السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: : الدليل على أن لغلبة الأشباه تأثيرا في الأنساب، وأن لها حكما إذا لم يكن ما هو أقوى منها من فراش، أو غيره. باب: اس بات کی دلیل کہ مشابہت کے غلبے کا نسب میں اثر ہوتا ہے، اور اس کا حکم لاگو ہوتا ہے بشرطیکہ وہاں اس سے زیادہ قوی چیز مثلاً بستر (نکاح) یا کوئی اور چیز موجود نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِي، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ مُسَافِعِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي قِصَّةِ احْتِلَامِ الْمَرْأَةِ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَهَلْ يَكُونُ الشَّبَهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَلِكَ؟ إِذَا عَلَا مَاؤُهَا مَاءَ الرَّجُلِ أَشَبَهَ الْوَلَدُ أَخْوَالَهُ، وَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَهَا أَشْبَهَ الْوَلَدُ أَعْمَامَهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک اعرابی آیا اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری بیوی نے ایک سیاہ رنگ کا لڑکا جنا ہے، تو نبی ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”ان کے رنگ کیا ہیں؟“ اس نے عرض کیا: سرخ۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا ان میں کوئی «أَوْرَقَ» ”خاکستری“ رنگ کا بھی ہے؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تو وہ کہاں سے آگیا؟“ اس نے عرض کیا: میرا خیال ہے کہ «عِرْقًا نَزَعَهُ» ”کسی رگ نے اسے کھینچ لیا ہو گا۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تمہارے اس بیٹے کو بھی «نَزَعَهُ عِرْقٌ» ”کسی رگ نے کھینچ لیا ہو۔“
اسے بخاری نے صحیح میں اسماعیل بن ابی اویس سے روایت کیا ہے اور اسے مسلم نے زہری سے دوسری سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔
[صحیح۔ اس سے پہلے گزر چکی ہے]