السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: ما جاء فيمن حلف: ليقضين حقه إلى حين، أو إلى زمان، وما يستدل به على أنه ليس له وقت معلوم باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جس نے قسم کھائی کہ وہ اس کا حق کچھ مدت یا کچھ زمانے تک ادا کر دے گا، اور اس دلیل کا بیان کہ اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20016
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " الْحِينُ: سِتَّةُ أَشْهُرٍ ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبداللہ بن حنین رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ وقت چھ ماہ کی مدت ہے۔