کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ایسا شخص جو خود کو گانے کی طرف منسوب نہ کرے اور نہ اس کے پاس اس غرض سے آیا جائے اور نہ وہ خود اس کے لیے جائے، بلکہ وہ اس بات سے معروف ہو کہ وہ حالتِ وجد میں گنگنانے لگتا ہے۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَمْ يُسْقِطْ هَذَا شَهَادَتَهُ، وَكَذَلِكَ الْمَرْأَةُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس (بات) نے اس کی گواہی ساقط نہیں کی، اور عورت کا بھی یہی حکم ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِيِّ الْأَنْصَارِ تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتِ الْأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثٍ، أَوْ بُغَاثٍ، شَكَّ الْحَارِثِيُّ قَالَتْ: وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَمَزْمُورُ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَذَلِكَ يَوْمُ عِيدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَهَذَا عِيدُنَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَقَالَا: يَوْمَ بُعَاثٍ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اور میرے پاس دو انصاری بچیاں گا رہی تھیں۔ وہ انصار کی وہ باتیں کر رہی تھیں، جو جنگِ بعاث میں ان کو پیش آئیں اور وہ دونوں گانے والیاں نہ تھیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: رسول اللہ ﷺ کے گھر میں گانے بجانے کے آلات، اور یہ عید کا دن تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوبکر! ہر قوم کی عید ہوتی ہے، یہ ہماری عید کا دن ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُغَنِّيَانِ وَتُدَفِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَغَشٍّ بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُنَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَشَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَقَالَ: " دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ "، وَتِلْكَ أَيَّامُ مِنًى، وَرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِثَوْبِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا جَارِيَةٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ان کے پاس سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اور منیٰ کے ایام میں ان کے پاس دو گانے والی بچیاں تھیں، وہ دونوں دف بجا رہی تھیں اور نبی ﷺ کپڑا اوڑھے لیٹے ہوئے تھے، تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹ پلائی۔ نبی ﷺ نے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر! چھوڑو، یہ عید کے ایام ہیں۔“ اور یہ منیٰ کے ایام تھے اور رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تھے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ نے مجھے کپڑے سے چھپا رکھا تھا اور میں مسجد میں کھیلنے والے حبشیوں کا کھیل دیکھ رہی تھی، میں اس وقت بچی تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُوبَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي طَرِيقِ الْحَجِّ وَنَحْنُ نَؤُمُّ مَكَّةَ اعْتَزَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الطَّرِيقَ، ثُمَّ قَالَ لِرَبَاحِ بْنِ الْمُغْتَرِفِ: غَنِّنَا يَا أَبَا حَسَّانَ، وَكَانَ يُحْسِنُ النَّصْبَ، فَبَيْنَا رَبَاحٌ يُغَنِّيهِ أَدْرَكَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ فَقَالَ: " مَا هَذَا؟ "، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: مَا بَأْسٌ بِهَذَا، نَلْهُو وَنَقْصُرُ عَنَّا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " فَإِنْ كُنْتَ آخِذًا فَعَلَيْكَ بِشِعْرِ ضِرَارِ بْنِ الْخَطَّابِ "، وَضِرَارٌ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُحَارِبِ بْنِ فِهْرٍ. قَالَ الشَّيْخُ: " وَالنَّصْبُ ضَرْبٌ مِنْ أَغَانِي الْأَعْرَابِ، وَهُوَ يُشْبِهُ الْحُدَاءَ، قَالَهُ أَبُو عُبَيْدٍ الْهَرَوِيُّ وَرُوِّينَا فِيهِ قِصَّةً أُخْرَى، عَنْ خَوَّاتِ بْنِ خَبِيرٍ، عَنْ عُمَرَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فِي كِتَابِ الْحَجِّ، قَالَ فِيهَا خَوَّاتٌ: فَمَا زِلْتُ أُغَنِّيهِمْ حَتَّى إِذَا كَانَ السَّحَرُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کے راستے میں تھے اور مکہ کا ارادہ تھا۔ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ راستے کی ایک طرف ہو گئے اور رباح بن مغترف رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: گانا سناؤ۔ وہ اچھی آواز والے تھے، تو رباح ان کو گانا سنا رہے تھے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں ان کو پکڑ لیا اور پوچھا: یہ کیا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگر آپ نے شعر ہی یاد کرنے ہیں تو پھر ضرار بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اشعار یاد کرو اور ضرار یہ قبیلہ بنو محارب بن فہر کا آدمی تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَالِسًا فِي الْمَجْلِسِ، رَافِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى، رَافِعًا عَقِيرَتَهُ " قَالَ: حَسِبْتُهُ قَالَ: " يَتَغَنَّى النَّصْبَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن حارث بن نوفل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ ایک مجلس میں ایک پاؤں دوسرے پر رکھے ہوئے تھے اور ان کی آواز بلند تھی، میرا گمان ہے وہ سُر لگا کر گا رہے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فِي مَسْجِدِ ⦗٣٨٠⦘ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا رَافِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى، يَتَغَنَّى النَّصْبَ ". هَكَذَا قَالَهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَغَيْرُهُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ: وَالْحَدِيثُ كَمَا قَالَ الْقَوْمُ، غَيْرَ مَعْمَرٍ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبداللہ بن نوفل نے خبر دی کہ انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ مسجد نبوی میں پاؤں کے اوپر پاؤں رکھ کر لیٹے ہوئے تھے اور سر لگا کر گا بھی رہے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا بِشْرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ مَنْ لَا يُتَّهَمُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَهُوَ جَدُّ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ أَبُو أُمِّهِ، قَالَ سُلَيْمَانُ: فَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَهُ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَهُوَ أَمِيرُ الْجَيْشِ رَافِعًا عَقِيرَتَهُ يَتَغَنَّى النَّصْبَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ بدر میں شریک تھے، وہ زید بن حسن کے دادا ہیں، سلیمان کہتے ہیں: مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے ان سے سنا، وہ اپنی سواری پر تھے اور لشکر کے امیر تھے، بلند آواز سے بڑے سُر میں گا رہے تھے۔
(ب) عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے سنا کہ سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ بلند آواز سے گا رہے تھے اور عبداللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے والا انسان میں نے نہیں دیکھا۔
(ب) عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے سنا کہ سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ بلند آواز سے گا رہے تھے اور عبداللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے والا انسان میں نے نہیں دیکھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ وَكَانَ مُتَّكِئًا: تَغَنَّى بِلَالٌ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: تَغَنَّى؟ فَاسْتَوَى جَالِسًا، ثُمَّ قَالَ: " وَأِيُّ رَجُلٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَمْ أَسْمَعْهُ يَتَغَنَّى النَّصْبَ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
وہب بن کیسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ بلال رضی اللہ عنہ گا رہے تھے، ان سے ایک آدمی نے کہا: ”گا رہے ہو؟“ وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ فرمانے لگے: ”کون سا مہاجرین کا آدمی ہے کہ میں نے اس کو سنا ہو اور وہ سر لگا کر نہ گاتا ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَجَاءٍ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَطَاءً عَنِ الْغِنَاءِ بِالشِّعْرِ؟ فَقَالَ: " لَا أَرَى بِهِ بَأْسًا مَا لَمْ يَكُنْ فُحْشًا ".
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے اشعار کے گانے کے متعلق سوال کیا تو وہ کہنے لگے: اگر گندے اشعار نہ ہوں تو کوئی حرج نہیں۔