا ہے، اور اس کا حکم لاگو ہوتا ہے بشرطیکہ وہاں اس سے زیادہ قوی چیز مثلاً بستر (نکاح) یا کوئی اور چیز موجود نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَامٍ، فَقَالَ سَعْدٌ: هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَهِدَ إِلِيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ، انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: هَذَا أَخِيُ يَا رَسُولَ اللهِ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ، فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ "، فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں ابوالولید نے حج کروایا اور ہم سیرین کے سات بیٹے تھے، وہ ہمیں لے کر مدینہ منورہ سے گزرے اور ہمیں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر کیا اور ان سے کہا: «هَؤُلَاءِ بَنُو سِيرِينَ» ”یہ سیرین کے بیٹے ہیں“، تو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «هَذَانِ لِأُمٍّ وَهَذَانِ لِأُمٍّ وَهَذَانِ لِأُمٍّ وَهَذَا لِأُمٍّ» ”یہ دونوں ایک ماں سے ہیں، یہ دونوں ایک ماں سے ہیں، یہ دونوں ایک ماں سے ہیں اور یہ (اکیلا) ایک ماں سے ہے“، محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے (پہچاننے میں) کوئی غلطی نہیں کی اور یحییٰ بن سیرین، محمد بن سیرین کے مادری (ایک ہی ماں سے) بھائی تھے۔