حدیث نمبر: 21018
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ وَكَانَ مُتَّكِئًا: تَغَنَّى بِلَالٌ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: تَغَنَّى؟ فَاسْتَوَى جَالِسًا، ثُمَّ قَالَ: " وَأِيُّ رَجُلٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَمْ أَسْمَعْهُ يَتَغَنَّى النَّصْبَ؟ ".
حافظ ثناء اللہ

وہب بن کیسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ بلال رضی اللہ عنہ گا رہے تھے، ان سے ایک آدمی نے کہا: ”گا رہے ہو؟“ وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ فرمانے لگے: ”کون سا مہاجرین کا آدمی ہے کہ میں نے اس کو سنا ہو اور وہ سر لگا کر نہ گاتا ہو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 21018
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»