السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: : الدليل على أن لغلبة الأشباه تأثيرا في الأنساب، وأن لها حكما إذا لم يكن ما هو أقوى منها من فراش، أو غيره. باب: اس بات کی دلیل کہ مشابہت کے غلبے کا نسب میں اثر ہوتا ہے، اور اس کا حکم لاگو ہوتا ہے بشرطیکہ وہاں اس سے زیادہ قوی چیز مثلاً بستر (نکاح) یا کوئی اور چیز موجود نہ ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ⦗٤٤٩⦘ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قِصَّةِ اللِّعَانِ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْصِرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ، سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ، خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ، فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما کا ایک لڑکے کے بارے میں جھگڑا ہوا تو سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے، اس نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ یہ اسی کا بیٹا ہے، آپ اس کی شباہت ملاحظہ فرمائیں۔“ اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ میرا بھائی ہے، یہ میرے والد کے بستر پر ان کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔“ پس رسول اللہ ﷺ نے اس کی شباہت دیکھی تو اس میں عتبہ کی واضح شباہت پائی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبد! یہ لڑکا تمہارا ہی (بھائی) ہے، «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» ”بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے“ اور اے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا! تم اس سے پردہ کرو۔“ چنانچہ اس (لڑکے) نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو کبھی نہیں دیکھا۔
اسے بخاری اور مسلم نے صحیح میں قتیبہ بن سعید سے روایت کیا ہے۔