السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : الرجل لا ينسب نفسه إلى الغناء ولا يؤتى لذلك، ولا يأتي عليه، وإنما يعرف بأنه يطرب في الحال فيترنم فيها باب: ایسا شخص جو خود کو گانے کی طرف منسوب نہ کرے اور نہ اس کے پاس اس غرض سے آیا جائے اور نہ وہ خود اس کے لیے جائے، بلکہ وہ اس بات سے معروف ہو کہ وہ حالتِ وجد میں گنگنانے لگتا ہے۔
حدیث نمبر: 21015
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَالِسًا فِي الْمَجْلِسِ، رَافِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى، رَافِعًا عَقِيرَتَهُ " قَالَ: حَسِبْتُهُ قَالَ: " يَتَغَنَّى النَّصْبَ ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن حارث بن نوفل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ ایک مجلس میں ایک پاؤں دوسرے پر رکھے ہوئے تھے اور ان کی آواز بلند تھی، میرا گمان ہے وہ سُر لگا کر گا رہے تھے۔