حدیث نمبر: 20018
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ الْمُسَيِّبِ قَالَ: " إِنِّي حَلَفْتُ أَنْ لَا أُكَلِّمَ رَجُلًا حِينًا "، قَالَ: " {تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا} [إبراهيم: ٢٥] قَالَ: " هِيَ النَّخْلَةُ يَكُونُ فِيهَا حِمْلُهَا شَهْرًا، وَشَهْرَينِ، فَنَرَى الْحِينَ: شَهْرَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ

ابراہیم بن میسرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن مسیب رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ میں نے قسم کھائی ہے کہ ”ایک یا حین“ تک میں آدمی سے کلام نہ کروں گا؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا﴾ [سورة إبراهيم: 25] ”ہر سال وہ اپنے رب کے حکم سے پھل لاتا ہے۔“ فرماتے ہیں: یہ کھجور ہے کہ اس کا پھل لاتا ہے۔ فرماتے ہیں: یہ کھجور ہے کہ اس کا پھل ایک یا دو مہینے تک اٹھاتے تھے۔ ہمارے خیال میں «حِين» سے مراد دو مہینے ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20018
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»