السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : الرجل لا ينسب نفسه إلى الغناء ولا يؤتى لذلك، ولا يأتي عليه، وإنما يعرف بأنه يطرب في الحال فيترنم فيها باب: ایسا شخص جو خود کو گانے کی طرف منسوب نہ کرے اور نہ اس کے پاس اس غرض سے آیا جائے اور نہ وہ خود اس کے لیے جائے، بلکہ وہ اس بات سے معروف ہو کہ وہ حالتِ وجد میں گنگنانے لگتا ہے۔
حدیث نمبر: 21014
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُوبَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي طَرِيقِ الْحَجِّ وَنَحْنُ نَؤُمُّ مَكَّةَ اعْتَزَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الطَّرِيقَ، ثُمَّ قَالَ لِرَبَاحِ بْنِ الْمُغْتَرِفِ: غَنِّنَا يَا أَبَا حَسَّانَ، وَكَانَ يُحْسِنُ النَّصْبَ، فَبَيْنَا رَبَاحٌ يُغَنِّيهِ أَدْرَكَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ فَقَالَ: " مَا هَذَا؟ "، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: مَا بَأْسٌ بِهَذَا، نَلْهُو وَنَقْصُرُ عَنَّا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " فَإِنْ كُنْتَ آخِذًا فَعَلَيْكَ بِشِعْرِ ضِرَارِ بْنِ الْخَطَّابِ "، وَضِرَارٌ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُحَارِبِ بْنِ فِهْرٍ. قَالَ الشَّيْخُ: " وَالنَّصْبُ ضَرْبٌ مِنْ أَغَانِي الْأَعْرَابِ، وَهُوَ يُشْبِهُ الْحُدَاءَ، قَالَهُ أَبُو عُبَيْدٍ الْهَرَوِيُّ وَرُوِّينَا فِيهِ قِصَّةً أُخْرَى، عَنْ خَوَّاتِ بْنِ خَبِيرٍ، عَنْ عُمَرَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فِي كِتَابِ الْحَجِّ، قَالَ فِيهَا خَوَّاتٌ: فَمَا زِلْتُ أُغَنِّيهِمْ حَتَّى إِذَا كَانَ السَّحَرُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کے راستے میں تھے اور مکہ کا ارادہ تھا۔ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ راستے کی ایک طرف ہو گئے اور رباح بن مغترف رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: گانا سناؤ۔ وہ اچھی آواز والے تھے، تو رباح ان کو گانا سنا رہے تھے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں ان کو پکڑ لیا اور پوچھا: یہ کیا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگر آپ نے شعر ہی یاد کرنے ہیں تو پھر ضرار بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اشعار یاد کرو اور ضرار یہ قبیلہ بنو محارب بن فہر کا آدمی تھا۔