السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: ما يقرب من الحنث، لا يكون حنثا احتج بعض أصحابنا في ذلك بما باب: جو چیز قسم ٹوٹنے کے قریب ہو وہ قسم ٹوٹنا شمار نہیں ہوتی، ہمارے بعض اصحاب نے اس میں کن دلائل سے استدلال کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ بِبَغْدَادَ أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ ⦗١٠٧⦘ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَجَشِّرٍ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ صَالِحٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا أَخْرُجُ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى أُخْبِرَكَ بِآيَةٍ أَوْ سُورَةٍ لَمْ تَنْزِلْ عَلَى نَبِيٍّ بَعْدَ سُلَيْمَانَ غَيْرِي "، قَالَ: فَمَشَى، فَتَبِعْتُهُ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَأَخْرَجَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ مِنْ أُسْكُفَّةِ الْمَسْجِدِ، وَبَقِيَتِ الْأُخْرَى فِي الْمَسْجِدِ، فَقُلْتُ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِي: " نَسِيَ "، قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَيَّ بِوَجْهِهِ قَالَ: " بِأِيِّ شَيْءٍ تَفْتَتِحُ الْقُرْآنَ إِذَا افْتَتَحْتَ الصَّلَاةَ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: بِبِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالَ: " هِيَ هِيَ "، ثُمَّ خَرَجَ " إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.سیدنا ابن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسجد سے نکلنے سے پہلے میں تجھے ایسی سورت یا آیت بتاؤں گا جو سلیمان (علیہ السلام) کے بعد میرے علاوہ کسی پر نہیں اتری۔“ کہتے ہیں: آپ ﷺ چلے، میں بھی آپ کے پیچھے تھا۔ آپ ﷺ مسجد کے دروازے پر پہنچ گئے۔ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنا ایک پاؤں دہلیز سے باہر نکالا اور دوسرا مسجد میں تھا۔ میں نے عرض کیا: آپ ﷺ اور میرے درمیان یہ بات ہوتی تھی، آپ بھول گئے۔ آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”جب نماز شروع کرتے ہو تو قرآن کے کس حصہ کی تلاوت کرتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ [سورة الفاتحة: 1] سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں یہی ہے۔“ پھر آپ ﷺ نکلے۔