السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: ما جاء فيمن حلف: ليقضين حقه إلى حين، أو إلى زمان، وما يستدل به على أنه ليس له وقت معلوم باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جس نے قسم کھائی کہ وہ اس کا حق کچھ مدت یا کچھ زمانے تک ادا کر دے گا، اور اس دلیل کا بیان کہ اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20021
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينٍ} [ص: ٨٨]، قَالَ: " بَعْدَ الْمَوْتِ "، {وَفِي ثَمُودَ إِذْ قِيلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوا حَتَّى حِينٍ} [الذاريات: ٤٣]، قَالَ: " ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ "، وَفِي قَوْلِهِ {تُؤْتِي أَكُلَهَا كُلَّ حِينٍ} [إبراهيم: ٢٥]، قَالَ: " كُلَّ سَبْعَةِ أَشْهُرٍ " وَذُكِرَ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَالَ: " الْحِينُ سَنَةٌ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِیْنٍ﴾ [سورة ص: 88] ”تم ضرور ایک وقت کے بعد اس کی خبر جان لو گے“ کے متعلق فرماتے ہیں: یعنی موت کے بعد۔ ﴿وَفِی ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ﴾ [سورة الذاريات: 43] ”اور قوم ثمود کے بارے میں جب ان سے کہا گیا کہ تم ایک وقت تک فائدہ اٹھاؤ“ یعنی تین دن تک۔ ﴿تُؤْتِیْٓ اُکُلَهَا کُلَّ حِیْنٍ﴾ [سورة إبراهيم: 25] فرماتے ہیں: ہر ساتویں مہینے۔ ربیعہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے منقول ہے، فرماتے ہیں: حین سے مراد ایک سال ہے۔