السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : الرجل لا ينسب نفسه إلى الغناء ولا يؤتى لذلك، ولا يأتي عليه، وإنما يعرف بأنه يطرب في الحال فيترنم فيها باب: ایسا شخص جو خود کو گانے کی طرف منسوب نہ کرے اور نہ اس کے پاس اس غرض سے آیا جائے اور نہ وہ خود اس کے لیے جائے، بلکہ وہ اس بات سے معروف ہو کہ وہ حالتِ وجد میں گنگنانے لگتا ہے۔
حدیث نمبر: 21017
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا بِشْرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ مَنْ لَا يُتَّهَمُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَهُوَ جَدُّ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ أَبُو أُمِّهِ، قَالَ سُلَيْمَانُ: فَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَهُ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَهُوَ أَمِيرُ الْجَيْشِ رَافِعًا عَقِيرَتَهُ يَتَغَنَّى النَّصْبَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ بدر میں شریک تھے، وہ زید بن حسن کے دادا ہیں، سلیمان کہتے ہیں: مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے ان سے سنا، وہ اپنی سواری پر تھے اور لشکر کے امیر تھے، بلند آواز سے بڑے سُر میں گا رہے تھے۔
(ب) عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے سنا کہ سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ بلند آواز سے گا رہے تھے اور عبداللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے والا انسان میں نے نہیں دیکھا۔