السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: ما جاء فيمن حلف: ليقضين حقه إلى حين، أو إلى زمان، وما يستدل به على أنه ليس له وقت معلوم باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جس نے قسم کھائی کہ وہ اس کا حق کچھ مدت یا کچھ زمانے تک ادا کر دے گا، اور اس دلیل کا بیان کہ اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20017
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " الْحِينُ: قَدْ يَكُونُ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً ".حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وقت کبھی صبح یا شام کا ہوتا ہے۔