السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : الرجل لا ينسب نفسه إلى الغناء ولا يؤتى لذلك، ولا يأتي عليه، وإنما يعرف بأنه يطرب في الحال فيترنم فيها باب: ایسا شخص جو خود کو گانے کی طرف منسوب نہ کرے اور نہ اس کے پاس اس غرض سے آیا جائے اور نہ وہ خود اس کے لیے جائے، بلکہ وہ اس بات سے معروف ہو کہ وہ حالتِ وجد میں گنگنانے لگتا ہے۔
حدیث نمبر: 21016
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فِي مَسْجِدِ ⦗٣٨٠⦘ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا رَافِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى، يَتَغَنَّى النَّصْبَ ". هَكَذَا قَالَهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَغَيْرُهُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ: وَالْحَدِيثُ كَمَا قَالَ الْقَوْمُ، غَيْرَ مَعْمَرٍ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبداللہ بن نوفل نے خبر دی کہ انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ مسجد نبوی میں پاؤں کے اوپر پاؤں رکھ کر لیٹے ہوئے تھے اور سر لگا کر گا بھی رہے تھے۔