السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: ما جاء فيمن حلف: ليقضين حقه إلى حين، أو إلى زمان، وما يستدل به على أنه ليس له وقت معلوم باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جس نے قسم کھائی کہ وہ اس کا حق کچھ مدت یا کچھ زمانے تک ادا کر دے گا، اور اس دلیل کا بیان کہ اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20020
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا ابْنُ الْغَسِيلِ، أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ قَالَ: " أَرْسَلَ إِلِيَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ: " إِنِّي حَلَفْتُ أَنْ لَا أَصْنَعَ حِينًا كَذَا وَكَذَا، فَمَا الْحِينُ الَّذِي لَا يُدْرَكُ؟ "، قَالَ: " فَقَرَأَ {هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ} [الإنسان: ١]، مَا يَدْرِي كَمْ أَتَى مُنْذُ خَلَقَهُ اللهُ، وَأَمَّا الْحِينُ الَّذِي يُدْرَكُ: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى {تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ} [إبراهيم: ٢٥] مَا بَيْنَ صِرَامِ النَّخْلِ إِلَى ثَمَرِهَا ".حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مجھے روانہ کیا کہ ایک وقت تک میں یہ نہ کروں گا تو «حِينٌ» ”حین“ سے مراد کیا ہے جس کو وہ پا نہ سکیں؟ تو انہوں نے پڑھا: ﴿هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ﴾ [سورة الإنسان: 1] ”کوئی نہیں جانتا کتنی مدت گزر گئی، جب سے اللہ نے اس کو پیدا کیا ہے۔ لیکن وہ لفظ «حِينٌ» ”حین“ جو اللہ کے اس فرمان میں موجود ہے“ ﴿تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ﴾ [سورة إبراهيم: 25] اس سے مراد پھل آنے سے لے کر پھل توڑنے کی مدت کا درمیانی حصہ ہے۔