حدیث نمبر: 21012
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَمْ يُسْقِطْ هَذَا شَهَادَتَهُ، وَكَذَلِكَ الْمَرْأَةُ.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس (بات) نے اس کی گواہی ساقط نہیں کی، اور عورت کا بھی یہی حکم ہے۔“

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِيِّ الْأَنْصَارِ تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتِ الْأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثٍ، أَوْ بُغَاثٍ، شَكَّ الْحَارِثِيُّ قَالَتْ: وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَمَزْمُورُ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَذَلِكَ يَوْمُ عِيدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَهَذَا عِيدُنَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَقَالَا: يَوْمَ بُعَاثٍ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ.
حافظ ثناء اللہ

ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اور میرے پاس دو انصاری بچیاں گا رہی تھیں۔ وہ انصار کی وہ باتیں کر رہی تھیں، جو جنگِ بعاث میں ان کو پیش آئیں اور وہ دونوں گانے والیاں نہ تھیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: رسول اللہ ﷺ کے گھر میں گانے بجانے کے آلات، اور یہ عید کا دن تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوبکر! ہر قوم کی عید ہوتی ہے، یہ ہماری عید کا دن ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 21012
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»