السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : الرجل لا ينسب نفسه إلى الغناء ولا يؤتى لذلك، ولا يأتي عليه، وإنما يعرف بأنه يطرب في الحال فيترنم فيها باب: ایسا شخص جو خود کو گانے کی طرف منسوب نہ کرے اور نہ اس کے پاس اس غرض سے آیا جائے اور نہ وہ خود اس کے لیے جائے، بلکہ وہ اس بات سے معروف ہو کہ وہ حالتِ وجد میں گنگنانے لگتا ہے۔
حدیث نمبر: 21019
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَجَاءٍ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَطَاءً عَنِ الْغِنَاءِ بِالشِّعْرِ؟ فَقَالَ: " لَا أَرَى بِهِ بَأْسًا مَا لَمْ يَكُنْ فُحْشًا ".حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے اشعار کے گانے کے متعلق سوال کیا تو وہ کہنے لگے: اگر گندے اشعار نہ ہوں تو کوئی حرج نہیں۔