السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: ما جاء فيمن حلف: ليقضين حقه إلى حين، أو إلى زمان، وما يستدل به على أنه ليس له وقت معلوم باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جس نے قسم کھائی کہ وہ اس کا حق کچھ مدت یا کچھ زمانے تک ادا کر دے گا، اور اس دلیل کا بیان کہ اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20018
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ الْمُسَيِّبِ قَالَ: " إِنِّي حَلَفْتُ أَنْ لَا أُكَلِّمَ رَجُلًا حِينًا "، قَالَ: " {تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا} [إبراهيم: ٢٥] قَالَ: " هِيَ النَّخْلَةُ يَكُونُ فِيهَا حِمْلُهَا شَهْرًا، وَشَهْرَينِ، فَنَرَى الْحِينَ: شَهْرَيْنِ ".حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن میسرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن مسیب رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ میں نے قسم کھائی ہے کہ ”ایک یا حین“ تک میں آدمی سے کلام نہ کروں گا؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا﴾ [سورة إبراهيم: 25] ”ہر سال وہ اپنے رب کے حکم سے پھل لاتا ہے۔“ فرماتے ہیں: یہ کھجور ہے کہ اس کا پھل لاتا ہے۔ فرماتے ہیں: یہ کھجور ہے کہ اس کا پھل ایک یا دو مہینے تک اٹھاتے تھے۔ ہمارے خیال میں «حِين» سے مراد دو مہینے ہیں۔