حدیث نمبر: 20022
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو حَفْصٍ يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ: " سُئِلَ طَاوُسٌ وَأَنَا عِنْدَهُ، عَنْ رَجُلٍ حَلَفَ: أَنْ لَا يُكَلِّمَ رَجُلًا زَمَانًا؟ قَالَ: " الزَّمَانُ شَهْرَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ، مَا لَمْ يُوَقِّتْ أَجَلًا ". اخْتِلَافُهُمْ فِي الْحِينِ وَاخْتِلَافُ مَعْنَى الْحِينِ فِي مَوَاضِعِهِ، دَلِيلٌ عَلَى أَنْ لَيْسَ لَلْحِينِ غَايَةٌ عِنْدَ الْإِطْلَاقِ، وَكَذَلِكَ الزَّمَانُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

ابوحفص یزید بن کیسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طاؤس رحمہ اللہ سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے قسم اٹھائی کہ وہ ایک آدمی سے ایک وقت تک کلام نہ کرے گا، اس وقت میں بھی موجود تھا۔ فرماتے ہیں: «زَمَان» ”زمان“ سے مراد دو یا تین ماہ ہیں، جب وقت کا تعین نہ ہو۔ ان کا «حِين» ”حین“ کے بارے میں اختلاف ہے اور «حِين» ”حین“ کے معنی میں بھی مختلف جگہوں میں اختلاف ہے، لیکن لفظِ «حِين» ”حین“ کے مطلق استعمال پر تعین نہیں ہے۔ ایسے ہی لفظِ «زَمَان» ”زمان“ بھی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20022
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»